قدیم زمانے میں ایک بادشاہ تھا۔ وہ بہت ظالم تھا۔ اس نے لوگوں پر ظلم ڈھائے ہوئے تھے، ان کا مال چھین لیا تھا، انہیں جیلوں میں ڈال رکھا تھا۔ اس کی فوج مضبوط تھی، اس کا خزانہ بھرا ہوا تھا، لیکن اس کا دل خالی تھا۔
لوگ اس سے ڈرتے تھے۔ کوئی اس کے سامنے سچ نہیں بول سکتا تھا۔
ایک دن بادشاہ کے وزراء نے کہا: “بادشاہ سلامت! آپ کی طاقت بے پناہ ہے۔ لیکن آپ کے پاس وہ چیز نہیں جو سب سے بڑی طاقت ہے۔”
بادشاہ نے پوچھا: “وہ کیا ہے؟”
وزیر نے کہا: “سچ۔”
بادشاہ ہنسا۔ “سچ؟ میں سچ نہیں جانتا؟ میں بادشاہ ہوں۔ جو میں کہوں وہ سچ ہے۔”
وزیر نے کہا: “نہیں، بادشاہ سلامت۔ آپ جو کہتے ہیں وہ حکم ہے، سچ نہیں۔ سچ وہ ہے جو آپ سے پہلے بھی تھا، آپ کے بعد بھی رہے گا۔ سچ کا حکم کوئی نہیں دے سکتا۔”
بادشاہ کو غصہ آیا۔ اس نے کہا: “تو مجھے بتا، دنیا میں سب سے بڑا سچ کیا ہے؟ اگر تیرے پاس جواب ہے تو جا، ورنہ تیرا سر قلم کر دوں گا۔”
وزیر خاموش ہو گیا۔ اس کے پاس جواب نہیں تھا۔
بادشاہ نے پورے ملک میں اعلان کرا دیا: “جو مجھے دنیا کا سب سے بڑا سچ بتا دے گا، اسے آدھی سلطنت دوں گا۔ جو جھوٹ بولے گا، اسے موت ملے گی۔”
بہت سے لوگ آئے۔ ہر کوئی کچھ نہ کچھ کہہ گیا۔ کسی نے کہا: “سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ انسان کو مرنا ہے۔” کسی نے کہا: “سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ دولت ختم ہو جاتی ہے۔” کسی نے کہا: “سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ محبت ہی سب کچھ ہے۔”
بادشاہ کو کوئی جواب پسند نہ آیا۔
آخر ایک بوڑھا درویش آیا۔ وہ بہت بوڑھا تھا، اس کی داڑھی سفید تھی، اس کی آنکھوں میں نور تھا۔
بادشاہ نے کہا: “تو کیا جواب لے کر آیا ہے؟”
درویش نے کہا: “بادشاہ! میں تمہیں سچ بتاؤں گا۔ لیکن تم نے وعدہ کیا ہے کہ جو سچ بتائے گا، اسے آدھی سلطنت دو گے۔”
بادشاہ بولا: “ہاں، میں بادشاہ ہوں، میرا وعدہ پکا ہے۔”
درویش نے کہا: “پہلے آدھی سلطنت دے دو۔ پھر سچ بتاؤں گا۔”
بادشاہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ لیکن اس نے اپنا وعدہ یاد کیا۔ اس نے آدھا تاج اتار کر درویش کے سامنے رکھ دیا۔ “لے، اب بتا۔”
درویش نے تاج اٹھایا، اسے دیکھا، پھر بادشاہ کی طرف پھینک دیا۔ تاج بادشاہ کے پاؤں میں جا لگا۔
بادشاہ کھڑا ہو گیا۔ “یہ کیا ہے؟ تو میرا مذاق اڑا رہا ہے؟”
درویش نے کہا: “بادشاہ! یہی سب سے بڑا سچ ہے۔ جو چیز آج تمہارے سر پر تھی، کل کسی اور کے پاؤں میں ہو سکتی ہے۔ جو چیز آج تمہاری ہے، کل کسی اور کی ہو سکتی ہے۔ تمہاری طاقت، تمہارا تاج، تمہارا لشکر یہ سب عارضی ہے۔”
