بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک سرسبز جنگل میں چار عجیب مگر سچے دوست رہتے تھے: ایک کوا، ایک چوہا، ایک ہرن اور ایک کچھوا۔اگرچہ ان کی شکلیں اور عادتیں مختلف تھیں، مگر ان کے دل ایک دوسرے کے لیے محبت اور اعتماد سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ اکثر دریا کے کنارے ایک درخت کے نیچے جمع ہوتے، باتیں کرتے اور ایک دوسرے کی مدد کرتے۔ ان کی دوستی پورے جنگل میں مثال بن چکی تھی۔ ایک دن صبح کے وقت ہرن گھاس کی تلاش میں جنگل کے ایک دوسرے حصے میں چلا گیا۔ بدقسمتی سے وہاں ایک شکاری نے جال بچھا رکھا تھا۔ ہرن تیزی سے دوڑتے ہوئے اس جال میں پھنس گیا۔ وہ جتنا زیادہ چھٹکارا پانے کی کوشش کرتا، جال اتنا ہی زیادہ مضبوط ہوتا جاتا۔ آخرکار وہ تھک کر زمین پر گر گیا۔ ادھر درخت کے نیچے باقی تین دوست اس کا انتظار کر رہے تھے۔ کچھ دیر بعد کوا کو…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdupoetry urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بادشاہ نے اپنے بہنوئی کی سفارش پر ایک شخص کو محکمہ موسمیات کا وزیر لگا دیا۔ ایک روز بادشاہ شکار پر جانے لگا تو روانگی سے قبل اپنے وزیرِ موسمیات سے موسم کا حال پوچھا۔ وزیر نے کہا :– موسم بہت اچھا ہے اور اگلے کئی روز تک اسی طرح رہے گا۔ بارش وغیرہ کا قطعاً کوئی امکان نہیں۔ بادشاہ مطمئن ہوکر اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ شکار پر روانہ ہو گیا۔ راستے میں بادشاہ کو ایک کمہار ملا۔اس نے کہا حضور ~ آپ کا اقبال بلند ہو‘ آپ اس موسم میں کہاں جا رہے ہیں؟بادشاہ نے کہا:– شکار پر۔کمہار کہنے لگا‘:– حضور! موسم کچھ ہی دیر بعد خراب ہوجانے اور بارش کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ بادشاہ نے کہا‘ :– ابے او برتن بنا کر گدھے پر لادنے والے ‘ تو کیا جانے موسم کا حال ؟ میرے وزیر نے بتایا ہے کہ موسم نہایت خوشگوار ہے اور…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdupoetry urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بادشاہ کہیں جا رہا تھا۔ راستے میں اس کی نظر ایک کمہار پر پڑی جو اپنے ساتھ بہت سے گدھے لے کر جا رہا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ تمام گدھے ایک ہی قطار میں سیدھے چل رہے تھے۔ بادشاہ نے کمہار سے پوچھا:“تم ان گدھوں کو اس طرح سیدھی لائن میں کیسے رکھتے ہو؟” کمہار نے جواب دیا:“عالی پناہ! جو گدھا لائن توڑتا ہے، میں اسے سزا دیتا ہوں۔ اسی خوف کی وجہ سے باقی سب گدھے قطار میں چلتے رہتے ہیں۔” بادشاہ نے مزید پوچھا:“تم انہیں کس قسم کی سزا دیتے ہو؟” کمہار نے کہا:“گدھوں کی عادت ہوتی ہے کہ سیدھا چلنے کے لیے ان کی پیٹھ پر ایک خاص وزن ہونا چاہیے۔ اگر وزن کم ہو تو وہ اپنی راہ سے ہٹ جاتے ہیں۔لیکن بعض شریر گدھے مناسب وزن کے باوجود بھی لائن چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے گدھے کا وزن بطور سزا مزید بڑھا…
#UrduQuotes #MoralStory urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory urdu blog
