ایک بادشاہ تھا۔ اس کی ایک بیٹی تھی شہزادی، بہت خوبصورت، بہت نرم مزاج۔ بادشاہ اس سے بے حد محبت کرتا تھا۔ وہ اس کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا۔
ایک دن شہزادی بیمار ہو گئی۔ بخار تھا، کمزوری تھی، وہ بستر سے اٹھ نہیں پا رہی تھی۔ بادشاہ نے ملک کے سب ڈاکٹر بلوائے۔ ہر ڈاکٹر نے کچھ نہ کچھ دوا دی، کوئی فائدہ نہ ہوا۔ شہزادی کا بخار نہیں اتر رہا تھا۔
بادشاہ پریشان تھا۔ اس نے کہا: “جو میرے بیٹی کا علاج کر دے گا، اسے آدھی سلطنت دوں گا۔”
دور دراز سے حکیم آئے، جادوگر آئے، پیر آئے۔ سب نے کچھ نہ کچھ کیا، لیکن شہزادی کی طبیعت بگڑتی جا رہی تھی۔
آخر ایک بوڑھی عورت آئی۔ اس نے کہا: “بادشاہ! تمہاری بیٹی کی بیماری کا علاج صرف ایک چیز ہے کوئی ایسا شخص جو اس سے سچی محبت کرتا ہو، اس کے لیے اپنی جان دے سکتا ہو۔ اگر کوئی اس کے لیے تین راتیں جاگے، اس کے پاس بیٹھے، اس کا ہاتھ تھامے، تو وہ ٹھیک ہو جائے گی۔ لیکن اگر وہ شخص ایک رات بھی سو گیا، تو بیماری پھر سے آ جائے گی اور شہزادی مر جائے گی۔”
بادشاہ نے پوچھا: “ایسا شخص کون ہو سکتا ہے؟”
بوڑھی نے کہا: “یہ تمہیں ڈھونڈنا ہے۔”
بادشاہ نے پورے ملک میں اعلان کرا دیا۔ بہت سے نوجوان آئے شہزادے، امیروں کے بیٹے، سپاہی، عام آدمی۔ سب کہتے تھے: “میں شہزادی سے محبت کرتا ہوں۔ میں اس کے لیے جاگ سکتا ہوں۔”
بادشاہ نے پہلے نوجوان کو اندر بھیجا۔ وہ شہزادی کے پاس بیٹھ گیا۔ پہلی رات وہ جاگتا رہا۔ دوسری رات وہ جاگتا رہا۔ تیسری رات آدھی رات کے بعد اس کی آنکھ لگ گئی۔ صبح شہزادی پہلے سے زیادہ بیمار تھی۔
دوسرا نوجوان آیا۔ وہ پہلی رات جاگا، دوسری رات جاگا، تیسری رات تھک گیا اور سو گیا۔ شہزادی پھر بیمار ہو گئی۔
تیسرا، چوتھا، پانچواں سب نے کوشش کی، سب تیسری رات سو گئے۔
بادشاہ مایوس ہو گیا۔ اس نے کہا: “کوئی بھی سچی محبت نہیں کرتا۔ سب کے دل میں اپنی نیند زیادہ قیمتی ہے۔”
شہر کے کنارے ایک غریب لڑکا رہتا تھا۔ اس کا نام ہانس تھا۔ وہ شہزادی کو کبھی نہیں ملا تھا، لیکن وہ اس کی تصویر دیکھ کر اس سے محبت کر بیٹھا تھا۔ وہ ہر روز محل کے باہر کھڑا ہو کر شہزادی کے کمرے کی کھڑکی دیکھتا۔
جب اس نے سنا کہ شہزادی بیمار ہے اور سب ناکام ہو رہے ہیں، تو وہ محل گیا۔
بادشاہ نے اسے دیکھا تو کہا: “تو کون ہے؟ ایک بھکاری؟”
ہانس نے کہا: “بادشاہ! مجھے شہزادی سے محبت ہے۔ میں اس کے لیے تین راتیں جاگ سکتا ہوں۔”
بادشاہ ہنسا۔ “تیرے جیسے کتنے آ چکے ہیں۔ سب نے یہی کہا، سب سو گئے۔”
ہانس نے کہا: “مجھے موقع دے دو۔ اگر میں سو گیا تو مجھے موت دے دینا۔”
بادشاہ نے اسے موقع دے دیا۔
ہانس شہزادی کے کمرے میں گیا۔ وہ اس کے بستر کے پاس بیٹھ گیا۔ اس نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
پہلی رات وہ جاگتا رہا۔ اس نے شہزادی کو دیکھا، اس کے چہرے کو دیکھا، اس کی سانسوں کو سنا۔ وہ سوچتا رہا: “یہ وہ ہے جسے میں نے کھڑکی سے دیکھا تھا۔ یہ وہ ہے جس کے لیے میرا دل دھڑکتا ہے۔”
