بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

‎ایک آدمی اپنے پیر صاحب کے پاس گیا اور عرض کی کہ مجھے طاقت دیں، اسمِ اعظم عطا کریں۔ اُنہوں نے فرمایا “ آج کا دن سیر و تفریح کر لو، کل دیکھیں گے۔”

‎وہ شخص پھرتا پھراتا جنگل میں چلا گیا۔وہاں اس نے کیا دیکھا کہ ایک لکڑ ہارا لکڑیوں کا گٹھا اُٹھاۓ چلا آ رہا ہے۔ تھکا تھکا آیا۔ وہاں سے شہر کا کوتوال گزرا۔ اس نے کہا” بابا ! یہ لکڑیاں مجھے دے دو، مجھے ضرورت ہے۔” بوڑھے نے اُس سے معاوضہ مانگا۔ کوتوال نے کہا” تو مجھے نہیں جانتا، میں شہر کا کوتوال ہوں۔”
‎بوڑھے نے کہا” کوتوال ضرور ہو گا مگر پیسے تو دو۔”قصہ کوتاہ، کوتوال نے بوڑھے کو مارا، پیسے بھی نہ دیےاور لکڑی بھی لے گیا۔

‎بے چارہ مرید دوسرے دن پیر کے پاس گیا۔ انہوں نے پوچھا”تُم نے کیا دیکھا؟” مرید نے سارا واقعہ کہہ سُنایا ۔ اُنہوں نے دوبارہ فرمایا” اگر تمہارے پاس اَِسمِ اعظم ہوتا تو تم کیا کرتے۔” کہنے لگا” میں یہ ظلم نہ ہونے دیتا۔”
‎فرمایا “ بات سُنو ! وہ جو بوڑھا لکڑ ہارا ہے وہ میرا پیر ہے اور میں نے اِسمِ اعظم اس سے لیا ہے۔”

‎۔۔۔۔۔ حضرت واصف علی واصف رح

‎( کتاب؛۔ گفتگو 3 )


Leave a Reply

NZ's Corner