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک گورو اپنے چیلے کے ساتھ ایک ایسے شہر میں پہنچے جسے لوگ بیداد نگری کہتے تھے۔ وہاں ہر چیزِ خوردنی کا بھاؤ ٹکے سیر تھا۔ گورو نے فوراً چیلے سے کہا: “یہاں سے نکل چلو، اس شہر میں نہ قدر و قیمت کا فرق ہے نہ مرتبے کا لحاظ۔”مگر چیلا خوش تھا کہ جہاں سب کچھ اتنا سستا ہو، وہاں زندگی بڑے مزے سے گزرے گی۔ گورو نے سمجھایا: “ہم نے تمہیں خبردار کر دیا، اب تمہاری مرضی۔”چیلے کو ٹکے سیر حلوہ پوری ملنے لگی، چند ہی دنوں میں وہ کھا کھا کر موٹا تازہ اور ہشاش بشاش ہو گیا۔ قدرت کا کرنا یہ ہوا کہ ایک دن ایک چور زیور چرانے کے الزام میں دربار میں پیش ہوا۔ اس نے بڑی دیدہ دلیری سے کہا: “حضور! میں بے قصور ہوں، اگر صاحبِ زیور اتنی قیمتی چیز گھر میں نہ رکھتا تو میں کیسے چراتا؟”نتیجہ یہ نکلا کہ چور…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdupoetry urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
سلطان محمد تغلق(متوفی ۷۵۲ھ) ہندوستان کا مشہور بادشاہ ہے جو ہندوستان کی تاریخ میں اپنی سطوت اور خوں ریزی میں بہت مشہور ہے، ایک مرتبہ وہ صوفی بزرگ حضرت شیخ قطب الدین منورؒ کی رہائش گاہ کے قریب سے گزرا، حضرت قطب صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنی جگہ بیٹھے رہے اور اس کے استقبال کے لئے باہر نہیں نکلے، سلطان کو یہ بات بہت ناگوار گذری اور اس نے باز پرس کے لیے حضرت قطب صاحبؒ کو اپنے دربار میں طلب کرلیا۔ حضرت دربار میں داخل ہوئے تو ملک کے تمام بڑے بڑے امراء، وزراء اور فوجی افسر بادشاہ کے سامنے مسلح ہوکر دو رویہ کھڑے تھے۔ دربار کے رعب داب کا عالم یہ تھا کہ لوگوں کے کلیجے پگھلے جارہے تھے۔ حضرت قطب صاحبؒ کے ساتھ ان کے نوعمر صاحبزادے نورالدینؒ بھی تھے، انھوں نے اس سے قبل کبھی بادشاہ کا دربار نہیں دیکھا تھا۔ ان پر یہ پُر…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک وسیع و عریض جنگل میں، جہاں جانور اپنے معاملات طے کرنے کے لیے “عظیم باؤباب” کے درخت کے نیچے جمع ہوتے تھے، وہاں ایک بوڑھا الو رہتا تھا۔ اسے تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ دانا سمجھا جاتا تھا۔ جانور اسے “بزرگ الو” کہتے تھے، کیونکہ وہ اندھیرے میں دور تک دیکھ سکتا تھا اور وہ باتیں سمجھ لیتا تھا جو دوسرے نہیں سمجھ پاتے تھے۔ جب بھی کوئی تنازع پیدا ہوتا یا کوئی مشکل سوال سب کو پریشان کرتا، جانور اس کی اونچی شاخ کی طرف دیکھتے، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ الو کی پرسکون آنکھوں کے پیچھے سچائی چھپی ہوتی ہے۔ ایک موسم، شیر بادشاہ نے جنگل کے خوراک اور پانی کے مشترکہ ذخیرے کے انتظام کے لیے ایک کونسل مقرر کی۔ ہرنوں نے اناج دیا، شہد کی مکھیوں نے شہد جمع کیا اور ہاتھیوں نے اپنی سونڈوں میں بھر کر پانی پہنچایا۔ سب جانوروں کو یقین…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdupoetry urdustory
بلاعنوان۔۔۔😁!
