ہلاکو خان شہر سے باہر اپنے خیمے میں بیٹھا تھا۔ اس کے سامنے بغداد کا دھواں اٹھ رہا تھا، اور وہ اس دھوئیں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ میں فخر تھا، غرور تھا، اور اس غرور میں وہ اندھا تھا جو صرف طاقت کو دیکھتا ہے، حکمت کو نہیں۔
اس نے شہر میں پیغام بھیجا:
“شہر کا سب سے بڑا عالم میرے پاس حاضر ہو۔ اگر نہ آیا، تو کل صبح جو زندہ بچے گا، وہ اپنی موت کو دعائیں دے گا۔”
شہر میں خاموشی تھی۔
کوئی عالم آگے نہیں آ رہا تھا۔ کیوں آتا؟ جو آج تک علم کی روشنی بانٹتا رہا، وہ اب اس آگ کے سامنے کیسے جائے جو روشنی کو بجھا دیتی ہے؟ جو آج تک لوگوں کو عزت کا سبق پڑھاتا رہا، وہ اب اس بےعزتی کے سامنے کیسے جائے جو انسان کو جانور سے بھی بدتر بنا دیتی ہے؟
مگر ایک شخص تھا۔
ایک ادھیڑ عمر استاد، جو شہر کے ایک چھوٹے سے مدرسے میں پڑھاتا تھا۔ اس کا نام مفتی قاسم تھا۔ نہ وہ کا رہے، نہ کا رہے۔ نہ اس کا کوئی بڑا خاندان تھا، نہ کوئی بڑا مکان۔ اس کے پاس صرف ایک چھوٹی سی مسجد تھی، چند طالب علم، اور ایک بوڑھی بیوی جو اب چلنے پھرنے سے بھی معذور تھی۔
جب شہر میں یہ خبر پھیلی کہ کوئی عالم ہلاکو خان کے پاس نہیں جا رہا، تو مفتی قاسم اپنے مدرسے سے باہر نکلا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ آسمان پر بادل تھے، مگر بارش نہیں ہو رہی تھی۔ جیسے آسمان بھی رونا چاہتا ہو، مگر اس کی آنکھیں سوکھ گئی ہوں۔
وہ گھر گیا۔ اپنی بیوی کے پاس گیا۔
بیوی نے پوچھا: “کیا ارادہ ہے؟”
مفتی قاسم نے کہا: “جا رہا ہوں۔”
بیوی نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ جانتی تھی کہ اس کا شوہر واپس نہیں آئے گا۔ اس نے صرف اتنا کہا: “ساتھ کیا لے کر جا رہے ہو؟”
مفتی قاسم نے کمرے کے کونے میں دیکھا۔ وہاں ایک پرانا تھیلا پڑا تھا۔ اس تھیلے میں اس کی زندگی تھی: چند کتابیں، ایک مٹی کا لوٹا، اور ایک چادر جو اب پھٹ چکی تھی۔
اس نے کہا: “کچھ نہیں۔”
بیوی نے آنکھیں کھولیں۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔ اس نے کہا: “خالی ہاتھ نہ جائیے۔ تحفہ لے کر جائیے۔”
مفتی قاسم حیران رہ گیا۔ “تحفہ؟ اس سفاک کو تحفہ؟ وہ تو پوری دنیا لوٹ کر آیا ہے۔ اسے کس چیز کی حاجت ہے؟”
بیوی نے آہستہ سے کہا: “اسے حکمت کی حاجت ہے، مگر وہ خود نہیں جانتا۔ آپ اسے وہ چیز دیجیے جو اس کے پاس نہیں۔”
مفتی قاسم نے پوچھا: “کیا چیز؟”
بیوی نے جواب دیا: “وہ چیز جو میں نے آپ سے سیکھی۔ صبر، قناعت، اور یقین۔”
مفتی قاسم خاموش رہا۔ پھر وہ باہر نکلا۔ اس نے محلے کے ایک بوڑھے سے ایک اونٹ منگایا۔ ایک بکرا منگایا۔ اور ایک مرغ۔
