ایک بادشاہ تھا جس کا بچپن کا ایک دوست تھا۔ وہ دوست ہمیشہ یہ کہتا تھا: “جو ہوتا ہے، اچھے کے لیے ہوتا ہے۔” بادشاہ کو یہ بات کبھی اچھی نہ لگتی، لیکن دوست اپنی بات پر ڈٹا رہتا۔
ایک دن دونوں شکار کو گئے۔ دوست نے بادشاہ کے لیے بندوق میں گولی بھری۔ لیکن غلطی سے بندوق میں کوئی خرابی ہو گئی۔ جب بادشاہ نے گولی چلائی تو اس کا انگوٹھا اُڑ گیا۔
بادشاہ درد سے چِلایا۔ دوست نے فوراً کہا: “جو ہوتا ہے، اچھے کے لیے ہوتا ہے۔”
یہ سن کر بادشاہ کو شدید غصہ آیا۔ اس نے حکم دے دیا کہ اس دوست کو قید خانے میں ڈال دیا جائے۔
ایک سال گزر گیا۔ بادشاہ پھر شکار کو نکلا۔ اس بار وہ بہت دور نکل گیا اور ایک ایسے جنگل میں جا پہنچا جہاں آدم خور جنگلی قبیلہ رہتا تھا۔ انہوں نے بادشاہ کو پکڑ لیا اور اسے اپنے دیوتا کے سامنے قربان کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے آگ جلائی اور بادشاہ کو باندھ دیا۔ لیکن جب انہوں نے غور سے دیکھا تو دیکھا کہ بادشاہ کا انگوٹھا کٹا ہوا ہے۔ یہ قبیلہ اپنے دیوتا کے سامنے کسی نامکمل (نقص والے) انسان کو قربان نہیں کرتا تھا۔ انہوں نے بادشاہ کو فوراً رہا کر دیا۔
بادشاہ بچ کر محل واپس آیا۔ اسے فوراً اپنے دوست کی یاد آئی۔ اس نے حکم دیا کہ دوست کو قید سے رہا کیا جائے۔
دوست جب آیا تو بادشاہ نے اس سے کہا: “تم صحیح تھے۔ جو ہوا، وہ اچھے کے لیے ہوا۔ اگر میرا انگوٹھا نہ کٹا ہوتا تو آج وہ جنگلی مجھے قربان کر دیتے۔ لیکن مجھے اپنے غصے پر بہت پچھتاوا ہے کہ میں نے تمہیں قید کر دیا۔”
دوست نے مسکراتے ہوئے کہا: “اے بادشاہ! جو ہوا، وہ بالکل اچھے کے لیے ہوا۔ اگر آپ نے مجھے قید نہ کیا ہوتا تو میں آپ کے ساتھ ہوتا۔ اور چونکہ میرے دونوں انگوٹھے سلامت ہیں، اس لیے وہ جنگلی مجھے قربان کر دیتے۔ میری جان بھی آپ کی وجہ سے بچ گئی۔”
یہ سن کر بادشاہ حیران رہ گیا اور اس نے اپنے دوست کو گلے لگا لیا۔
اخلاقی سبق: انسان فطرتاً جلد باز ہے اور فوری نتیجہ دیکھنا چاہتا ہے، لیکن قدرت کے فیصلے وقت کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔ جو ہوتا ہے، اچھے کے لیے ہوتا ہے — بس صبر اور یقین رکھنا چاہیے۔