بشیر صاحب کے گھر میں اس وقت صف ماتم بچھ گئی جب پپو میاں نے اعلان کیا کہ وہ اب دنیا داری چھوڑ کر روحانیت کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔ وجہ کوئی خاص نہیں تھی، بس پپو میاں لگاتار تین نوکریوں کے انٹرویو میں فیل ہوئے تھے اور ان کا خیال تھا کہ دنیا انہیں سمجھنے کے لائق نہیں ہے۔پپو میاں نے راتوں رات اپنے بال بڑھائے، گلے میں چار پانچ رنگ برنگے موتیوں والے دھاگے ڈالے اور ابا کی ایک پرانی ریشمی چادر اوڑھ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنا نام بدل کر پیر پپو شاہ سرکار رکھ لیا۔محلے میں خبر پھیل گئی کہ بشیر صاحب کا بیٹا پہنچا ہوا بزرگ بن گیا ہے۔ سب سے پہلے محلے کی ماسی برکتے آئی، جس کا بیٹا پڑھائی میں کمزور تھا۔ پپو میاں نے آنکھیں بند کر کے ایک گہری سانس لی اور بولے:مائی! تیرے بیٹے پر کالے کواڈراٹک فارمولے…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک دن ملا نصر الدین اپنے گھر کے باہر دھوپ سینک رہے تھے کہ ان کا ایک پڑوسی ہانپتا کانپتا آیا اور کہنے لگا:“ملا صاحب! بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ آج کے لیے اپنا گدھا مجھے ادھار دے دیں، مجھے شہر سے کچھ ضروری سامان لانا ہے۔”ملا نصر الدین کا اس دن گدھا دینے کا بالکل موڈ نہیں تھا، اس لیے انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا:“بھائی، میں تو خوشی سے دے دیتا لیکن میرا گدھا تو یہاں ہے ہی نہیں، میرا بیٹا اسے لے کر دوسرے گاؤں گیا ہوا ہے۔”پول کھل گیاابھی ملا کی بات مکمل ہی ہوئی تھی کہ گھر کے پچھواڑے سے گدھے کے زور زور سے ہینگنے (ریں ریں) کی آواز آنے لگی۔ پڑوسی حیرت سے ملا کی طرف دیکھنے لگا اور بولا:“ملا صاحب! آپ تو کہہ رہے تھے کہ گدھا گھر پر نہیں ہے، لیکن یہ آواز تو صاف بتا رہی ہے کہ گدھا اندر…
بلاعنوان۔۔۔😊!
جب آپ کو کنویں کی تہہ میں “پنیر کا ٹکڑا” نظر آئے تو فوراً خوشی نہ منائیں۔ آپ کو اس ‘سودے’ پر نہیں، بلکہ اس پلّی (چرخی) کے جال پر نظر رکھنی چاہیے جو کسی کے اس “خالی جگہ” کو بھرنے کا انتظار کر رہا ہے۔ 🧀ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک لومڑی پھسل کر گہرے کنویں میں گر گئی۔ خوش قسمتی سے اس کنویں میں دو بالٹیوں والا پلّی کا نظام تھا: جب ایک بالٹی نیچے جاتی تو دوسری اوپر آتی۔لومڑی اس بالٹی میں بیٹھ گئی جو اوپر کے قریب تھی۔ اس کے وزن نے بالٹی کو سیدھا نیچے تہہ میں پہنچا دیا۔ جب وہ گھبراہٹ میں وہاں سے نکلنے کا راستہ سوچ رہی تھی، تو وہاں سے ایک بھیڑیے کا گزر ہوا۔ بھیڑیے نے کنویں کے کنارے سے جھانکا اور پوچھا:“اے لومڑی! تم وہاں نیچے کیا کر رہی ہو؟”لومڑی نے تیزی سے سوچا اور کہا:“اوہ میرے دوست!…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
شیر، جو کبھی جنگل کا بادشاہ تھا، اب بوڑھا ہو چکا تھا اور اس میں اتنی ہمت نہیں رہی تھی کہ وہ تیز رفتار شکار کا پیچھا کر سکے۔ اس لیے اس نے ایک ترکیب سوچی: وہ اپنی غار کے اندر لیٹ گیا اور یہ خبر پھیلا دی کہ اس کی طبیعت ناساز ہے۔جنگل کے جانوروں نے یہ افواہ سنی۔ اس کی پرانی ہیبت اور رعب کی وجہ سے وہ ایک ایک کر کے اس کی عیادت (خیریت دریافت کرنے) کے لیے آنے لگے۔ لیکن ایک بات عجیب تھی:جو بھی جانور غار کے اندر جاتا… وہ کبھی باہر آتا ہوا دکھائی نہ دیتا۔پھر لومڑی کی باری آئی۔ لومڑی بھی آئی، لیکن وہ غار سے باہر ہی رک گئی اور وہیں سے شیر کی خیریت دریافت کی۔اندر سے شیر ایک کمزور آواز میں بولا:“اوہ، تو یہ تم ہو لومڑی؟ تم اتنی دور کیوں کھڑی ہو؟ اندر آؤ—قریب آؤ—تاکہ میں تمہارا چہرہ…
اور نیل بہتا رہا۔۔۔🙂!
ہزاروں سال پہلے مصر کے لوگ کہتے تھے کہ اگر دریائے نیل کو راضی نہ رکھا جائے تو وہ نہیں بہے گا، اور اسے راضی رکھنے کے لیے ہر سال ایک لڑکی کو دریا میں ڈال دیا جاتا تھا۔ یعنی ہر سال ایک غیر فطری قربانی، پھر ایک دن ایک خط پانی میں ڈالا گیا، اور روایت ہے کہ سب کچھ بدل گیا۔ساتویں صدی میں جب مصر اسلامی خلافت کے زیرِ اثر آیا اور حضرت عمرو بن العاصؓ وہاں کے گورنر مقرر ہوئے، تو مقامی لوگوں نے بتایا کہ نیل کے سالانہ بہاؤ کے لیے یہ رسم ضروری ہے ورنہ تباہی ہو گی، یہ بات مدینہ بھیجی گئی۔ جواب میں خلیفہ حضرت عمر بن خطابؓ نے ایک تحریر بھیجی جس میں دریا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا گیا کہ اگر تو اپنے اختیار سے بہتا ہے تو نہ بہہ، اور اگر اللہ کے حکم سے بہتا ہے تو پھر اسی…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
*خوفِ خدا — نجات کا راستہ*
امام شافعیؒ کے زمانے میں ایک خلیفہ نے اپنی بیوی کو ایک عجیب انداز میں طلاق دے دی، اور یہ واقعہ بعد میں فقہ کا ایک بڑا مسئلہ بن گیا۔ ایک دن بادشاہ اپنی ملکہ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ہنسی مذاق کے دوران اس نے ملکہ سے پوچھ لیا: “تمہیں میری شکل کیسی لگتی ہے؟”ملکہ، جو اس کی نہایت عزیز بیگم تھی، مزاح میں بولی: “مجھے آپ شکل سے جہنمی لگتے ہیں۔” یہ جملہ سن کر بادشاہ کو غصہ آ گیا اور وہ بولا: “اگر میں جہنمی ہوں تو میں تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں!”یہ سنتے ہی ملکہ رونے لگی، اور کچھ دیر بعد بادشاہ کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اگلے دن بادشاہ نے ملک بھر کے علماء، مفتیانِ کرام اور امام حضرات کو دربار میں جمع کیا اور پوچھا: “کیا اس طرح میری طلاق واقع ہو چکی ہے؟”تمام علماء نے یکے بعد دیگرے یہی جواب دیا…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
تبدیلی۔۔۔🙂!
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک غریب اور ناخوش آدمی ایک خستہ حال جھونپڑی میں رہتا تھا۔ اس کی گھر کی حالت بھی اس کے مزاج جیسی تھی—ہر طرف گندگی، مکڑی کے جالے اور چوہوں کا بسیرا تھا۔ لوگ اس کے گھر جانے سے کتراتے تھے، کیونکہ کوئی بھلا دوسرے کی پریشانی اور گندگی میں کیوں قدم رکھتا؟وہ آدمی سمجھتا تھا کہ اس کی تمام تر بدبختی کی وجہ اس کی غربت ہے۔ وہ اکثر سوچتا، “یہ میری قسمت ہے، میں کچھ نہیں کر سکتا۔”ایک دن اس کی ملاقات ایک پُراسرار مسافر سے ہوئی، جس کی شخصیت سے دانائی چھلکتی تھی۔ غریب آدمی نے اس کے سامنے اپنی زندگی کا رونا رویا۔ مسافر نے خاموشی سے اس کی بات سنی اور اسے ایک نہایت خوبصورت گلدان تحفے میں دیا۔مسافر نے کہا: “یہ گلدان تمہیں غربت سے نجات دلائے گا۔”آدمی گلدان گھر لے آیا۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdupoetry urdustory
کنویں کے مینڈک۔۔۔!