دوسری رات وہ تھک گیا تھا، لیکن وہ جاگتا رہا۔ اس نے اپنی آنکھیں کھلی رکھنے کے لیے پانی چھڑکا۔ اس نے اپنے ہاتھ کو چٹکیاں دیں۔ اس نے شہزادی کا نام لے کر باتیں کیں۔
تیسری رات اس کا جسم تھک چکا تھا، اس کی آنکھیں بھاری ہو گئی تھیں۔ اسے لگا جیسے کوئی اسے نیند کی طرف کھینچ رہا ہے۔ اس نے اپنی ران پر چھری رکھ دی۔ جب بھی اس کی آنکھ لگتی، چھری چبھتی، وہ جاگ جاتا۔
آخری گھنٹے میں اس کا سر جھک گیا۔ اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ اس نے شہزادی کا ہاتھ اپنے سینے سے لگا لیا اور کہا: “اگر میں مر گیا تو بھی ٹھیک ہے۔ کم از کم تیرا ہاتھ میرے سینے پر رہے گا۔”
وہ سو گیا۔
لیکن سورج نکل چکا تھا۔ تیسری رات پوری ہو چکی تھی۔ صبح ہو چکی تھی۔
شہزادی نے آنکھ کھولی۔ اس کا بخار اتر چکا تھا۔ اس کے گالوں پر رنگ آ گیا تھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک نوجوان اس کا ہاتھ تھامے سو رہا ہے۔ اس کی ران پر چھری تھی، اس کے ہاتھ زخمی تھے، اس کے چہرے پر تھکاوٹ تھی۔
شہزادی نے دوسرا ہاتھ بڑھایا اور اس کے سر پر رکھ دیا۔
ہانس جاگ گیا۔ اس نے دیکھا کہ شہزادی اسے دیکھ رہی ہے — مسکرا رہی ہے۔
“تم ٹھیک ہو گئیں؟” اس نے پوچھا۔
“ہاں،” شہزادی نے کہا۔ “تم نے میری جان بچائی۔”
بادشاہ نے ہانس سے پوچھا: “بتاؤ، تو نے کیسے جاگے رکھا؟ دوسرے سب سو گئے۔ تو نے کیا کیا؟”
ہانس نے کہا: “میں نے کچھ خاص نہیں کیا۔ بس میں جانتا تھا کہ اگر میں سو گیا تو وہ مر جائے گی۔ اور میں یہ نہیں چاہتا تھا۔”
بادشاہ نے کہا: “دوسرے بھی تو یہی چاہتے تھے۔”
ہانس نے کہا: “نہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ شہزادی ٹھیک ہو جائے، لیکن وہ اپنی نیند بھی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ میں جانتا تھا کہ اگر میں سو گیا تو وہ مر جائے گی تو میرے لیے نیند ہی ختم ہو گئی۔ جب کسی کے لیے نیند ہی ختم ہو جائے، تو کوئی نہیں سو سکتا۔”
بادشاہ نے اسے گلے لگا لیا۔ اس نے شہزادی کا ہاتھ ہانس کے ہاتھ میں رکھ دیا۔
اخلاقی سبق:
یہ کہانی سچی محبت کی ہے — وہ محبت جو اپنی خواہش کو مٹا دیتی ہے۔ دوسرے نوجوان شہزادی سے محبت کرتے تھے، لیکن اپنی نیند سے بھی محبت کرتے تھے۔ ان کے دل میں دو محبتیں تھیں — ایک شہزادی کے لیے، ایک اپنے آرام کے لیے۔ جب دونوں ٹکرائے تو آرام جیت گیا۔
ہانس کے دل میں صرف ایک محبت تھی۔ اس کے لیے شہزادی کی زندگی اس کی اپنی نیند سے زیادہ قیمتی تھی۔ اور جب کسی کے لیے کچھ سب سے زیادہ قیمتی ہو جائے، تو باقی سب چیزیں بے وزن ہو جاتی ہیں۔
حوالہ:
یہ کہانی جرمن لوک کہانیوں کے مجموعے “گریمز فیری ٹیلز” (Grimm’s Fairy Tales) میں شامل ہے۔ اس کا جرمن عنوان “Die drei Männer im Walde” ہے، لیکن یہ خاص نسخہ محبت اور قربانی کی کہانی کے طور پر مشہور ہے۔ برادران گریم (جیکب اور ولہلم گریم) نے 19ویں صدی میں یورپ کی لوک کہانیوں کو جمع کیا تھا۔ یہ کہانی بتاتی ہے کہ سچی محبت کا مطلب ہے اپنی خواہش کو دوسرے کی خواہش پر قربان کر دینا۔
