بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک گورو اپنے چیلے کے ساتھ ایک ایسے شہر میں پہنچے جسے لوگ بیداد نگری کہتے تھے۔ وہاں ہر چیزِ خوردنی کا بھاؤ ٹکے سیر تھا۔ گورو نے فوراً چیلے سے کہا: “یہاں سے نکل چلو، اس شہر میں نہ قدر و قیمت کا فرق ہے نہ مرتبے کا لحاظ۔”
مگر چیلا خوش تھا کہ جہاں سب کچھ اتنا سستا ہو، وہاں زندگی بڑے مزے سے گزرے گی۔

گورو نے سمجھایا: “ہم نے تمہیں خبردار کر دیا، اب تمہاری مرضی۔”
چیلے کو ٹکے سیر حلوہ پوری ملنے لگی، چند ہی دنوں میں وہ کھا کھا کر موٹا تازہ اور ہشاش بشاش ہو گیا۔

قدرت کا کرنا یہ ہوا کہ ایک دن ایک چور زیور چرانے کے الزام میں دربار میں پیش ہوا۔ اس نے بڑی دیدہ دلیری سے کہا: “حضور! میں بے قصور ہوں، اگر صاحبِ زیور اتنی قیمتی چیز گھر میں نہ رکھتا تو میں کیسے چراتا؟”
نتیجہ یہ نکلا کہ چور بری ہو گیا اور زیور کا مالک مجرم بن کر کھڑا کر دیا گیا۔

زیور والے نے عرض کیا: “اگر سنار ایسا عمدہ زیور نہ بناتا تو میں خریدتا ہی کیوں؟ اصل قصور تو سنار کا ہے!”
یوں وہ بھی بری ہو گیا اور سنار کو سزا سنائی گئی۔

سنار نے بھی اسی طرز کا جواب دے کر اپنی جان چھڑا لی۔
یوں ایک کے بعد ایک ملزم آتے گئے اور ہر کوئی دلیل دے کر بچ نکلتا رہا۔ آخرکار قرعہ ایک ایسے کمزور شخص کے نام نکلا جو کوئی صفائی پیش نہ کر سکا۔

جب اسے پھانسی کے تختے پر لایا گیا تو پتہ چلا کہ وہ اتنا لاغر ہے کہ پھندا اس کی گردن میں ٹھیک نہیں بیٹھتا۔
تب حکم ہوا کہ اس کی جگہ کوئی موٹا تازہ آدمی پکڑا جائے۔

بدقسمتی سے وہی چیلا، جو ٹکے سیر حلوہ پوری کھا کر موٹا ہو چکا تھا، پکڑ لیا گیا۔
اس نے فریاد کی: “میرا کیا قصور ہے؟”
راجہ نے بے پروائی سے کہا: “قصور کچھ نہیں، مگر تم موٹے ہو، پھندا تمہیں فٹ آئے گا!”

عین اسی وقت گورو وہاں پہنچے اور بولے:
“اور کھا ٹکے سیر حلوہ پوری! میں نے کہا تھا یہ بیداد نگری ہے، مگر تم نہ مانے۔ اب بھگتو!”

چیلے نے گڑگڑا کر کہا: “میں آئندہ کبھی آپ کی بات نہ ٹالوں گا، کسی طرح بچا لیجئے۔”

گورو نے تدبیر بتائی: “میں کہوں گا پہلے مجھے پھانسی دو، اور تم کہنا پہلے مجھے دو۔”

دونوں نے دربار میں پھانسی کے لیے عجیب اشتیاق ظاہر کیا۔
راجہ حیران رہ گیا کہ لوگ تو جان بچانے کی فکر کرتے ہیں اور یہ دونوں مرنے کو بیتاب ہیں!

پوچھنے پر گورو نے کہا:
“آج کی ساعت نہایت مبارک ہے، جو اس گھڑی پھانسی چڑھے گا سیدھا جنت میں جائے گا۔”

یہ سن کر راجہ لالچ میں آ گیا اور بولا: “اگر ایسا ہے تو پہلے ہمیں پھانسی دو!”
چنانچہ راجہ کو تختۂ دار پر چڑھا دیا گیا، اور گورو اپنے چیلے کو لے کر وہاں سے نکل گئے۔

سبق یہ ہے کہ بزرگوں کے تجربے اور نصیحت میں حکمت چھپی ہوتی ہے۔ جو ان کی بات مان لیتا ہے، وہ انجام کی سختیوں سے بچ جاتا ہے۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں

Leave a Reply

NZ's Corner