Tag Archives: urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge

شہر کے امیر ترین تاجروں میں حاجی سلیم کا شمار ہوتا تھا۔ اس کے پاس بڑی بڑی دکانیں، کئی مکان اور وسیع زمینیں تھیں۔ مگر بڑھاپے میں وہ اکثر ایک ہی بات سوچ کر پریشان رہتا تھا کہ اس کی اتنی بڑی دولت کا صحیح وارث کون ہوگا۔ اس کے تین بیٹے تھے: بڑا بیٹا کامران، دوسرا بیٹا عمران اور سب سے چھوٹا بیٹا فہد۔ایک دن حاجی سلیم شدید بیمار پڑ گیا۔ ڈاکٹروں نے صاف بتا دیا کہ اب اس کی زندگی زیادہ دن کی مہمان نہیں۔ یہ خبر سن کر تینوں بیٹے اس کے بستر کے پاس جمع ہو گئے۔ حاجی سلیم نے کمزور آواز میں کہا:“بیٹو! میں نے ساری زندگی محنت کر کے یہ دولت کمائی ہے۔ مگر میں چاہتا ہوں کہ میری جائیداد ایسے بیٹے کو ملے جو انسانوں کی قدر جانتا ہو۔”تینوں بیٹے حیران ہو کر باپ کی طرف دیکھنے لگے۔حاجی سلیم نے مزید کہا: “میری…

Read more

عرب بدو اپنے اونٹوں کو زمین پر بٹھا کر ایک ٹانگ گھٹنے کے ساتھ باندھ دیتے تھے۔ جب ٹانگ اس طرح بندھتی تو وہ انگریزی حرف “V” کی شکل اختیار کر لیتی۔اونٹ اس حالت میں کھڑے ہوتے تو تین ٹانگیں زمین پر ہوتیں اور چوتھی ٹانگ ہوا میں معلق رہتی۔ اس حالت میں وہ کھا پی سکتے، لیٹ سکتے، مگر بھاگ نہیں سکتے تھے۔ بدو اس رسی کو جس سے اونٹ کی ٹانگ باندھتے تھے، اپنی زبان میں “عقل” کہتے تھے۔ یعنی عقل دراصل ایک ایسی رسی تھی جو اونٹ کی بے قابو حرکت کو روکنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔یہی لفظ بعد میں انسانی رویے کے ایک اہم پہلو کی علامت بن گیا۔ جب ہم کسی سے کہتے ہیں “عقل کرو” تو اصل میں مطلب یہ ہوتا ہے: رک جاؤ، ٹھنڈا ہو جاؤ، جذبات پر قابو پاؤ، اپنی حالت کا جائزہ لو، اور حالات کے مطابق سمجھداری سے فیصلہ…

Read more

ایک بار شیخ چلی کو کسی نے کہہ دیا کہ شہر کے باہر والے جنگل میں ایک بہت بڑا شیر رہتا ہے جو لوگوں کو ڈراتا ہے۔ شیخ نے سوچا، “اگر میں اس شیر کو پکڑ لوں، تو پورا شہر مجھے اپنا ہیرو مان لے گا، اور بادشاہ سلامت مجھے انعام میں ڈھیروں سونا دیں گے۔”شیخ چلی ایک لمبی لاٹھی لے کر جنگل کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں اسے ایک پرانا ٹوٹا ہوا آئینہ ملا۔ اس نے اسے جیب میں ڈال لیا۔تھوڑی دور جا کر کیا دیکھتا ہے کہ ایک جھاڑی کے پیچھے سے شیر کے غرانے کی آواز آ رہی ہے۔ شیخ چلی کی تو سٹی گم ہو گئی۔ لیکن پھر اسے اپنی “بہادری” یاد آئی۔ اس نے ہمت کی، جیب سے وہ آئینہ نکالا اور اسے جھاڑی کی طرف کر کے خود ایک پیڑ کے پیچھے چھپ گیا۔شیر باہر نکلا، اس نے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔…

Read more

In ancient times, a wrestler was very skilled in his art. He would defeat any wrestler who came to compete with him. Therefore, the king respected him very much because of his ability and skill. This famous wrestler taught or used to teach the art of wrestling to many young people. He made one of these young people his special disciple and taught him all the tricks that he knew. As a precaution, he taught him only one trick. Time passed like this. The famous wrestler must have been old and his favorite disciple became the greatest wrestler of his time. The requirement of nobility was that he would acknowledge the favor of his teacher that he had taught him his skill and made him so capable, but he was so bad-natured that one day he boasted in the king’s court that indeed my teacher is greater than me in…

