Tag Archives: urdustory urdu blog

حسد نہیں، دعا کیجیے!روایت ہے کہ ایک غریب دیہاتی اپنی معاشی تنگی کی وجہ سے بہت پریشان رہتا تھا۔ کسی خیر خواہ نے اسے مشورہ دیا کہ “تم شہنشاہ اکبر کے پاس جاؤ، اس کے پاس بے شمار دولت ہے اور وہ ہر سائل کی جھولی بھر دیتا ہے۔ وہ تمہیں بھی ضرور کچھ عطا کرے گا اور تمہاری مفلسی دور ہو جائے گی۔”دیہاتی نے برجستہ سوال کیا: “اکبر بادشاہ کو یہ سب کس نے دیا ہے؟”جواب ملا: “اللہ نے!”یہ سن کر دیہاتی کے ایمان کو ایک نئی جلا ملی اور اس نے کہا: “اگر اسے دینے والا اللہ ہے، تو پھر میں براہِ راست اسی سے کیوں نہ مانگوں؟ میں اکبر کے در پر کیوں جاؤں؟”اس کے بعد وہ اپنے گھر سے نکلا اور ایک ویران جنگل کی طرف چل دیا تاکہ یکسوئی سے اپنے رب کو پکار سکے۔ وہاں پہنچ کر اس نے اپنا بوسیدہ سا کپڑا زمین…

Read more

قدیم زمانے میں ایک بادشاہ تھا۔ وہ بہت ظالم تھا۔ اس نے لوگوں پر ظلم ڈھائے ہوئے تھے، ان کا مال چھین لیا تھا، انہیں جیلوں میں ڈال رکھا تھا۔ اس کی فوج مضبوط تھی، اس کا خزانہ بھرا ہوا تھا، لیکن اس کا دل خالی تھا۔ لوگ اس سے ڈرتے تھے۔ کوئی اس کے سامنے سچ نہیں بول سکتا تھا۔ ایک دن بادشاہ کے وزراء نے کہا: “بادشاہ سلامت! آپ کی طاقت بے پناہ ہے۔ لیکن آپ کے پاس وہ چیز نہیں جو سب سے بڑی طاقت ہے۔” بادشاہ نے پوچھا: “وہ کیا ہے؟” وزیر نے کہا: “سچ۔” بادشاہ ہنسا۔ “سچ؟ میں سچ نہیں جانتا؟ میں بادشاہ ہوں۔ جو میں کہوں وہ سچ ہے۔” وزیر نے کہا: “نہیں، بادشاہ سلامت۔ آپ جو کہتے ہیں وہ حکم ہے، سچ نہیں۔ سچ وہ ہے جو آپ سے پہلے بھی تھا، آپ کے بعد بھی رہے گا۔ سچ کا حکم کوئی نہیں…

Read more

مدینہ کی گلیاں ابھی صبح کی پہلی کرنوں سے لپٹی ہوئی تھیں۔ سورج نے ابھی اپنا پورا چہرہ بھی نہیں دکھایا تھا کہ ایک شخص اپنے اونٹ پر سامان لاد کر شاہراہ پر نکل کھڑا ہوا۔ اس کے جسم پر ایک سادہ سی چادر تھی، سر پر عمامہ تھا اور ہاتھ میں ایک معمولی کوڑا۔ اس کے چہرے پر وہ نور تھا جو صرف سچے ایمان والوں کے چہروں پر ہوتا ہے۔ یہ کوئی عام مسافر نہیں تھا۔ یہ امیر المومنین، خلیفۂ دوم، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے۔ وہ تنہا شام جا رہے تھے۔ جی ہاں، پوری ریاست کا سربراہ بغیر کسی محافظ کے، بغیر کسی شاہی قافلے کے، صرف ایک اونٹ پر سوار۔ ان کے ساتھ صرف ان کا خادم اسلم تھا۔ اسلم نے ادب سے عرض کیا:“یا امیر المومنین، آپ اونٹ پر سوار ہوں، میں پیدل چل لوں گا۔” حضرت عمر نے محبت سے اس کی…

Read more

“ہر پیالے سے مت پئیں—دانشمندی سے انتخاب کریں۔ یہ جملہ ایک نصیحت یا استعارہ (Metaphor) کے طور پر استعمال ہوا ہے، جس کے گہرے معانی ہیں:ہر پیالے سے مت پئیں: اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی میں آپ کو ہر موقع، ہر پیشکش، یا ہر قسم کے تجربات کو آنکھ بند کر کے قبول نہیں کر لینا چاہیے۔ جس طرح تصویر میں سانپ کا زہر شامل کیا جا رہا ہے، اسی طرح کچھ چیزیں بظاہر پرکشش ہو سکتی ہیں لیکن وہ نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔دانشمندی سے انتخاب کریں: یہ انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ اپنے قریبی تعلقات، مواقع، یا فیصلوں کا انتخاب کرتے وقت ہوشیاری اور احتیاط سے کام لیں۔ ہر چیز جو سامنے پیش کی جائے، وہ آپ کے حق میں بہتر نہیں ہوتی۔خلاصہ: یہ تصویر اور عبارت دراصل احتیاط اور بصیرت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ اپنے لیے وہی چیز چنیں جو آپ…

Read more

وہ بڑا بہادر اور دریا دل آدمی تھا۔ سارے عرب میں اس کی سخاوت کے چرچے عام تھے۔ ایک مرتبہ عباسی خلیفہ Abu Ja’far al-Mansur اس سے سخت ناراض ہو گیا اور اس نے حکم دیا کہ Ma’n ibn Za’ida کو گرفتار کرکے اس کے سامنے پیش کیا جائے۔ جب معن بن زائدہ کو خلیفہ کے اس حکم کی خبر ملی تو وہ کسی جگہ چھپ گیا، لیکن ہر وقت اسے یہی خوف لگا رہتا تھا کہ خلیفہ کے آدمی کسی نہ کسی دن اسے ضرور ڈھونڈ نکالیں گے۔ آخر ایک دن اس نے بھیس بدلا اور ایک اونٹ پر سوار ہو کر بغداد سے نکل کھڑا ہوا۔ ابھی تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ اچانک ایک سیاہ فام آدمی ایک طرف سے نکلا اور اس کے اونٹ کی مہار پکڑ کر اونٹ کو بٹھا دیا۔ پھر اس نے معن بن زائدہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا:“میرے ساتھ چلو۔” معن…

Read more

ایک ہوائی جہاز کے خوفناک حادثے میں بدقسمتی سے کوئی بھی مسافر زندہ نہ بچ سکا۔ جائے حادثہ پر جب ماہرین کی ٹیم پہنچی تو ہر چیز اس قدر تباہ ہو چکی تھی کہ حادثے کی اصل وجہ معلوم کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔ 😔 جہاز کا ملبہ دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ اسی دوران ایک ماہر کی نظر قریب کے درخت پر پڑی، جہاں ایک بندر سکون سے بیٹھا ہوا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اس کے گلے میں بھی ایئر لائن کا ٹیگ لٹک رہا تھا۔ 🐒 تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ بندر بھی اسی بدقسمت جہاز کا “مسافر” تھا۔ فوراً اسے پکڑ لیا گیا اور تفتیش کے لیے ایک اشاروں کی زبان کے ماہر کو بلایا گیا تاکہ بندر سے کچھ معلومات حاصل کی جا سکیں۔ 🤓 تفتیشی بورڈ نے ماہر کے ذریعے بندر سے پہلا سوال کیا:“حادثہ کتنے بجے ہوا…

Read more

‎ایک آدمی اپنے پیر صاحب کے پاس گیا اور عرض کی کہ مجھے طاقت دیں، اسمِ اعظم عطا کریں۔ اُنہوں نے فرمایا “ آج کا دن سیر و تفریح کر لو، کل دیکھیں گے۔”‎‎وہ شخص پھرتا پھراتا جنگل میں چلا گیا۔وہاں اس نے کیا دیکھا کہ ایک لکڑ ہارا لکڑیوں کا گٹھا اُٹھاۓ چلا آ رہا ہے۔ تھکا تھکا آیا۔ وہاں سے شہر کا کوتوال گزرا۔ اس نے کہا” بابا ! یہ لکڑیاں مجھے دے دو، مجھے ضرورت ہے۔” بوڑھے نے اُس سے معاوضہ مانگا۔ کوتوال نے کہا” تو مجھے نہیں جانتا، میں شہر کا کوتوال ہوں۔”‎بوڑھے نے کہا” کوتوال ضرور ہو گا مگر پیسے تو دو۔”قصہ کوتاہ، کوتوال نے بوڑھے کو مارا، پیسے بھی نہ دیےاور لکڑی بھی لے گیا۔‎‎بے چارہ مرید دوسرے دن پیر کے پاس گیا۔ انہوں نے پوچھا”تُم نے کیا دیکھا؟” مرید نے سارا واقعہ کہہ سُنایا ۔ اُنہوں نے دوبارہ فرمایا” اگر تمہارے پاس اَِسمِ…

Read more

ایک بادشاہ کہیں جا رہا تھا۔ راستے میں اس کی نظر ایک کمہار پر پڑی جو اپنے ساتھ بہت سے گدھے لے کر جا رہا تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ تمام گدھے ایک ہی قطار میں سیدھے چل رہے تھے۔ بادشاہ نے کمہار سے پوچھا:“تم ان گدھوں کو اس طرح سیدھی لائن میں کیسے رکھتے ہو؟” کمہار نے جواب دیا:“عالی پناہ! جو گدھا لائن توڑتا ہے، میں اسے سزا دیتا ہوں۔ اسی خوف کی وجہ سے باقی سب گدھے قطار میں چلتے رہتے ہیں۔” بادشاہ نے مزید پوچھا:“تم انہیں کس قسم کی سزا دیتے ہو؟” کمہار نے کہا:“گدھوں کی عادت ہوتی ہے کہ سیدھا چلنے کے لیے ان کی پیٹھ پر ایک خاص وزن ہونا چاہیے۔ اگر وزن کم ہو تو وہ اپنی راہ سے ہٹ جاتے ہیں۔لیکن بعض شریر گدھے مناسب وزن کے باوجود بھی لائن چھوڑ دیتے ہیں۔ ایسے گدھے کا وزن بطور سزا مزید بڑھا…

Read more

یہ ایک بہت سبق آموز کہانی ہے جو انسانی فطرت کے ایک تلخ پہلو کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک رحم دل اور کھلے دل والی مرغی جو بلا پوچھے دوسروں کی مدد کرنے کی عادی تھی—اسے ایک بار گھاس میں ایک ننھا سا زخمی سانپ ملا۔ وہ مرنے کے قریب تھا، اکیلا اور کانپ رہا تھا۔ سب کو یہی توقع تھی کہ مرغی اسے اپنی چونچ مار مار کر ختم کر دے گی۔لیکن اس نے اس کے برعکس کیا۔اس نے اسے نرمی سے اٹھایا۔اپنے گھونسلے میں لے آئی۔اسے اپنے چوزوں کے ساتھ لٹایا۔اسے گرم رکھنے کے لیے اپنے پروں میں چھپا لیا۔اور اسے کھانا کھلایا—تب بھی جب خوراک کی کمی تھی۔دوسرے جانوروں نے اسے خبردار کیا:“یاد رکھو، یہ ایک سانپ ہے!”مگر اس نے جواب دیا:“اگر میں اسے محبت سے پالوں گی، تو یہ محبت کرنا سیکھ جائے گا۔”اور یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔کیونکہ آپ کسی کو تپش…

