آج ہی کے دن (23 رمضان) فارس کے آخری کسریٰ یزدجرد ثالث پندرہ سال تک مسلسل فرار اور شکستوں کے بعد قتل کر دیا گیا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إذا هلك كسرى فلا كسرى بعده، وإذا هلك قيصر فلا قيصر بعده، فوالذي نفسي بيده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله»
یعنی:
“جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا، اور جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ان دونوں کے خزانے ضرور اللہ کی راہ میں خرچ کیے جائیں گے۔”
(روایت: مسلم)
یزدجرد بن شہریار، جسے یزدجرد ثالث کہا جاتا ہے، ساسانی سلطنت میں فارس کا آخری بادشاہ تھا۔ اس کی حکومت 632ء سے 651ء تک قائم رہی۔ اسی دوران اسلام کی فوجیں فارس میں داخل ہوئیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان شدید معرکے ہوئے، یہاں تک کہ مسلمانوں نے معرکۂ قادسیہ میں فیصلہ کن فتح حاصل کر لی۔
قادسیہ، جو آج کے عراق میں واقع ہے، اسی جنگ میں فارسی لشکر کا سپہ سالار رستم قتل ہوا، اور یہ مسلمانوں کے لیے ایک عظیم اور فیصلہ کن کامیابی ثابت ہوئی۔
جب مسلمان اس کے شاہی محل کے قریب پہنچ گئے تو یزدجرد ساسانی دارالحکومت طیسفون (مدائن) سے فرار ہو گیا اور فارس کے مختلف علاقوں میں روپوش ہو کر دوبارہ لشکر منظم کرنے لگا۔
لیکن 642ء میں معرکۂ نہاوند میں، باوجود اس کے کہ اس کی فوج تعداد اور اسلحے میں بڑی تھی، اسے سخت شکست ہوئی۔ یہ شکست اس کی سلطنت کے خاتمے کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔
اس کے بعد شاہی دربار کو اس بات کی امید باقی نہ رہی کہ وہ دوبارہ اقتدار حاصل کر سکے گا۔ دربار کے بہت سے امرا اور بڑے عہدے دار اس سے الگ ہو گئے اور انہوں نے مسلمانوں سے تعلقات اور صلح کی کوششیں شروع کر دیں۔
چنانچہ یزدجرد کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہ رہا کہ وہ مسلمانوں کے تعاقب سے بچنے کے لیے مشرق کی طرف بھاگتا رہے۔
وہ ملک کے مشرقی علاقے میں مرو (جو آج ترکمانستان میں واقع ہے) کے قریب پہنچا۔ وہاں سے اس نے چین کے شہنشاہ سے مدد طلب کی اور تانگ خاندان کے دربار میں قاصد بھیجے، لیکن چین کے بادشاہ نے مسلمانوں کے خوف سے اس کی مدد کرنے سے گریز کیا۔
بعد ازاں وہ مرو شہر پہنچا تو وہاں کے گورنر ماہویہ نے اس کا بڑی تعظیم و تکریم کے ساتھ استقبال کیا۔ اسی دوران ترکوں کے بادشاہ نیزک نے یزدجرد کی بیٹی کے لیے نکاح کا پیغام بھیجا۔
یہ بات یزدجرد کو ناگوار گزری اور اس نے جواب میں لکھوایا:
“تو تو میرے غلاموں میں سے ایک غلام ہے، تجھے یہ جرأت کیسے ہوئی کہ تو مجھ سے رشتہ مانگے؟”
پھر اس نے مرو کے گورنر ماہویہ کو مالی امور کے بارے میں بازپرس کے لیے طلب کیا۔ اس پر ماہویہ نے ترک بادشاہ نیزک کو خط لکھ کر یزدجرد کے خلاف بھڑکایا اور کہا:
“یہ وہ شخص ہے جو شکست خوردہ اور دربدر ہو کر میرے پاس آیا تھا۔ میں نے اس پر احسان کرتے ہوئے تمہیں اس کی بیٹی کے نکاح کی پیشکش کی، تاکہ تم اس کی بادشاہت واپس دلانے میں مدد کرو، مگر اس نے تمہیں ایسا جواب دیا ہے۔”