Read more

کہتے ہیں کہ حضرت بشر حافی رحمہ اللہ علیہ سے سارا زمانہ پیار کرتا تھا۔ بغداد کا ہر شخص ان کی عزت کرتا تھا۔ ایک شخص نے کہا: “بابا! تمہارا  بابا مجھے اچھا نہیں لگتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ بابا نہ صرف فرض مسجد میں پڑھتے تھے  باقی نماز  مسجد میں  نہیں پڑھتے تھے۔ ۔اایک دن جمعہ کی نماز کے بعد میں نے سوچا کہ آج ان کا پیچھا کروں اور دیکھوں کہ یہ کیا کرتے ہیں۔ اسلام میں سنتوں کی بہت تاکید ہے۔ میں فرض پڑھ کر نکل گیا، پیچھے رہ گیا۔ میں نے کہا آج سنت اور نفل چھوڑ دوں، دیکھوں کیا ہوتا ہے۔حضرت بشر حافی جلدی مسجد سے نکلے، کباب کی دکان پر گئے، کباب خریدا۔ میں نے سوچا اس عمر میں بھی کباب کھائے گا؟ اوہ مولوی کو روٹی نے ستایا ہے، اس لیے سنت اور نفل چھوڑ دیا۔آگے بڑھے تو نان بائی کی دکان سے…

Read more

بہت پرانے زمانے میں ایک غلام تھا جس کا نام اینڈروکلیز (Androcles) تھا۔ وہ ایک ظالم مالک کے پاس رہتا تھا جو اسے ہر وقت سخت کام کرواتا اور ذرا سی غلطی پر بھی سزا دیتا تھا۔ آخرکار ایک دن اینڈروکلیز اس ظلم سے تنگ آ کر جنگل کی طرف بھاگ گیا تاکہ کہیں آزادی کی زندگی گزار سکے۔ وہ کئی دن تک جنگل میں بھٹکتا رہا۔ ایک دن جب وہ درخت کے نیچے آرام کر رہا تھا تو اچانک اس نے درد بھری دھاڑ سنی۔ وہ گھبرا گیا، مگر آواز میں ایسی تکلیف تھی کہ وہ احتیاط سے اس سمت بڑھا۔ وہاں اس نے ایک شیر دیکھا۔ شیر زخمی تھا اور اس کے پنجے میں ایک بڑا کانٹا چبھ گیا تھا۔ شیر درد سے کراہ رہا تھا۔ اینڈروکلیز پہلے تو ڈر گیا، مگر پھر اس کے دل میں رحم آ گیا۔ وہ آہستہ آہستہ شیر کے قریب گیا۔ شیر…

Read more

کہتے ہیں کہ لکھنؤ میں ایک استاد صاحب بڑی ثقیل قسم کی اردو بولا کرتے تھے اور اپنے شاگردوں کو بھی یہی نصیحت کرتے تھے کہ جب بات کرنی ھو تو تشبیہات, استعارات, محاورات اور ضرب الامثال سے آراستہ پیراستہ اردو زبان استعمال کیا کرو.. ایک بار دورانِ تدریس یہ استاد صاحب حقہ پی رھے تھے. انہوں نے جو زور سے حقہ گڑگڑایا تو اچانک چلم سے ایک چنگاری اڑی اور استاد جی کی پگڑی پر جا پڑی. ایک شاگرد اجازت لے کر کھڑا ہوا اور بڑے ادب سے گویا ھوا: “حضور والا…! یہ بندہ ناچیز، حقیر، فقیر، پر تقصیر، ایک روح فرسا حقیقت حضور کے گوش گزار کرنے کی جسارت کر رہا ھے۔ وہ یہ کہ آپ لگ بھگ نصف گھنٹہ سے حقہ نوشی ادا فرما رہے ہیں۔ چند ثانیے قبل میری چشمِ نارسا نے ایک اندوہناک منظر کا مشاہدہ کیا کہ ایک شرارتی آتشیں پتنگا آپ کی چلم…