دنیا جتنی بڑی ہوتی جائے گی، انا غرور اتنا ہی چھوٹا ہوتا جائے گا۔”وضاحت:اس تصویر میں “کنویں کے مینڈک” والی مشہور تمثیل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جب مینڈک صرف کنویں میں رہتا ہے، تو اسے لگتا ہے کہ وہ بہت بڑا ہے اور یہ کنواں ہی کل کائنات ہے۔ لیکن جب وہ باہر نکل کر بڑی دنیا اور دوسرے بڑے جانوروں (جیسے تصویر میں بیل) کو دیکھتا ہے، تو اسے اپنی حقیقت اور اپنی چھوٹی سی حیثیت کا احساس ہوتا ہے۔یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:علم اور تجربہ: ہم جتنا زیادہ سیکھتے ہیں، ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ابھی کتنا کچھ سیکھنا باقی ہے۔عاجزی: وسعتِ ظرفی انسان کے اندر سے تکبر کو ختم کر کے عاجزی پیدا کرتی ہے۔کیا آپ کو کبھی 100% یقین رہا ہے… اور پھر بھی آپ مکمل غلط ثابت ہوئے؟بہت پہلے کی بات ہے، ایک مینڈک کئی سالوں تک ایک پرانے اور متروک کنویں کی…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک دفعہ ایک بادشاہ شاہی کھانے کے ساتھ ایک فقیر کے پاس آیا اور کھانے کی اجازت چاہی۔ فقیر نے ایک آئینہ منگوایا اور شاہی کھانے میں سے ایک لقمہ آئینے پر مَل دیا۔ پورا آئینہ دھندلا ہو گیا۔ پھر فقیر نے جو کی روٹی لی اور اسے آئینے پر پھیرا، تو آئینہ دوبارہ شفاف ہو گیا۔ فقیر نے کہا:“آپ کا کھانا دل کے آئینے کو سیاہ کر دیتا ہے، جبکہ نانِ جوئیں اسے جِلا بخشتا ہے۔ اس لیے مجھے معاف کیجیے۔” بادشاہ نے کہا:“اگر میرے لیے کوئی خدمت کرنی ہو تو بتائیں۔” فقیر نے جواب دیا:“مکھیاں اور مچھر مجھے بہت تنگ کرتے ہیں، انہیں حکم دے دیجیے کہ مجھے نہ ستائیں۔” بادشاہ نے کہا:“یہ تو میرے حکم سے بھی ممکن نہیں۔” فقیر نے مسکرا کر کہا:“جب ایسے حقیر جانور بھی آپ کی اطاعت سے باہر ہیں اور آپ کو ان کے ختم کرنے کی قدرت نہیں، تو پھر میں…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک جنگل میں ایک طاقتور شیر شکار کی تلاش میں نکلا۔ اس کے ساتھ ایک ریچھ اور ایک لومڑی بھی تھے۔ قسمت سے تین شکار ہاتھ آئے: ایک گائے، ایک ہرن اور ایک خرگوش۔واپسی پر ریچھ کے انداز میں خود اعتمادی سے زیادہ غرور تھا۔ شیر نے کہا، “بتاؤ، ان کی تقسیم کیسے ہوگی؟”ریچھ نے سینہ تان کر کہا، “گائے آپ کی شان کے لائق ہے، ہرن میرا حصہ، اور خرگوش لومڑی کو دے دیا جائے۔”بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ شیر کے ایک ہی وار نے ریچھ کا غرور خاک میں ملا دیا۔اب شیر نے لومڑی کی طرف دیکھا، “تم بتاؤ، تقسیم کیسے کرو گی؟”لومڑی نے ادب سے سر جھکا کر کہا، “حضور، خرگوش صبح کے ناشتے کے لیے، گائے دوپہر کے کھانے کے لیے، اور ہرن رات کے کھانے کے لیے پیش ہے۔”شیر مسکرایا اور بولا، “یہ حکمت کہاں سے سیکھی؟”لومڑی نے نظریں جھکا کر کہا، “ریچھ…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ہلاکو خان شہر سے باہر اپنے خیمے میں بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے بغداد کا دھواں اٹھ رہا تھا، اور وہ اس دھوئیں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ میں فخر تھا، غرور تھا، اور اس غرور میں وہ اندھا تھا جو صرف طاقت کو دیکھتا ہے، حکمت کو نہیں۔ اس نے شہر میں پیغام بھیجا: “شہر کا سب سے بڑا عالم میرے پاس حاضر ہو۔ اگر نہ آیا، تو کل صبح جو زندہ بچے گا، وہ اپنی موت کو دعائیں دے گا۔” شہر میں خاموشی تھی۔ کوئی عالم آگے نہیں آ رہا تھا۔ کیوں آتا؟ جو آج تک علم کی روشنی بانٹتا رہا، وہ اب اس آگ کے سامنے کیسے جائے جو روشنی کو بجھا دیتی ہے؟ جو آج تک لوگوں کو عزت کا سبق پڑھاتا رہا، وہ اب اس بےعزتی کے سامنے کیسے جائے جو انسان کو جانور سے بھی بدتر بنا دیتی ہے؟ مگر…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge
بلاعنوان۔۔۔🙂!
