بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

بہت پرانے زمانے میں ایک غلام تھا جس کا نام اینڈروکلیز (Androcles) تھا۔ وہ ایک ظالم مالک کے پاس رہتا تھا جو اسے ہر وقت سخت کام کرواتا اور ذرا سی غلطی پر بھی سزا دیتا تھا۔ آخرکار ایک دن اینڈروکلیز اس ظلم سے تنگ آ کر جنگل کی طرف بھاگ گیا تاکہ کہیں آزادی کی زندگی گزار سکے۔

وہ کئی دن تک جنگل میں بھٹکتا رہا۔ ایک دن جب وہ درخت کے نیچے آرام کر رہا تھا تو اچانک اس نے درد بھری دھاڑ سنی۔

وہ گھبرا گیا، مگر آواز میں ایسی تکلیف تھی کہ وہ احتیاط سے اس سمت بڑھا۔

وہاں اس نے ایک شیر دیکھا۔

شیر زخمی تھا اور اس کے پنجے میں ایک بڑا کانٹا چبھ گیا تھا۔ شیر درد سے کراہ رہا تھا۔

اینڈروکلیز پہلے تو ڈر گیا، مگر پھر اس کے دل میں رحم آ گیا۔ وہ آہستہ آہستہ شیر کے قریب گیا۔

شیر نے اسے نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اپنا زخمی پنجہ اس کی طرف بڑھا دیا جیسے مدد مانگ رہا ہو۔

اینڈروکلیز نے ہمت کر کے کانٹا نکال دیا اور زخم صاف کر دیا۔

شیر کو فوراً سکون مل گیا۔ اس نے خوشی سے دم ہلائی اور اینڈروکلیز کے گرد گھومنے لگا جیسے شکریہ ادا کر رہا ہو۔

چند دن تک وہ دونوں جنگل میں ساتھ رہے اور ایک دوسرے کے عادی ہو گئے۔

لیکن کچھ عرصے بعد رومی سپاہیوں نے اینڈروکلیز کو پکڑ لیا کیونکہ وہ ایک فرار غلام تھا۔ اسے شہر واپس لے جایا گیا اور سزا کے طور پر حکم دیا گیا کہ اسے میدان میں ایک بھوکے شیر کے سامنے پھینک دیا جائے۔

جب دن آیا تو ہزاروں لوگ میدان میں جمع تھے۔

اینڈروکلیز کو میدان کے بیچ کھڑا کر دیا گیا۔

پھر دروازہ کھولا گیا اور ایک خوفناک شیر اندر آیا۔

لوگوں نے سانس روک لیا۔

لیکن حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ جیسے ہی شیر اینڈروکلیز کے قریب پہنچا، وہ اچانک رک گیا۔

اس نے اینڈروکلیز کو غور سے دیکھا… اور پھر خوشی سے دم ہلانے لگا۔

وہی شیر تھا جس کے پنجے سے اینڈروکلیز نے کانٹا نکالا تھا۔

شیر نے اس پر حملہ کرنے کے بجائے اس کے ہاتھ چاٹنے شروع کر دیے اور اس کے گرد ایسے گھومنے لگا جیسے ایک وفادار دوست ہو۔

تماشائی یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔

بادشاہ نے فوراً اینڈروکلیز کو بلایا اور پوری کہانی پوچھی۔ جب اسے حقیقت معلوم ہوئی تو وہ اینڈروکلیز کی مہربانی اور انسانیت سے بہت متاثر ہوا۔

بادشاہ نے حکم دیا کہ اینڈروکلیز کو آزاد کر دیا جائے اور شیر کو بھی جنگل میں چھوڑ دیا جائے۔

یوں ایک چھوٹی سی نیکی نے ایک انسان کی جان بچا لی۔

اخلاقی سبق

1. نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی۔

2. رحم اور مہربانی کا بدلہ کسی نہ کسی صورت ضرور ملتا ہے۔

3. انسانیت اور ہمدردی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner