کہتے ہیں کہ حضرت بشر حافی رحمہ اللہ علیہ سے سارا زمانہ پیار کرتا تھا۔ بغداد کا ہر شخص ان کی عزت کرتا تھا۔ ایک شخص نے کہا: “بابا! تمہارا بابا مجھے اچھا نہیں لگتا۔ کیوں؟ اس لیے کہ بابا نہ صرف فرض مسجد میں پڑھتے تھے باقی نماز مسجد میں نہیں پڑھتے تھے۔ ۔اایک دن جمعہ کی نماز کے بعد میں نے سوچا کہ آج ان کا پیچھا کروں اور دیکھوں کہ یہ کیا کرتے ہیں۔ اسلام میں سنتوں کی بہت تاکید ہے۔ میں فرض پڑھ کر نکل گیا، پیچھے رہ گیا۔ میں نے کہا آج سنت اور نفل چھوڑ دوں، دیکھوں کیا ہوتا ہے۔
حضرت بشر حافی جلدی مسجد سے نکلے، کباب کی دکان پر گئے، کباب خریدا۔ میں نے سوچا اس عمر میں بھی کباب کھائے گا؟ اوہ مولوی کو روٹی نے ستایا ہے، اس لیے سنت اور نفل چھوڑ دیا۔
آگے بڑھے تو نان بائی کی دکان سے گرم نان خریدی۔ میں نے سوچا بغداد میں لوگ رات کی روٹی کھاتے ہیں، یہ گرم کھاتا ہے۔
پھر جنگل کی طرف مڑے۔ میرے دل میں خیال آیا کہ یہ اکیلا بیٹھ کر مزے کرے گا، کھائے پیئے گا۔ سنت اور نفل چھوڑ دیے۔
حضرت جنگل میں داخل ہوئے، تھوڑا آگے گئے تو ایک کچا گھر ملا، ٹوٹا ہوا دروازہ، باہر سے کنڈی لگی۔ بغداد کے ہزاروں مریدوں والے اس پیر نے کنڈی کھولی، اندر گئے۔ ایک فالج زدہ بوڑھا بیٹھا تھا۔ حضرت نے اپنی پگڑی کھولی، بوڑھے کے منہ سے پانی صاف کیا، جو ٹپک رہا تھا۔ پھر پانی ڈال کر منہ دھویا، ٹانگوں پر کپڑا ڈالا، روٹی کا لقمہ توڑ کر منہ میں ڈالا اور کھلانے لگے۔
حضرت نے کہا نے کہا: “بابا ناراض نہ ہونا، مجھے جمعہ کے دن آنے میں دیر ہو جاتی ہےا۔”
وہ بوڑھا رو پڑا اور بولا: “یار! چودہ سال ہو گئے، تم روز آتے ہو۔ ، چودہ سال سے۔ میں نہیں جانتا کب تک لاش بن کر پڑا رہوں گا، تم کب تک آتے رہو گے۔”
حضرت نے آنسو پونچھے، کباب اور نان دیا اور فرمایا: “لوگ سمجھتے ہیں کہ میں نے عبادت کر کے مقام پایا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں میں نوافل پڑھتا ہوں، دنیا جانتی ہے کہ میری رات کی عبادت زیادہ ہے۔ ان میں سے کوئی بات نہیں۔ میں تو تیری نوکری کرتا ہوں، اللہ نے میری عزت میں اضافہ کر دیا ہے۔”