Read more

سلطان محمد تغلق(متوفی ۷۵۲ھ) ہندوستان کا مشہور بادشاہ ہے جو ہندوستان کی تاریخ میں اپنی سطوت اور خوں ریزی میں بہت مشہور ہے، ایک مرتبہ وہ صوفی بزرگ حضرت شیخ قطب الدین منورؒ کی رہائش گاہ کے قریب سے گزرا، حضرت قطب صاحب رحمۃ اللہ علیہ اپنی جگہ بیٹھے رہے اور اس کے استقبال کے لئے باہر نہیں نکلے، سلطان کو یہ بات بہت ناگوار گذری اور اس نے باز پرس کے لیے حضرت قطب صاحبؒ کو اپنے دربار میں طلب کرلیا۔ حضرت دربار میں داخل ہوئے تو ملک کے تمام بڑے بڑے امراء، وزراء اور فوجی افسر بادشاہ کے سامنے مسلح ہوکر دو رویہ کھڑے تھے۔ دربار کے رعب داب کا عالم یہ تھا کہ لوگوں کے کلیجے پگھلے جارہے تھے۔ حضرت قطب صاحبؒ کے ساتھ ان کے نوعمر صاحبزادے نورالدینؒ بھی تھے، انھوں نے اس سے قبل کبھی بادشاہ کا دربار نہیں دیکھا تھا۔ ان پر یہ پُر…

Read more

ایک شہر میں عاقب نام کا ایک لالچی اور کم عقل سوداگر رہتا تھا۔ عاقب ہمیشہ دوسروں پر اپنی ذہانت کا رعب ڈالنا پسند کرتا، حالانکہ اس کی سوچ بہت سطحی تھی۔عاقب کے پاس ایک پرانا مگر تجربہ کار اونٹ تھا، جس کا نام ‘صابر’ تھا۔ صابر نے کئی سالوں تک عاقب کے ساتھ دور دراز کے سفر کیے تھے اور صحرا کے تمام مزاج جانتا تھا۔ایک دن عاقب کو ایک طویل اور خطرناک صحرائی سفر پر جانا تھا۔ جانے سے پہلے، وہ اپنی ہوشیاری دکھانے کے لیے گاؤں کے چوک میں اونٹ کو خوب سجا کر کھڑا ہوا اور لوگوں کو بڑے فخر سے بتا رہا تھا کہ اس نے اپنے “خاص علم” سے اندازہ لگا لیا ہے کہ سفر آسان رہے گا۔ایک بزرگ، جو عاقب کی حرکتوں سے واقف تھے، نے پوچھا:“بیٹا، تم تو سارا علم اپنے دماغ میں رکھتے ہو، تمہارا اونٹ صابر سفر کے بارے میں…

Read more

_سب سے بڑا اندھا کون؟_ ایک دن شہنشاہ اکبر کے دربار میں اس بات پر بحث چھڑ گئی کہ دنیا میں نیک لوگ زیادہ ہیں یا بدکار۔ بات سے بات نکلی تو اکبر نے ایک عجیب سوال کر دیا: “بیربل! کیا تم بتا سکتے ہو کہ ہماری سلطنت میں دیکھنے والے لوگ زیادہ ہیں یا اندھے؟” درباریوں نے فوراً کہا کہ ظاہر ہے دیکھنے والے زیادہ ہیں۔ لیکن بیربل مسکرائے اور بولے، “عالم پناہ! میرا اندازہ ہے کہ اس شہر میں اندھوں کی تعداد دیکھنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔” اکبر کو یہ بات عجیب لگی۔ انہوں نے کہا، “بیربل، یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ کیا تم اسے ثابت کر سکتے ہو؟” بیربل نے حامی بھر لی۔ اگلے دن بیربل شہر کے بیچوں بیچ ایک چوراہے پر جا کر بیٹھ گئے اور ایک پرانا جوتا گانٹھنے (سینے) لگے۔ ان کے پاس ایک کاغذ اور قلم بھی تھا جس پر…