بادشاہ نے کہا: “یہ تو میں جانتا ہوں۔ اس میں نیا کیا ہے؟”
درویش نے کہا: “تم جانتے ہو، لیکن تم مانتے نہیں۔ تم جانتے ہو کہ سب کچھ عارضی ہے، پھر بھی تم ظلم کرتے ہو۔ جانتے ہو کہ تمہیں ایک دن مرنا ہے، پھر بھی تم لوگوں کی جانیں لیتے ہو۔ یہی تمہاری جہالت ہے۔”
بادشاہ خاموش رہا۔
درویش بولا: “سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ کچھ بھی تمہارا نہیں ہے۔ نہ تخت، نہ تاج، نہ سلطنت۔ تم تو ایک مسافر ہو جو کچھ دنوں کے لیے ٹھہرا ہے۔ اور جو مسافر ہو، وہ مسافروں پر ظلم نہیں کرتا۔”
بادشاہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے درویش کے پاؤں چھوئے۔ “مجھے معاف کر دے۔ میں نے سچ سنا، لیکن میں نے پہچانا نہیں۔ اب میں پہچان گیا۔”
اس نے درویش سے کہا: “آدھی سلطنت تو میں نے دے دی۔ اب پوری سلطنت لے لو۔ میں بادشاہ نہیں رہنا چاہتا۔”
درویش مسکرایا۔ “بادشاہ! میں نے سلطنت نہیں مانگی تھی۔ میں نے سچ مانگا تھا۔ اور وہ سچ تم نے دے دیا کہ کچھ بھی تمہارا نہیں ہے۔ یہی سچ تمہیں بادشاہ رہنے دے گا، اور بادشاہ نہ رہنے کا غم بھی نہیں ہو گا۔”
بادشاہ نے سچ مان لیا۔ اس نے ظلم چھوڑ دیا۔ اس نے قیدیوں کو رہا کر دیا، لوگوں کا مال واپس کر دیا، اور انصاف سے راج کرنے لگا۔
لوگوں نے پوچھا: “بادشاہ! تم کیوں بدل گئے؟”
اس نے کہا: “میں نہیں بدلا۔ میں نے سچ پہچان لیا۔ سچ بدلنا نہیں چاہتا، سچ بس سننا چاہتا ہے۔”
اخلاقی سبق:
یہ کہانی سچ کی طاقت کے بارے میں ہے۔ بادشاہ کی طاقت بے پناہ تھی، لیکن وہ سچ نہیں جانتا تھا۔ درویش نے اسے سچ بتایا کہ کچھ بھی اس کا نہیں ہے۔ یہ سچ سن کر بادشاہ بدل گیا۔
سچ کی دو قسمیں ہوتی ہیں وہ جو ہم جانتے ہیں، اور وہ جو ہم مانتے ہیں۔ بادشاہ جانتا تھا کہ سب کچھ عارضی ہے، لیکن وہ اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔ جب اس نے سچ کو مان لیا، تو وہ بدل گیا۔
سچ کو جاننا اور سچ کو ماننا دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
حوالہ:
یہ کہانی بدھ مت کی تعلیمات سے ماخوذ ہے۔ اسے “The King and the Truth” یا “The Greatest Truth” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بدھ مت کی روایت میں “سچ” (Truth) کو سب سے بڑی طاقت بتایا گیا ہے۔ یہ کہانی جتاک کہانیوں (Jataka Tales) کے کسی نسخے میں بھی ملتی ہے، جہاں بدھ مت کی تعلیمات کو کہانیوں کے ذریعے بیان کیا گیا ہے۔
یہ کہانی بتاتی ہے کہ حقیقی بادشاہ وہ نہیں جس کے پاس تاج ہو، بلکہ وہ ہے جو سچ کو پہچانے اور اس پر عمل کرے۔
