ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں بندروں کی حکومت قائم ہو گئی۔ بندروں کا سردار نہایت خوش اخلاق اور زبردست مقرر تھا۔ اس نے تمام جانوروں سے وعدہ کیا کہ وہ جنگل کو “پیرس” جیسا خوبصورت بنا دے گا اور ہر طرف پھلوں کے باغات لگا دے گا۔
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ بندر سردار محنت کے بجائے آسان راستہ اختیار کرنے کا عادی تھا۔ اس نے خود پھل اگانے کے بجائے ایک دوسرے طاقتور جنگل کے گدھوں سے دوستی کر لی۔
گدھوں نے اسے پیشکش کی:
“تمہیں محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ ہم تمہیں تیار پھل دیتے رہیں گے، بس بدلے میں اس جنگل کی لکڑی اور زمین ہمارے نام کر دو اور ہم سے قرض لے لو۔”
بندر نے یہ سوچے بغیر کہ قرض واپس کیسے ہوگا، بہت زیادہ قرض لے لیا۔ اس میں سے کچھ رقم جنگل کی سجاوٹ اور دکھاوے کے منصوبوں پر لگا دی گئی، جبکہ باقی رقم اس نے اپنے ساتھی بندروں میں بانٹ دی، جنہوں نے وہ سرمایہ سمندر پار دوسرے جزیروں میں منتقل کر دیا۔
چند سال گزرے تو قرض بڑھتا چلا گیا اور سود اتنا زیادہ ہو گیا کہ جنگل کے پاس واپس کرنے کے لیے کچھ باقی نہ رہا۔ تب گدھوں نے اپنی شرائط منوانا شروع کر دیں:
1️⃣ “اب جنگل کے دریا کا پانی صرف ہم استعمال کریں گے۔”
2️⃣ “ہر جانور کو اپنے کھانے کا آدھا حصہ ٹیکس کے طور پر دینا ہوگا۔”
جانور بھوک سے پریشان ہونے لگے۔ ایسے میں بندر سردار نے ایک اور چال چلی۔ اس نے طوطوں کی ایک فوج بھرتی کر لی (جو میڈیا اور سوشل میڈیا کے نمائندے تھے)۔
طوطوں کا کام تھا سارا دن یہ کہنا:
“ہمارا سردار بہت ایماندار ہے، یہ سب پچھلے ہاتھیوں کی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ اگر آج مہنگائی ہے تو اس کی وجہ عالمی حالات ہیں!”
جب بھی کوئی جانور حقیقت جاننے کی کوشش کرتا، طوطے اسے فوراً “غدار” قرار دے دیتے۔
آخرکار حالت یہ ہو گئی کہ بندر اور اس کے ساتھی تو موٹے تازے ہو کر دوسرے جزیروں میں جا بسے، مگر بیچارے عام جانور آج بھی گدھوں کا قرض چکانے کے لیے دن رات مشقت کر رہے ہیں۔
📌 اس کہانی سے آپ نے کیا سبق حاصل کیا؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔
