سن 1204 چوتھی صلیبی جنگ جب مغربی ممالک کے کیتھولک عیسائیوں نے آرتھوڈوکس شہر قسطنطنیہ فتح کر لیا اور خوب لوٹ مار کی انہوں نے پرانے بازنطینی بادشاہوں کی قبروں تک کو کھود ڈالا جن میں ہرقل کی قبر بھی شامل تھی اس کے سر سے انہوں نے تاج بھی اکھاڑ لیا یہ وہی ہرقل تھا جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خط کی صورت میں اسلام کی دعوت دی تھی اس نے خط مبارک کو عزت دی لیکن تخت جانے کے ڈر سے اسلام قبول نہ کیا صلیبیوں ہرقل بادشاہ کو سب سے پہلا صلیبی سمجھتے تھے کیتھولک عیسائیوں کے خیال میں جو عیسائی بھی مسلمانوں کے خلاف جنگ میں حصہ لے چکا ہو وہ صلیبی ہی ہے
اس کے علاوہ ان لٹیروں نے عظیم بازنطینی بادشاہ جسٹینین کی قبر بھی کھودی اور حیران رہ گئے کہ 639 سال بعد بھی لاش تازہ حالت میں موجود ہے انہوں نے اسے معجزہ سمجھا لیکن اس کے باوجود وہ لوٹ مار سے باز نہ آئے انہوں نے صدیوں سے جمع خزانوں ہیرے جواہرات کو لوٹ کر مغرب لے گئے قسطنطنیہ اس کے بعد دوبارہ کبھی Recover نہ ہو سکا اور بازنطینی سلطنت کا زوال اور اختتام کی جانب تیزی سے سفر شروع ہو گیا
روس آج کی دنیا کا سب سے بڑا آرتھوڈوکس عیسائی ملک ہے جو مغرب کو کھٹکتا ہے حالانکہ روس اس وقت اپنے Survival کیلئے لڑ رہا ہے وہ نہیں چاہتا کہ امریکہ اور نیٹو اسے ہر طرف سے گھیر لیں اس کیلئے مناسب وقت پر اس نے Aggression دکھاتے ہوئے یوکرائن پر اپنی Mussle دکھائی۔