Read more

وہ دیہاتی علاقے کا ایک تھانہ تھا۔ تھانہ خاصے بڑے گاؤں میں تھا۔ مجھے اس تھانے میں تعینات کیا گیا تھا۔ میں نے سرکاری کاغذات سنبھالتے ہوئے زرگل خان کو غور سے دیکھا۔ ایک پٹھان سب انسپکٹر، جس کی مونچھوں میں ابھی تک وہ اکڑ تھی جو سرکاری ملازمت کی پہلی تنخواہ سے بنتی ہے، مگر آنکھوں میں وہ چمک نہیں تھی۔ آنکھیں گہری کھائیوں میں گر چکی تھیں۔ “کیا واقعی چڑیل کا قصہ ہے؟” میں نے پوچھا۔ زرگل خان نے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔ “صاحب، میں نے سولہ سال نہیں، سولہ جنگیں لڑی ہیں۔ خیبر سے لے کر کراچی تک ہر قسم کا انسان دیکھا۔ لیکن یہ جو کچھ ہو رہا ہے…” اس کی آواز بیچ میں ٹوٹ گئی۔ تھانے کے عقبی حصے میں رات کی ڈیوٹی پر مامور کانسٹیبل بشیر احمد بیٹھا تھا۔ وہ لرز رہا تھا، اور اس کی انگلیاں بار بار کانوں کو چھو رہی…

Read more

اﯾﮏ ﺩﺭﻭﯾﺶ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻓﮧ ﺳﮯ ﻣﮑﮧ ﻣﮑﺮﻣﮧ ﮐﮯ ﺍﺭﺍﺩﮮ ﺳﮯ ﭼﻼ ۔ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺧﻮﺍﺹ ‏( ﺭﺡ ‏) ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﻣﯿﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭ ۔ ﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ، ﺁﭖ ﺍﻣﯿﺮ ﺑﻨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎنبرﺩﺍﺭ، ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﮔﺮ ﻓﺮﻣﺎنبرﺩﺍﺭ ﺑﻨﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﺴﯽ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ۔ ﯾﮩﯽ ﮨﻮﮔﺎ۔ ﺟﺐ ﮨﻢ ﻣﻨﺰﻝ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺅ ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﻨﻮﯾﮟ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﮭﯿﻨﭽﺎ ﺟﻮ ﺑﮩﺖ ﺳﺮﺩ ﺗﮭﺎ ﭘﮭﺮ ﻟﮑﮍﯾﺎﮞ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﺁﮒ ﺟﻼﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﮔﺮﻡ ﮐﯿﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﺎﻡ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺴﺎﺭﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﻭﮦ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺅ ۔ ﻓﺮﻣﺎﻧﺒﺮﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﺷﺮﻁ ﮐﻮ ﻣﻠﺨﻮﻅ ﺭﮐﮭﻮ ۔…

Read more

غلہ منڈی کے چند آڑھتیوں نے حج کا ارادە کیا۔ سفر طویل اور دشوار تھا لہٰذاطے ہوا کہ ایک خدمتگار کو بھی ہمراە لے لیا جائے۔ سامنے کھڑی گاڑی سے پانڈی اناج کی بوریاں اتار کر گودام میں پہنچا رہے تھے۔ ان میں دین محمد بھی تھاجو ادھیڑ عمر باریش اور جفا کش تھا۔ نظر انتخاب اس پر پڑی۔اسے بلا کر دریافت کیا کہ آیا وە حج کے لئے ان کے ساتھ جانے کو تیار تھا۔اس غیر متوقع پیشکش پر پہلے تو اسے یقین ہی نہ آیا پھر بولا کہ وە حج کے اخراجات برداشت کرنے کے قابل نہ تھا۔ آڑھتیوں نے کہا کہ تھوڑا بہت انتظام وە کر لے باقی رقم سب حضرات مل کر ادا کر دیں گے۔یوں دین محمد کا بلاوە آ گیا۔قصہ مختصر کہ ان لوگوں کا قافلہ حجاز مقدس پہنچ گیا۔ دین محمد سیدھا سادھا اور صاف دل آدمی تھا۔ سارا دن ہمراہیوں کی خدمت…

