بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

زمانۂ قدیم میں جب کہ زمین پر انسانوں کی آبادیاں وجود میں آ رہی تھیں اور معاشرے اپنی بنیادی اقدار کی تلاش میں تھے، دو ایسی ہستیاں پیدا ہوئیں جو ایک دوسرے کے مدِمقابل تھیں۔ ایک کا نام سچ تھا اور دوسرے کا جھوٹ ۔ یہ دونوں بھائی تھے، لیکن ان کی راہیں بالکل جدا تھیں۔ سچ ہمیشہ سیدھی راہ پر چلتا تھا، اس کی گفتگو میں شیرینی تھی اور اس کے چہرے پر نور تھا۔ جھوٹ ہمیشہ گول مول باتیں کرتا، اس کی آنکھوں میں چالاکی تھی اور اس کے دل میں ہمیشہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی خواہش ہوتی تھی۔

ایک مرتبہ جھوٹ نے اپنے بھائی سچ کو ایک جال میں پھنسانے کا منصوبہ بنایا۔ اس نے ایک بہت بڑا اور قیمتی خنجر اپنے بھائی سچ کے پاس امانتاً چھوڑ دیا۔ سچ نے اپنے بھائی کے بھروسے کا احترام کرتے ہوئے خنجر کو ایک محفوظ جگہ رکھ دیا۔ لیکن جھوٹ نے موقع دیکھ کر رات کے اندھیرے میں چپکے سے وہ خنجر چرا لیا۔

اگلے دن جھوٹ اپنے بھائی سچ کے پاس آیا اور اس سے اپنا خنجر طلب کیا۔ سچ نے اپنی الماری کھولی تو دیکھا کہ خنجر وہاں موجود نہیں ہے۔ وہ بہت پریشان ہوا اور اس نے اپنے بھائی سے معافی مانگی، “بھائی! مجھے نہیں معلوم خنجر کہاں گیا، میں نے اسے اسی جگہ رکھا تھا۔” لیکن جھوٹ نے اس کا عذر قبول نہیں کیا اور وہ سیدھا دیوتاؤں کے پاس شکایت کرنے چلا گیا۔

دیوتاؤں کے دربار میں جھوٹ نے بڑے زور شور سے دعویٰ کیا کہ اس کا خنجر بہت بڑا ہے، پہاڑ کی اونچائی تک اور اس کی مٹھی ایک درخت کی بلندی تک ہے۔ یہ سن کر دیوتاؤں نے سچ کو بلایا اور اس سے جواب طلب کیا۔ سچ نے سچائی پیش کی، لیکن جھوٹ نے اپنے جھوٹے دعووں پر اصرار کیا۔

دیوتاؤں نے ایک عجیب سا فیصلہ سنایا۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ خنجر کے بدلے میں سچ سے کوئی اور چیز لے سکتا ہے۔ جھوٹ نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا، “میں چاہتا ہوں کہ میرے بھائی سچ کو اندھا کر دیا جائے اور وہ میرے گھر کا اندھا دربان بن کر رہے۔”

دیوتاؤں نے یہ سخت سزا منظور کر لی۔ سچ کی آنکھیں نکال لی گئیں اور وہ اپنے بھائی جھوٹ کے گھر کا اندھا دربان بن گیا۔ ایک مقررہ مدت تک سچ اپنے بھائی (جھوٹ) کے دروازے پر پہرے دار کے طور پر کھڑا رہا۔ اس کی حالت دیکھ کر تمام دیوتا اور انسان افسوس کرتے تھے، لیکن سچ نے اس میں صبر و تحمل اور استقامت دکھائی۔

لیکن جھوٹ کو سچ کی یہ صبر آزما عادت بھی ناگوار گزری۔ وہ اس کی خوبی سے حسد کرنے لگا تھا۔ اس نے اپنے دل میں فیصلہ کیا کہ اب وہ سچ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ اس نے اپنے دو غلاموں کو حکم دیا کہ وہ سچ کو لے جائیں اور ایک بھوکے شیر کے پاس پھینک دیں تاکہ شیر اسے کھا جائے۔

لیکن غلام سچ سے بہت محبت کرتے تھے۔ انہوں نے جھوٹ کے حکم پر عمل کرنے کی بجائے سچ کو جنگل میں چھوڑ دیا اور واپس آ کر جھوٹ کو جھوٹ بولا کہ انہوں نے شیر کے پاس پھینک دیا ہے۔ سچ جنگل میں بھٹکتا رہا۔ وہ تنہا، اندھا اور بے سہارا تھا، لیکن اس کے دل میں امید کی کرن باقی تھی۔

ایک دن جب سچ جنگل کے ایک چشمے کے پاس بیٹھا ہوا تھا، وہاں سے ایک بہت بڑا پرندہ گزرا جس کے پر سونے کی طرح چمک رہے تھے۔ اس نے سچ کی حالت دیکھی تو اس پر رحم آیا۔ پرندے نے اپنے پر سے ایک خاص چمکدار پر نکالا اور سچ کی آنکھوں پر رکھ دیا۔ فوراً ہی سچ کی آنکھوں میں روشنی لوٹ آئی ۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ بینا ہو گیا تھا۔

سچ نے پرندے کا شکریہ ادا کیا اور واپس شہر لوٹ آیا۔ اس نے دیکھا کہ اس کا بھائی جھوٹ اپنے جھوٹ کے باعث خود تباہ ہو چکا تھا۔ اس کے گھر کے تمام لوگوں نے اسے چھوڑ دیا تھا اور وہ تنہا رہ گیا تھا۔ سچ نے اپنے بھائی پر رحم کھایا اور اسے پناہ دی۔

لیکن سچ نے اپنے بھائی سے کہا، “بھائی! تم نے دیکھا کہ جھوٹ کی راہ کتنی خطرناک ہوتی ہے۔ سچ ہمیشہ غالب رہتا ہے، چاہے اسے کتنی ہی مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔”

اس دن کے بعد جھوٹ نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اس نے اپنے بھائی سے معافی مانگی اور سچ کی راہ پر چل پڑا۔

اخلاقی سبق:

جھوٹ کی راہ میں انسان کو کچھ دیر کے لیے فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن آخر کار سچائی ہی غالب رہتی ہے۔ سچ بولنے والا کبھی بھی حقیقی شکست نہیں کھاتا، کیونکہ وقت کے ساتھ سچائی کی روشنی ہر تاریکی کو مٹا دیتی ہے۔

حوالہ: یہ کہانی عربی لوک ادب کی مشہور کہانی ہے جسے ARY News Urdu نے شائع کیا ہے ۔

Leave a Reply

NZ's Corner