حضرت حلیمہ سعدیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا‘ وہ اپنے پرانے مذہب پر قائم رہی تھیں‘ فتح مکہ کے وقت حضرت حلیمہ کی بہن خدمت میں حاضر ہوئی‘ماں کے بارے میں پوچھا‘ بتایا گیا‘ وہ انتقال فرما چکی ہیں‘ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ روتے جاتے تھے اور حضرت حلیمہ کو یاد کرتے جاتے تھے‘ رضاعی خالہ کو لباس‘ سواری اور سو درہم عنایت کئے‘ رضاعی بہن شیما غزوہ حنین کے قیدیوں میں شریک تھی‘ پتہ چلا تو انہیں بلایا‘ اپنی چادر بچھا کر بٹھایا‘ اپنے ہاں قیام کی دعوت دی حضرت شیما نے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی‘ رضاعی بہن کو غلام‘ لونڈی اور بکریاں دے کر رخصت کر دیا ‘ یہ بعد ازاں اسلام لے آئیں‘ یہ ہے شریعت۔ جنگ بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے کفار بھی شامل تھے‘ ان کافروں کو مسلمانوں کو پڑھانے‘ لکھانے اور سکھانے…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
پتھر میں چھپا عقاب
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹا لڑکا خوبصورت فن پارے بنانا سیکھنا چاہتا تھا۔ وہ ایک مشہور فنکار (سنگ تراش) کے پاس گیا جو سفید پتھر کے ایک بہت بڑے اور بے ڈول ٹکڑے پر کام کر رہا تھا۔ کئی ہفتوں تک وہ لڑکا اس فنکار کو دیکھتا رہا۔ فنکار ہتھوڑے اور ایک تیز دھار اوزار (چھینی) کی مدد سے پتھر پر ضربیں لگاتا تھا۔ پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہر طرف اڑ رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ فنکار صرف اس بڑے پتھر کو توڑ کر اس کے ٹکڑے کر رہا ہے۔لڑکے نے پوچھا، “آپ اس خوبصورت پتھر کو کیوں توڑ رہے ہیں؟ جب آپ نے اسے شروع کیا تھا، تب تو یہ کتنا ہموار اور مکمل تھا۔”فنکار رکا نہیں، اس نے بس سرگوشی کی، “میں اسے توڑ نہیں رہا، بلکہ میں تو اسے آزاد کر رہا ہوں۔”مہینے گزرتے گئے۔ پتھر کے تمام کھردرے حصے غائب…
urdu blog urdupoetry urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
روس اور مغرب کی دشمنی کا اصل راز۔☠️
سن 1204 چوتھی صلیبی جنگ جب مغربی ممالک کے کیتھولک عیسائیوں نے آرتھوڈوکس شہر قسطنطنیہ فتح کر لیا اور خوب لوٹ مار کی انہوں نے پرانے بازنطینی بادشاہوں کی قبروں تک کو کھود ڈالا جن میں ہرقل کی قبر بھی شامل تھی اس کے سر سے انہوں نے تاج بھی اکھاڑ لیا یہ وہی ہرقل تھا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خط کی صورت میں اسلام کی دعوت دی تھی اس نے خط مبارک کو عزت دی لیکن تخت جانے کے ڈر سے اسلام قبول نہ کیا صلیبیوں ہرقل بادشاہ کو سب سے پہلا صلیبی سمجھتے تھے کیتھولک عیسائیوں کے خیال میں جو عیسائی بھی مسلمانوں کے خلاف جنگ میں حصہ لے چکا ہو وہ صلیبی ہی ہے اس کے علاوہ ان لٹیروں نے عظیم بازنطینی بادشاہ جسٹینین کی قبر بھی کھودی اور حیران رہ گئے کہ 639 سال بعد بھی لاش تازہ حالت میں موجود ہے…