Read more

قرونِ وسطیٰ کے جرمنی میں، جہاں قانون اور انصاف کے فیصلے اکثر انسانی طاقت اور قسمت پر چھوڑ دیے جاتے تھے، ایک ایسی روایت موجود تھی جو آج کے انسان کے لیے ناقابلِ یقین لگتی ہے۔ یہ روایت تھی ازدواجی جنگ — ایک ایسا مقابلہ جس میں شوہر اور بیوی اپنے تنازع کا فیصلہ عدالت کے بجائے میدانِ جنگ میں کرتے تھے۔ اس رسم کو جرمن زبان میں Trial by Combat کہا جاتا تھا، اور یہ صرف دشمنوں کے درمیان نہیں، بلکہ میاں بیوی کے درمیان بھی استعمال ہوتی یہ کوئی عام لڑائی نہیں ہوتی تھی۔اس کے اصول عجیب بھی تھے اور خوفناک بھی۔ شوہر کو ایک گہرے گڑھے میں کھڑا کیا جاتا تھا، اتنا گہرا کہ وہ باہر نہ نکل سکے۔ اس کا ایک ہاتھ اس کی پشت کے پیچھے باندھ دیا جاتا تھا، تاکہ وہ مکمل طاقت استعمال نہ کر سکے۔ دوسری طرف، بیوی میدان میں آزاد کھڑی…

Read more

بشیر صاحب کے گھر میں اس وقت صف ماتم بچھ گئی جب پپو میاں نے اعلان کیا کہ وہ اب دنیا داری چھوڑ کر روحانیت کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔ وجہ کوئی خاص نہیں تھی، بس پپو میاں لگاتار تین نوکریوں کے انٹرویو میں فیل ہوئے تھے اور ان کا خیال تھا کہ دنیا انہیں سمجھنے کے لائق نہیں ہے۔پپو میاں نے راتوں رات اپنے بال بڑھائے، گلے میں چار پانچ رنگ برنگے موتیوں والے دھاگے ڈالے اور ابا کی ایک پرانی ریشمی چادر اوڑھ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنا نام بدل کر پیر پپو شاہ سرکار رکھ لیا۔محلے میں خبر پھیل گئی کہ بشیر صاحب کا بیٹا پہنچا ہوا بزرگ بن گیا ہے۔ سب سے پہلے محلے کی ماسی برکتے آئی، جس کا بیٹا پڑھائی میں کمزور تھا۔ پپو میاں نے آنکھیں بند کر کے ایک گہری سانس لی اور بولے:مائی! تیرے بیٹے پر کالے کواڈراٹک فارمولے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ بھیڑیوں کے ایک غول اور بھیڑوں کے ایک ریوڑ کے درمیان دشمنی طویل ہوتی چلی گئی۔ بھیڑیے مسلسل کسی موقع کی تلاش میں تھے، لیکن بھیڑوں کی حفاظت وفادار اور بہادر رکھوالے کتے (Sheepdogs) کر رہے تھے۔ جب بھی بھیڑیے حملہ کرتے، کتے شور مچا کر سب کو خبردار کر دیتے اور ان کا راستہ روک لیتے۔ اسی وجہ سے بھیڑیوں کے تمام منصوبے ناکام ہو رہے تھے۔ 🐺چنانچہ بھیڑیوں نے ایک میٹنگ کی اور اپنا ایک “سفیر” بھیڑوں کے پاس بھیجا، جس نے بڑے معصومانہ اور نرم انداز میں کہا:“پیاری بھیڑو! ہم ہر وقت اس تناؤ میں کیوں رہیں؟ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں۔ اصل فسادی تو یہ رکھوالے کتے ہیں۔ یہ شور مچاتے ہیں، غصہ دکھاتے ہیں اور ہمیشہ بیچ میں مداخلت کرتے ہیں—اسی وجہ سے ہم ‘جوابی کارروائی’ پر مجبور ہو جاتے ہیں اور…

Read more

سلطان سارنگ خان گکھڑ کے بعد، اب باری ہے پنجاب کے اس “باغی” ہیرو کی جس کا نام پنجاب کے لوک گیتوں، واروں اور داستانوں کا لازمی حصہ ہے پنجاب کے سورمے سیریز کی پانچویں قسط کے لیے سب سے موزوں اور مقبول ترین شخصیت دُلاَ بھٹی ہیں عبداللہ بھٹی پنجاب کا وہ رابن ہڈ ہے جس نے شہنشاہِ وقت کو للکارا اور اگر سارنگ خان نے شیر شاہ سوری کی مخالفت کی تھی، تو دُلا بھٹی نے مغل سلطنت کے سب سے طاقتور دور (شہنشاہ اکبر کے عہد) میں بغاوت کا علم بلند کیا دُلا بھٹی حقیقتاً عوامی ہیرو تھا  سچ تو یہ ہے کہ وہ صرف ایک جنگجو نہیں تھا بلکہ کسانوں اور مظلوموں کا مسیحا بھی تھا مغل شہنشاہ اکبر کے لگائے گئے نئے زرعی ٹیکسوں کے خلاف اس کی مزاحمت نے تختِ اکبر کو ہلا کر رکھ دیا تھا آج بھی پنجاب میں “لوہڑی” کا تہوار…

