ایک دن ملا نصر الدین اپنے گھر کے باہر دھوپ سینک رہے تھے کہ ان کا ایک پڑوسی ہانپتا کانپتا آیا اور کہنے لگا:
“ملا صاحب! بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ آج کے لیے اپنا گدھا مجھے ادھار دے دیں، مجھے شہر سے کچھ ضروری سامان لانا ہے۔”
ملا نصر الدین کا اس دن گدھا دینے کا بالکل موڈ نہیں تھا، اس لیے انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا:
“بھائی، میں تو خوشی سے دے دیتا لیکن میرا گدھا تو یہاں ہے ہی نہیں، میرا بیٹا اسے لے کر دوسرے گاؤں گیا ہوا ہے۔”
پول کھل گیا
ابھی ملا کی بات مکمل ہی ہوئی تھی کہ گھر کے پچھواڑے سے گدھے کے زور زور سے ہینگنے (ریں ریں) کی آواز آنے لگی۔ پڑوسی حیرت سے ملا کی طرف دیکھنے لگا اور بولا:
“ملا صاحب! آپ تو کہہ رہے تھے کہ گدھا گھر پر نہیں ہے، لیکن یہ آواز تو صاف بتا رہی ہے کہ گدھا اندر ہی موجود ہے!”
ملا کا جواب
ملا نصر الدین نے بڑی متانت اور غصے سے پڑوسی کی طرف دیکھا اور بولے:
“بڑے عجیب انسان ہو تم! تم ایک سفید داڑھی والے بزرگ (مجھ) کی بات پر یقین نہیں کر رہے، بلکہ ایک گدھے کی بات پر یقین کر رہے ہو؟”
پڑوسی یہ سن کر لاجواب ہو گیا اور خاموشی سے واپس لوٹ گیا۔
