دو دوست ایک بینک میں ملازم تھے۔ انہیں عیدِ قربان کے لیے بکرا خریدنا تھا۔ وہ بینک سے سیدھے پینٹ کوٹ پہنے اور ٹائی لگائے مویشیوں کی منڈی پہنچ گئے۔
گاڑی پارک کرنے کے بعد انہوں نے منڈی کا جائزہ لیا کہ آخر شروعات کہاں سے کی جائے۔ سڑک کے دونوں اطراف تقریباً ایک کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر جانور ہی جانور نظر آ رہے تھے۔ جہاں گاڑی کھڑی کی تھی، وہیں سے بھاؤ تاؤ شروع کر دیا۔ جو بکرا آنکھوں کو ذرا بھاتا، اس کی قیمت پچاس ہزار کی حد باآسانی عبور کر رہی ہوتی تھی۔
چونکہ دن کی چائے پر دونوں نے اپنا بجٹ پچاس ہزار روپے مقرر کیا تھا، اس لیے انہوں نے ایسے بکروں پر نظر ڈالنی شروع کی جو قدرے کم خوبصورت اور جسامت میں دبلے پتلے ہوں۔ مگر انتہائی کوشش اور تلاش کے باوجود کوئی بھی بکرا ستر ہزار سے کم کا نہ ملا۔
ابھی منڈی کی بائیں طرف والی قطار آدھی ہی دیکھی تھی۔ چونکہ بینک سے آدھے دن کی چھٹی بھی لے چکے تھے، اس لیے اس کام کو آج ہی نمٹانا فرض ہو گیا تھا۔ بھوک اور تھکان مٹانے کے لیے ایک ریڑھی سے بھنے ہوئے مکئی کے سٹے (چھلی) لیے اور کھاتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ اب وہ ہر قدم پر ایک نئے بکرے کا دام پوچھ رہے تھے۔
اچانک ایک بکرے کا دام پوچھا تو مالک نے پینتیس ہزار بتایا۔ وہ چونک کر رکے اور بکرے کا بغور معائنہ کیا۔ بکرا بالکل ٹھیک تھا اور دام بھی بجٹ کے مطابق تھے۔ روایتی عادت کے تحت پھر بھی پوچھا، “مزید کچھ کمی ہو سکتی ہے؟” مالک نے صاف انکار کر دیا۔ کچھ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد بالآخر وہ اسی قیمت پر بکرا لینے کے لیے راضی ہو گئے۔
لیکن تبھی بکرے کے مالک نے کہا کہ وہ انہیں بکرا نہیں بیچے گا۔ حیرانی سے وجہ پوچھی تو اس نے کہا، “میں گاؤں سے آیا ہوں اور مجھے ایک گدھا خریدنا ہے۔ دراصل، میں گدھا لینے کے لیے ہی یہ بکرا بیچ رہا ہوں۔ یہاں منڈی میں ایک شخص گدھا بیچ رہا ہے لیکن وہ بکرے کے بدلے مجھے گدھا نہیں دے رہا۔ اگر تم مجھے اس سے وہ گدھا خرید دو، تو یہ بکرا تم لے لینا۔”
دونوں نے کچھ سوچا اور پھر گدھے والے کا ٹھکانہ پوچھا۔ اس کے پاس گئے تو پتا چلا کہ وہ گدھا تیس ہزار میں بیچ رہا ہے۔ انہیں سودا بہت نفع بخش لگا؛ حساب لگایا کہ تیس ہزار کا گدھا خریدیں گے تو قربانی کے لیے ہٹا کٹا بکرا باآسانی مل جائے گا اور پانچ ہزار کی بچت بھی ہو گی۔
انہوں نے فوراً تیس ہزار روپے گدھے والے کو دیے، گدھے کی رسی تھامی اور خوشی خوشی بکرے والے کی طرف چل دیے۔ لیکن تھوڑا آگے جا کر ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ مقررہ جگہ پر اب وہ بکرے والا موجود نہیں تھا۔ گھبرا کر پیچھے مڑے تو گدھے والا بھی غائب ہو چکا تھا۔
دونوں سوٹڈ بوٹڈ بینک ملازمین بیچ منڈی میں گدھا تھامے کھڑے تھے اور لوگ انہیں حیرت سے گھور رہے تھے۔ وہ شرم سے پانی پانی ہو رہے تھے لیکن اب کیا ہو سکتا تھا؟ گدھا نہ تو گھر لے جایا جا سکتا تھا اور نہ ہی اس کا کوئی خریدار تھا۔ مجبوراً گدھے کو وہیں چھوڑنا پڑا اور پورے تیس ہزار کا چونا لگوا کر چپ چاپ گھر لوٹ آئے۔
دھوکے کے بہت سے نئے طریقے مارکیٹ میں آ چکے ہیں، لہٰذا ہمیشہ محتاط رہیں اور آنکھیں کھلی رکھنے کے ساتھ ساتھ دماغ بھی حاضر رکھیں۔ شکریہ!
مجھے امید ہے کہ اس عید پر آپ لوگوں کے ہاتھ میں گدھا نہیں ہوگا، لیکن پھر بھی خبردار کرنا فرض ہے۔ یاد رکھیں: اگر منڈی میں بکرے کی قیمت پچاس یا ستر ہزار چل رہی ہے، تو جو بکرا تیس ہزار میں مل رہا ہے… وہ بکرا نہیں، کچھ اور ہی ہوگا! 😅
#منقول