چنانچہ دونوں نے مل کر اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔
نیزک ترکوں کے لشکر کے ساتھ آگے بڑھا۔ یزدجرد بھی مقابلے کے لیے نکلا۔ دونوں کے درمیان جنگ ہوئی جس میں کسریٰ کے ساتھی مارے گئے اور اس کا لشکر لوٹ لیا گیا۔
یزدجرد بھاگ کر دوبارہ مرو کی طرف آیا، لیکن شہر کے گورنر نے اس کے لیے دروازے نہ کھولے۔ وہ اپنے گھوڑے سے اترا اور پیدل چلتا ہوا دریائے مرغاب کے کنارے ایک غریب چکی والے (آٹا پیسنے والے) کے گھر میں جا داخل ہوا۔
چکی والے نے اسے کھانا پیش کیا، اس نے کھایا۔ پھر اسے پینے کے لیے مشروب دیا جس سے وہ نشے میں ہو گیا۔
جب شام ہوئی تو اس نے اپنا شاہی تاج نکال کر سر پر رکھا۔ چکی والے کی نظر اس تاج پر پڑی تو اس کے دل میں لالچ پیدا ہوا۔ اس نے یزدجرد کو قتل کر دیا، اس کے کپڑے اتار لیے اور لاش کو دریا میں پھینک دیا۔
جب مرو کے حاکم کو اس واقعے کی خبر ہوئی تو اس نے چکی والے اور اس کے اہلِ خانہ کو قتل کروا دیا۔ بعض روایات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دراصل مرو کے حاکم ہی نے خفیہ طور پر چکی والے کو اس کے قتل پر آمادہ کیا تھا۔ پھر بعد میں کہا گیا:
“کسی بادشاہ کے قاتل کو زندہ نہیں رہنا چاہیے”
لہٰذا چکی والے کو بھی قتل کر دیا گیا۔
جہاں تک شہربانو، یزدجرد کی بیٹی، کا تعلق ہے تو وہ فارسی قیدیوں کے ساتھ گرفتار ہو کر امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجی گئی۔ روایت ہے کہ انہوں نے اسے نہ اپنے لیے منتخب کیا، نہ اپنے بیٹے یا خاندان کے کسی فرد کے لیے، بلکہ اسے اہلِ بیتِ نبوت کے سپرد کر دیا۔
چنانچہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے اس سے نکاح کیا، اور اس سے علی بن الحسین پیدا ہوئے جو “السجاد” کے نام سے معروف ہیں۔ وہ واقعۂ کربلا کے بعد زندہ رہے اور ان ہی سے آگے نسل جاری رہی۔
یزدجرد کا بیٹا فیروز بن یزدجرد ابتدا میں ترکوں کی قید میں چلا گیا۔ بعد میں انہوں نے اس کی شادی کر دی اور وہ انہی کے پاس رہنے لگا، کیونکہ وہ اپنے ساسانی آباء و اجداد کی سلطنت دوبارہ حاصل کرنے سے مایوس ہو چکا تھا۔
بعد کے زمانے میں جب قتیبہ بن مسلم نے ماوراء النہر کے علاقوں میں ترکوں پر حملے کیے تو اسے فیروز بن یزدجرد کی دو بیٹیاں ملیں۔ اس نے انہیں حجاج بن یوسف کے پاس بھیج دیا۔
حجاج نے ان میں سے ایک، جس کا نام شاہفرند تھا، خلیفہ ولید بن عبد الملک کو بھیج دی۔ اس سے خلیفہ یزید بن ولید پیدا ہوئے۔
فیروز اپنی نسبی شان بیان کرتے ہوئے کہا کرتا تھا:
“میں کسریٰ کا بیٹا ہوں، میرا باپ مروان ہے، میرا نانا قیصر ہے اور میرا نانا خاقان بھی ہے۔”
اسی واقعے کے ساتھ ساسانی سلطنت اور اس کا شاہی خاندان ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔
مراجع:
1. تاریخ الامم والملوک — امام طبری
2. فتوح البلدان — بلاذری
