سبق آموز ۔۔۔🙂!

سبق آموز ۔۔۔🙂!

شہر کے پرانے حصے میں ایک وسیع قبرستان تھا۔ دن میں وہاں فاتحہ پڑھنے والے آتے، مگر رات کو سناٹا اتر آتا۔ ہوا درختوں کے پتوں سے ٹکرا کر عجیب سی سرگوشی پیدا کرتی۔ اسی قبرستان میں ایک رات ایسا واقعہ ہوا جسے سن کر لوگ کانپ اٹھے۔
کہتے ہیں ایک شخص، جس کا نام فرید تھا، اپنی خواہشات کا غلام بن چکا تھا۔ اس کے دل میں نہ خوفِ خدا رہا تھا نہ حیا کی رمق۔ شیطان نے اسے اس حد تک بہکایا کہ وہ رات کے اندھیرے میں قبرستان پہنچا اور ایک تازہ قبر کے قریب ایسا گناہ کیا جسے زبان بیان کرتے ہوئے بھی شرمائے۔
رات گزر گئی، مگر زمین و آسمان اس گناہ کے گواہ بن گئے۔
اُسی شہر کا بادشاہ نہایت نیک سیرت تھا۔ عدل و انصاف اس کی پہچان تھا۔ اسی رات اسے خواب آیا کہ ایک سفید پوش بزرگ اس کے سامنے کھڑے ہیں۔ چہرہ نور سے منور، آواز پُرہیبت۔
انہوں نے فرمایا:
“فلاں قبرستان میں فلاں شخص نے عظیم گناہ کیا ہے۔ اسے فوراً دربار میں لا کر اپنا مشیرِ خاص مقرر کرو۔”
بادشاہ چونک اٹھا۔ “مشیرِ خاص؟ ایک گناہگار کو؟”
مگر خواب ٹوٹ گیا۔
صبح ہوتے ہی بادشاہ نے سپاہی روانہ کیے۔ وہ قبرستان پہنچے تو فرید وہیں قریب بیٹھا تھا۔ شاید خوف اور ندامت نے اسے رات بھر سونے نہ دیا تھا۔ سپاہیوں کو دیکھ کر اس کے رنگ اڑ گئے۔ اسے یقین ہو گیا کہ اس کی گردن اڑنے والی ہے۔
مگر جب اسے دربار میں پیش کیا گیا تو حیرت کا طوفان اس پر ٹوٹ پڑا۔
بادشاہ نے کہا،
“مجھے تمہارے گناہ کا علم ہے۔ مگر آج سے تم میرے مشیرِ خاص ہو۔”
دربار میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔ فرید کے کانوں پر یقین نہ آیا۔ وہ سوچ رہا تھا، “یہ کیسا انصاف ہے؟”
چند دنوں میں وہ شاہی محل میں رہنے لگا۔ قیمتی لباس، خدام، عزت و احترام — سب کچھ اس کے قدموں میں تھا۔ لوگ اسے جھک کر سلام کرتے۔ وہ اپنے ماضی کو بھولنے لگا۔
مگر بادشاہ کا دل بے چین تھا۔ وہ ہر رات اسی خواب کے بارے میں سوچتا۔ آخر دوسری رات پھر وہی سفید پوش خواب میں آئے۔
بادشاہ نے فوراً پوچھا،
“آپ نے ایک زانی کو اتنا بڑا عہدہ دینے کا حکم کیوں دیا؟”
سفید پوش نے فرمایا:
“اللہ کو اس کا گناہ سخت ناپسند آیا۔ اس کی موت کا وقت ابھی نہیں تھا، اس لیے اسے دنیا میں عیش و عشرت میں ڈال دیا گیا، تاکہ وہ کبھی سچے دل سے توبہ نہ کر سکے۔ اس کی سزا آخرت میں طے ہو چکی ہے۔”
بادشاہ کا دل کانپ اٹھا۔
“کیا اس کے لیے واپسی کا دروازہ بند ہو چکا ہے؟”
جواب آیا،
“جب انسان گناہ پر خوش ہو جائے، اور سزا کے بجائے انعام سمجھے، تو وہ اپنے لیے دروازے خود بند کر لیتا ہے۔”
خواب ختم ہوا۔
بادشاہ نے اگلی صبح فرید کو دیکھا۔ وہ ہنستا مسکراتا درباریوں کو احکام دے رہا تھا۔ اس کے چہرے پر فخر تھا۔ وہ دل ہی دل میں سوچتا،
“دیکھا! جس گناہ پر لوگ پکڑے جاتے ہیں، میں اس پر ترقی پا گیا!”
دن گزرتے گئے۔ فرید مزید بے باک ہو گیا۔ دولت اور اختیار نے اس کے دل کو مزید سخت کر دیا۔ اب وہ دوسروں کو بھی گناہ کی راہوں پر لے جانے لگا۔ اسے لگتا تھا کہ وہ ناقابلِ گرفت ہے۔
ایک دن بادشاہ نے اسے تنہائی میں بلایا اور کہا،
“کیا تمہیں اپنے ماضی کا خیال آتا ہے؟”
فرید نے ہنس کر کہا،
“جہاں پناہ! وہ تو ایک حادثہ تھا۔ اگر وہ برا ہوتا تو میں یہاں کیوں ہوتا؟”
بادشاہ کے دل پر جیسے خنجر چلا گیا۔ اسے سفید پوش کی بات یاد آئی:
“وہ خوش بھی ہوگا کہ جس گناہ پر سزا ملنی چاہیے تھی، اس پر عہدہ مل گیا۔”
وقت گزرتا رہا۔ فرید کا دل مزید سیاہ ہوتا گیا۔ اس کے لیے گناہ معمول بن گیا۔ پہلی بار جب اس نے وہ ہولناک فعل کیا تھا تو دل زور زور سے دھڑکا تھا۔ ہاتھ کانپے تھے۔ پسینہ آیا تھا۔ مگر اب کوئی دھڑکن تیز نہ ہوتی، کوئی شرمندگی نہ جاگتی۔
ایک رات اچانک فرید کو شدید بیماری نے آ گھیرا۔ شاہی طبیب آئے، دعائیں ہوئیں، مگر اس کی سانس اکھڑنے لگی۔
مرتے وقت اس کی آنکھوں میں خوف اتر آیا۔ اسے وہ قبرستان یاد آیا، وہ پہلی رات، وہ لرزتی ہوئی روح۔
مگر اب وقت ختم ہو چکا تھا۔
کہتے ہیں اس کی موت کے بعد شہر میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ بادشاہ نے دربار میں اعلان کیا:
“لوگو! دنیا کی آسانی ہمیشہ اللہ کی رضا کی دلیل نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی یہ مہلت ہوتی ہے، اور کبھی دھوکہ۔”
اسی شہر میں ایک بزرگ اپنے بیٹے کو یہ قصہ سنا رہے تھے۔ آخر میں انہوں نے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا:
“بیٹا! جب گناہ آسان ہونے لگے، اور دل پر بوجھ نہ رہے، تو ڈر جانا۔ کیونکہ پہلی بار گناہ پر دل کانپتا ہے — وہی ایمان کی آواز ہوتی ہے۔ اگر وہ آواز خاموش ہو جائے تو سمجھ لو خطرہ ہے۔”
بیٹا خاموش بیٹھا سوچتا رہا۔ اسے اپنے آس پاس کا معاشرہ یاد آیا۔ کتنے لوگ بار بار گناہ کرتے ہیں، اور اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ کتنے مرد و عورتیں اپنی لغزش کو فخر بناتے ہیں۔
اس نے دل میں سوال کیا،
“کیا آج ایسا نہیں ہو رہا؟”
گناہ کے مواقع پہلے سے زیادہ آسان ہو چکے تھے۔ کوئی روکنے والا نہیں، کوئی پکڑ نظر نہیں آتی۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ بچ گیا۔
مگر شاید اصل پکڑ وہی ہوتی ہے جب دل بے حس ہو جائے۔
کہانی یہ نہیں سکھاتی کہ ہر آسائش عذاب ہے، بلکہ یہ سکھاتی ہے کہ انسان اپنے حال کا محاسبہ کرتا رہے۔ اگر پہلی بار گناہ پر دل کانپے تو وہ نعمت ہے۔ وہی موقع ہے واپس پلٹنے کا۔
کیونکہ سب سے بڑا وبال یہ نہیں کہ انسان گناہ کر لے…
بلکہ یہ ہے کہ وہ گناہ پر خوش ہونے لگے۔
اور جب دل کی دھڑکن خبردار کرنا چھوڑ دے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ زنجیر چمک رہی ہے… مگر ہے زنجیر ہی۔

Leave a Reply

NZ's Corner