میٹھی باتیں ہمیشہ سچائی کی دلیل نہیں ہوتیں

میٹھی باتیں ہمیشہ سچائی کی دلیل نہیں ہوتیں

ایک زمانے کی بات ہے، ایک چالاک لومڑی جنگل میں خوراک کی تلاش میں اِدھر اُدھر پھر رہی تھی کہ اچانک اس کا پاؤں پھسلا اور وہ ایک گہرے کنویں میں جا گری۔ کنواں پانی سے بھرا ہوا تھا۔ لومڑی نے بڑی کوشش کی، دیواروں پر پنجے مارے، چھلانگیں لگائیں، مگر کنویں کی پھسلن بھری دیواریں اُس کی ہر تدبیر کا مذاق اُڑاتی رہیں۔
وہ مایوس ہو کر ایک کونے میں بیٹھی ہی تھی کہ کچھ دیر بعد ایک بکری وہاں آنکلی۔ گرمی کی شدت سے اُس کا گلا سوکھ رہا تھا۔ اُس نے کنویں میں جھانکا تو لومڑی کو پانی میں کھڑا دیکھا۔
بکری نے حیرت سے پوچھا: “ارے بہن لومڑی! یہ پانی کیسا ہے؟”
لومڑی کی آنکھوں میں مکاری کی چمک دوڑ گئی۔ اُس نے نہایت میٹھے لہجے میں جواب دیا: “اے بکری! میں نے اپنی زندگی میں ایسا شیریں اور ٹھنڈا پانی کبھی نہیں پیا۔ یہ تو گویا جنت کی نہر کا پانی ہے۔ آؤ، تم بھی اپنی پیاس بجھاؤ اور لطف اُٹھاؤ!”
بکری سادہ دل تھی۔ اُس نے نہ گہرائی کا اندازہ لگایا، نہ انجام کا سوچا۔ جنت کے پانی کا نام سنتے ہی خوشی سے اچھلی اور سیدھی کنویں میں کود پڑی۔
اب لومڑی کی بانچھیں کھل گئیں۔
وہ فوراً بکری کی پیٹھ پر چڑھی، پھر اُس کے مضبوط سینگوں کا سہارا لیا اور ایک بلند چھلانگ لگا کر کنویں سے باہر نکل آئی۔ باہر آ کر اُس نے گرد جھاڑی، دم سنواری اور فاتحانہ انداز میں مسکرائی۔
کنویں میں پھنسی بکری نے بے بسی سے آواز دی: “لومڑی بہن! پہلے تو مجھے یہاں آنے کا مشورہ دیا، اب مجھے اکیلا چھوڑ کر جا رہی ہو؟ میری مدد بھی کرو!”
لومڑی نے گردن اکڑا کر جواب دیا: “اے بکری! اگر تمہارے پاس داڑھی کے ساتھ تھوڑی سی عقل بھی ہوتی تو تم اندر آنے سے پہلے یہ ضرور سوچتیں کہ باہر کیسے نکلو گی۔ عقل مند لوگ ہر قدم اُٹھانے سے پہلے اُس کے انجام پر غور کرتے ہیں۔”
یہ کہہ کر لومڑی جنگل کی طرف چل دی اور بکری اپنی سادگی پر افسوس کرتی رہ گئی۔
سبق: میٹھی باتیں ہمیشہ سچائی کی دلیل نہیں ہوتیں۔ جو شخص کسی مشکل میں خود پھنسا ہو، اُس کے مشورے پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے سے پہلے خوب سوچ لینا چاہیے۔ اور یاد رکھو، عقل مند وہی ہے جو کسی راستے پر چلنے سے پہلے واپسی کا راستہ بھی دیکھ لے۔

Leave a Reply

NZ's Corner