لوگ اسے دیکھ کر حیران ہو رہے تھے۔ کسی نے پوچھا: “مفتی صاحب! یہ کیا کر رہے ہیں؟”
اس نے جواب دیا: “تحفہ لے کر جا رہا ہوں۔”
لوگ ہنس پڑے۔ “یہ تحفہ ہے؟ ایک بوڑھا اونٹ، ایک بکری کا بچہ، اور ایک مرغ؟ ہلاکو خان تو سونے چاندی کے خزانے لوٹ کر لے گیا ہے۔”
مفتی قاسم مسکرایا۔ اس کی مسکراہٹ میں کوئی جواب نہیں تھا، صرف ایک راز تھا جو وہ صرف اپنے ساتھ لے کر جا رہا تھا۔
وہ چل پڑا۔
شہر سے باہر نکلتے ہی اس نے دیکھا کہ زمین بدل چکی تھی۔ جہاں کبھی کھیت تھے، وہاں اب راکھ تھی۔ جہاں کبھی باغ تھے، وہاں اب قبریں تھیں۔ اور ہر طرف خاموشی تھی۔ وہ خاموشی جو صرف موت کے بعد آتی ہے۔
ہلاکو خان کا ڈیرہ دور سے نظر آ رہا تھا۔ سیاہ خیمے، اونٹوں کے ریوڑ، اور ہر طرف تاتاری سپاہی جن کی آنکھوں میں رحم نہیں تھا۔
مفتی قریب پہنچا تو ایک سپاہی نے اس کا راستہ روک لیا۔
“کون ہے تو؟”
“میں بغداد کا ایک مدرس ہوں۔ تمہارے بادشاہ نے بلایا ہے۔”
سپاہی نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا۔ اس کی پھٹی ہوئی چادر، اس کا پرانا عمامہ، اور اس کے ساتھ تین جانور۔ وہ ہنس پڑا۔
“یہ تحفے ہیں؟ تمہارے بادشاہ کو تم پر ترس آئے گا۔”
مفتی قاسم خاموش رہا۔
اسے خیمے کے باہر کھڑا کر دیا گیا۔ اندر سے ہلاکو خان کی آواز آرہی تھی۔ وہ اپنے سرداروں سے کچھ کہہ رہا تھا، اور وہ سب ہنس رہے تھے۔ وہ قتل عام پر ہنس رہے تھے۔
پھر دروازہ کھلا۔
“اندر آ۔”
مفتی قاسم اندر داخل ہوا۔ خیمہ بڑا تھا۔ دیواروں پر ریشمی کپڑے لٹک رہے تھے۔ زمین پر قیمتی قالین بچھے تھے۔ اور درمیان میں ایک تخت پر ہلاکو خان بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھیں چھوٹی تھیں، مگر ان میں ایسی تیزی تھی جو دیکھنے والے کو چھید دیتی تھی۔
ہلاکو نے اسے دیکھا۔ پھر اس کے ساتھ موجود جانوروں کو دیکھا۔ اس کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
“یہ کیا ہے؟”
مفتی قاسم نے سر جھکایا۔ آواز نہیں نکالی۔
ہلاکو خان نے پھر پوچھا، اس بار آواز میں غصہ تھا: “میں نے شہر کا سب سے بڑا عالم بلایا تھا۔ تو کون ہے؟ اور یہ جانور کیوں ساتھ لایا ہے؟”
مفتی قاسم نے آہستہ سے کہا: “میں شہر کا سب سے بڑا عالم نہیں ہوں۔”
ہلاکو خان کو یہ سن کر تعجب ہوا۔ “پھر کیوں آیا؟ کسی اور کو آنے کی ہمت نہیں ہوئی؟”
مفتی قاسم نے جواب دیا: “ہمت والے تو بہت تھے، مگر وہ سب مر چکے ہیں۔ آپ کے سپاہیوں نے انہیں شہر کی گلیوں میں قتل کر دیا۔”
خیمے میں خاموشی چھا گئی۔ ہلاکو خان کے سرداروں نے تلواریں پکڑ لیں۔ مگر ہلاکو نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں روک دیا۔
وہ تخت سے اٹھا۔ مفتی قاسم کے قریب آیا۔ اس نے اسے غور سے دیکھا۔ پھر اس کے ساتھ والے جانوروں کو دیکھا۔
“بتا، یہ تینوں کیوں لایا ہے؟”
مفتی قاسم نے آنکھیں اٹھائیں۔ اس کی آنکھوں میں خوف نہیں تھا۔ نہ التجا تھی۔ صرف ایک عجیب سا سکون تھا، جیسے اسے معلوم ہو کہ وہ جو کہنے آیا ہے، وہ سننا ہی پڑے گا۔
اس نے کہا: “یہ تینوں نشانیاں ہیں۔”
ہلاکو خان نے ابرو اٹھائے۔ “نشانیاں؟ کس چیز کی؟”
مفتی قاسم نے پہلے مرغ کی طرف اشارہ کیا۔
“یہ مرغ ہے۔ یہ صبح سویرے بانگ دیتا ہے۔ اندھیرا ہو یا اجالا، سردی ہو یا گرمی، یہ اپنے وقت پر بانگ دیتا ہے۔ اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ یہ نشانی ہے اس چیز کی جسے تم کبھی نہیں روک سکو گے۔”
ہلاکو خان نے پوچھا: “کیا چیز؟”
مفتی قاسم نے کہا: “وقت۔”
خیمے میں پھر خاموشی چھا گئی۔ ہلاکو خان کے چہرے کا رنگ بدلا۔
مفتی قاسم نے اب بکرے کی طرف اشارہ کیا۔
“یہ بکرا ہے۔ یہ دودھ دیتا ہے۔ اس کی کھال سے تم چمڑا بناتے ہو۔ اس کے بال سے تم کپڑا بناتے ہو۔ اس کا گوشت تم کھاتے ہو۔ یہ تمہیں سب کچھ دیتا ہے، مگر بدلے میں کچھ نہیں مانگتا۔ صرف تھوڑا سا چارہ، اور ایک چھت کا کوئی سایہ۔ یہ نشانی ہے اس چیز کی جسے تم نے آج تک نہیں سیکھا۔”
ہلاکو خان نے پوچھا: “وہ کیا؟”
مفتی قاسم نے کہا: “قناعت۔”
ہلاکو خان ٹھٹھک گیا۔ اس کے سردار بے چین ہونے لگے۔ انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ بوڑھا شخص ان کے بادشاہ سے کیا کہہ رہا ہے۔
مفتی قاسم نے اب اونٹ کی طرف اشارہ کیا۔
“یہ اونٹ ہے۔ یہ دیکھنے میں بھدا ہے، مگر صحرا میں یہی تمہارا واحد سہارا ہے۔ یہ دنوں بھر بغیر پانی کے چلتا ہے۔ یہ بوجھ اٹھاتا ہے۔ یہ تمہیں منزل تک پہنچاتا ہے۔ یہ کبھی شکایت نہیں کرتا۔ یہ نشانی ہے اس چیز کی جس کے بغیر تم کچھ نہیں ہو۔”
ہلاکو خان نے پوچھا: “وہ کیا؟”
مفتی قاسم نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا: “صبر۔”
ہلاکو خان خاموش تھا۔
وہ اپنے تخت کی طرف لوٹا۔ بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھیں سوچ میں تھیں۔ پھر اس نے پوچھا:
“یہ تینوں چیزیں مجھے یہاں لے کر آنے کا مقصد کیا ہے؟”
مفتی قاسم نے آہستہ سے کہا: “میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ نے بغداد کو فتح کر لیا، مگر آپ وقت کو نہیں جیت سکتے۔ آپ نے خزانے لوٹ لیے، مگر آپ قناعت نہیں خرید سکتے۔ آپ نے لاکھوں کو قتل کر دیا، مگر آپ صبر کا سبق نہیں دے سکتے۔”
اس نے ایک لمحہ رک کر کہا:
“آپ کے پاس طاقت ہے، مگر حکمت نہیں۔ آپ کے پاس لشکر ہے، مگر امن نہیں۔ آپ کے پاس سونا ہے، مگر سکون نہیں۔ اور جو چیز آپ کے پاس نہیں، وہ آپ کبھی چھین نہیں سکتے۔”