Read more

ایک جعلی پیر صاحب کا معمول تھا کہ وہ صرف جمعرات کے دن اپنے مریدوں یا دیگر حاجت مندوں کو تعویذ لکھ کر دیا کرتے تھے۔ جب فاؤنٹین پین نئے نئے ایجاد ہوئے تو پیر صاحب نے اسے بھی اپنی جملہ کرامات میں شامل کر لیا۔ وہ اس طرح کہ جمعرات کو وہ اپنے قلمدان کی روشنائی پھنکوا کر خالی دوات اپنے سامنے رکھ لیتے تھے۔ البتہ فاؤنٹین پین کو سیاہی سے بھر کر قلمد ان میں سجا لیتے تھے۔ غرض مند لوگ دور دور سے پاپیادہ تعویذ لینے آتے تھے۔ پیر صاحب کی خدمت میں نذرانہ پیش کر کے اپنی حاجت بیان کرتے تھے۔ پیر صاحب تعویذ لکھنے کے لیے فاؤنٹین چین کو دوات میں ڈبوتے تھے۔ اسے خالی پا کر قلم واپس رکھ دیتے تھے اور سرد آہ بھر کر افسوس کرتے تھے۔ ”او ہو آج تو سیاہی ختم ہے۔ خیر اگلی جمعرات کو آنا۔ تعویذ لکھ دوں…

Read more

ایک دن کسی قبیلے کا سردار اپنے گھوڑے پر تنہا صحرا میں سفر کر رہا تھا۔ راستے میں اس کی نظر ایک انسان پر پڑی جو ریت میں دھنسا ہوا تھا۔ سردار فوراً گھوڑا روکا، نیچے اترا اور اس شخص سے ریت ہٹائی۔ وہ بے ہوش تھا، مگر جب سردار نے اسے ہلایا، تو وہ نیم ہوش میں بولا: “میری پیاس اتنی شدید ہے کہ میری زبان اور حلق خشک چمڑے کی طرح اکڑ چکے ہیں۔ اگر پانی نہ پیا تو مر جاؤں گا۔” سردار نے جلدی سے اپنی زین سے لٹکی ہوئی چھاگل نکالی اور اجنبی کے ہونٹوں سے لگا کر اس کی پیاس بجھائی۔ اجنبی نے سیر ہو کر پانی پیا اور شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: “اے مہربان انسان، میرا گھوڑا کہیں بھاگ گیا ہے۔ کیا آپ مجھے کسی قریبی جگہ لے جا سکتے ہیں تاکہ میں اپنی سواری کا بندوبست کر سکوں؟” سردار نے خوش دلی…

Read more

وہ رات جب حجاج بن یوسف نے اپنے بیٹے کی لاش دیکھی تو پہلی بار آنکھوں سے آنسو نہیں، ہنسی نکل رہی تھی۔ کوفہ کی راتیں گرم تھیں۔ فرات کی نمی فضا میں پھیلی ہوئی تھی، اور حجاج بن یوسف اپنے محل کی چھت پر کھڑے دریائے فرات کو دیکھ رہے تھے۔ ان کی عمر اب ساٹھ کے قریب تھی۔ داڑھی میں سفیدی پھیل چکی تھی، لیکن آنکھوں میں وہی تیزی تھی، وہی چمک جو لوگوں کے دلوں میں دہشت بٹھا دیتی تھی۔ آج وہ عجیب بے چین تھے۔ ان کے سامنے فرات کا پانی بہہ رہا تھا، اور اس پانی میں انہیں ابن اشعث کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ وہ چہرہ جو سولی پر بھی مسکراتا رہا تھا۔ وہ آنکھیں جو موت کے وقت بھی نہیں جھکی تھیں۔ حجاج نے آہ بھری۔ پھر پیچھے مڑے تو شبیب بن عامر کھڑے تھے۔ شبیب نے کہا: “حجاج، تم پریشان ہو؟”…

Read more

40/117
NZ's Corner