Read more

رات گہری ہو چکی تھی۔دریائے ماریسا کا پانی سیاہی مائل اندھیرے میں خاموشی سے بہہ رہا تھا، جیسے آنے والے طوفان سے بے خبر ہو۔ سرد ہوا خیموں کے پردوں سے ٹکراتی تو شعلوں کی روشنی لرز جاتی۔ سربیائی لشکر کے خیمے دور تک پھیلے تھے—ایک ایسا سمندر جو اپنی کثرت پر نازاں تھا۔بادشاہ وکاشین اپنے خیمے میں نقشے پر جھکا کھڑا تھا۔“عثمانی؟” وہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بولا،“چند ہزار سپاہی… کل صبح سورج نکلنے سے پہلے سب قصہ تمام ہو جائے گا۔”اس کے برابر کھڑا یووان اوگلیشا لمحہ بھر کو خاموش رہا۔ باہر سپاہیوں کی ہنسی اور شراب کے جاموں کی آوازیں آ رہی تھیں۔“بھائی، دشمن کو کبھی کمزور نہ سمجھو…”وکاشین نے ہاتھ جھٹک دیا۔“ہم پچاس ہزار ہیں۔ وہ کیا کر لیں گے؟”دوسری طرف…کچھ ہی فاصلے پر، اندھیرے میں لپٹی عثمانی فوج خاموش کھڑی تھی۔کوئی شور نہیں، کوئی ہنسی نہیں۔صرف گھوڑوں کی مدھم سانسیں اور فولاد کی سرسراہٹ۔کمانڈر لالا…

Read more

ایک دفعہ پیٹو خان کے پڑوسی کے ہاں دعوت تھی مگر پیٹو خان کو وہاں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ وہ اس بات پر بہت اداس ہوئے اور کھانا کھانے کا کوئی نہ کوئی راستہ ڈھونڈنے لگے۔ انہوں نے ایک پرانی شیروانی پہنی، سر پر بڑی سی پگڑی باندھی اور ہاتھ میں ایک تسبیح پکڑ کر حکیم صاحب کا روپ دھار لیا۔ وہ سیدھے پڑوسی کے گھر پہنچ گئے جہاں مہمان جمع تھے۔لوگوں نے جب ایک اجنبی بزرگ کو دیکھا تو سمجھے کہ کوئی بڑے پہنچے ہوئے حکیم صاحب ہیں۔ پیٹو خان نے ایک صوفے پر ڈیرہ جمایا اور زور سے اعلان کیا کہ میں شہر کا مشہور حکیم ہوں اور میں صرف ان لوگوں کا علاج کرتا ہوں جو کھانا کھانے سے پہلے مجھ سے مشورہ کرتے ہیں۔میزبان نے ڈرتے ڈرتے پوچھا کہ حکیم صاحب آج کھانے میں کیا ہونا چاہیے جو صحت کے لیے مفید ہو۔ پیٹو خان…

Read more

قدیم یونان کے ایک چھوٹے سے جزیرے پر، ایک بوڑھا فلسفی رہتا تھا جس کا نام تھیوفراسٹوس تھا۔ وہ اپنی پوری زندگی تحقیق اور مراقبے میں گزاری تھی۔ جزیرے کے لوگ اکثر اسے پاگل سمجھتے، کیونکہ وہ بازار یا جشن میں شریک نہیں ہوتا، اور کبھی کبھار دنوں تک دریا کے کنارے بیٹھا رہتا۔ ایک دن، جزیرے پر ایک طوفان آیا۔ دریا کا پانی بلند ہوا، ہوا نے گھروں کی چھتیں اُڑائیں، اور لوگ خوف سے چیخنے لگے۔ سب لوگ پناہ کے لیے پہاڑوں کی طرف بھاگے، مگر تھیوفراسٹوس دریا کے کنارے بیٹھا رہا۔ لوگ حیران ہوئے کہ وہ کیوں نہیں بھاگ رہا۔ ایک نوجوان اس کے پاس آیا اور پوچھا:“بوڑھے، تمہیں نہیں ڈر لگ رہا؟ پانی سب کچھ لے جائے گا!” تھیوفراسٹوس نے آہستہ سے کہا:“پانی اور طوفان باہر کی حقیقت ہیں۔ اصل امتحان انسان کے اندر ہے۔ تم ڈر کی لہروں سے لڑو گے یا ان میں غرق…

Read more

12/12
NZ's Corner