ہلاکو خان کی آنکھوں میں غصہ تھا۔ مگر اس غصے کے ساتھ کچھ اور بھی تھا۔ کچھ ایسا جو اس نے آج تک محسوس نہیں کیا تھا۔
وہ اٹھا۔ مفتی قاسم کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ اس کا ہاتھ اس کی تلوار پر تھا۔
“تجھے معلوم ہے، میں تجھے اس وقت قتل کر سکتا ہوں؟”
مفتی قاسم مسکرایا۔
“بےشک۔ مگر جس دن آپ نے میری جان لی، اسی دن آپ نے یہ بھی مان لیا کہ میں صحیح تھا۔”
ہلاکو خان نے تلوار میان سے باہر نکالی۔ خیمے میں سانس رک گئی۔
مگر پھر کچھ ہوا۔
ہلاکو خان نے تلوار واپس میان میں ڈال دی۔ وہ مفتی قاسم کے سامنے کھڑا رہا۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا:
“جا۔ اپنے شہر جا۔ اپنے مدرسے جا۔ اور جو کچھ تو نے آج مجھے سکھایا، اسے دوسروں کو بھی سکھا۔”
مفتی قاسم نے سر جھکایا۔ وہ خیمے سے باہر نکلا۔ باہر تاتاری سپاہی کھڑے تھے، مگر کسی نے اسے نہیں روکا۔
وہ چل پڑا۔
واپسی کا راستہ لمبا تھا۔ اس کے ساتھ اب کوئی جانور نہیں تھا۔ وہ اکیلے تھا۔ مگر اس کے دل میں ایک عجیب سا سکون تھا۔
شہر میں داخل ہوا تو لوگ اسے دیکھ کر حیران رہ گئے۔ وہ زندہ تھا۔ وہ واپس آ گیا تھا۔
کسی نے پوچھا: “مفتی صاحب! آپ کو کیسے چھوڑ دیا؟”
مفتی قاسم نے جواب دیا: “اس نے مجھے نہیں چھوڑا۔ اس نے اپنے آپ کو چھوڑا۔”
لوگوں کو سمجھ نہیں آئی۔ مگر مفتی قاسم نے کوئی وضاحت نہیں کی۔ وہ سیدھا اپنے مدرسے گیا۔ اپنی بیوی کے پاس گیا۔
بیوی نے پوچھا: “تحفہ پسند آیا؟”
مفتی قاسم نے کہا: “مجھے نہیں معلوم۔ مگر اتنا معلوم ہے کہ آج اس نے جو سنا، وہ اس کی زندگی بھر نہیں بھولے گا۔”
بیوی مسکرائی۔
اور وہ دونوں خاموش ہو گئے۔ باہر بغداد کی فضا میں اب بھی دھواں تھا۔ مگر اس دھوئیں میں اب ایک روشنی بھی تھی۔ وہ روشنی جو کسی نے اپنی جان دے کر نہیں، بلکہ اپنی حکمت دے کر جلائی تھی۔
کہتے ہیں کہ ہلاکو خان نے اس رات کوئی قتل نہیں کروایا۔ اور جب اس کے سرداروں نے وجہ پوچھی، تو اس نے صرف اتنا کہا:
“آج ایک شخص نے مجھے بتایا کہ میں نے سب کچھ جیت لیا، مگر وہ سب کچھ ہار دیا جو جیتنے کے قابل تھا۔”
خلاصہ:
طاقت سے شہر فتح ہوتے ہیں، مگر حکمت سے دل۔ ایک مفتی کے پاس جب تحفے میں جانوروں کے سوا کچھ نہ تھا، تو اس نے ان جانوروں کے ذریعے ایک سفاک بادشاہ کو وہ سبق پڑھایا جو سونے چاندی کے خزانے نہیں دے سکتے تھے
کیا آپ کو لگتا ہے کہ آج کی دنیا میں بھی کوئی مفتی قاسم ہلاکو خان کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے؟ اور کیا آج کے ہلاکو خان وہ سبق قبول کر سکتے ہیں؟
