Tag Archives: urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge

Hazrat Musa (peace be upon him) asked Allah: “O Allah! You create people and then kill them. What is the wisdom in this?” Allah the Almighty said: “Since your question is not based on denial and negligence, I am passing over it, otherwise I would have punished you. You are asking so that you can inform the people about Our wisdom, otherwise you know Our wisdom in creating the creatures. Your question is not contrary to knowledge. Asking about something is half of knowledge. Although you are aware of it, you want the people to be aware of it. Only after knowing about something can a question be answered about it. Knowledge is the cause of misguidance and guidance. Just as moisture and dampness produce bitterness in fruits in addition to sweetness. Meetings and acquaintances produce friendship and enmity, and food produces both illness and health. O Moses, you want…

Read more

کسی زمانے میں ایک قصاب تھا۔ وہ رات کے وقت جا کر جانور ذبح کیا کرتا تھا اور دن میں اپنی دکان پر گوشت لا کر بیچتا تھا۔ جب وہ جانور ذبح کرتا تو اس کے کپڑوں پر خون لگ جاتا، مگر وہ گھر آ کر خون آلود کپڑے بدل لیا کرتا تھا۔ ایک رات جب وہ جانور ذبح کر کے واپس آ رہا تھا تو راستے میں ایک جگہ ایک آدمی شور مچاتا ہوا آیا اور اس نے قصاب کو پکڑ لیا۔ جب قصاب نے اسے دیکھا تو اس آدمی کے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔ قصاب حیران ہوا، اتنے میں اس آدمی کی جان نکل گئی۔ قصاب نے دیکھا کہ اس کے جسم میں ایک چھری پیوست تھی جو کسی نے اسے مار دی تھی۔ اصل قاتل تو بھاگ چکا تھا، مگر مقتول نے اندھیرے میں یہی سمجھا کہ قصاب نے اسے قتل کیا ہے، اور وہ…

Read more

ایک کمزور ماہی گیر کے جال میں ایک طاقتور مچھلی پھنس گئی۔ ماہی گیر کے بس میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ جال کو پانی سے کھینچ سکے۔ جب مچھلی نے زور لگایا تو جال اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔شعر:دام ہر بار ماہی آوردےماہی ایں بار رفت و دام ببردترجمہ:جال ہر بار مچھلی پکڑتا ہے، لیکن اس بار مچھلی گئی تو جال کو ہی لے گئی۔دوسرے ماہی گیر اس واقعے پر اتنے افسردہ ہوئے کہ انہوں نے اس کمزور ماہی گیر کو ملامت کرنا شروع کر دیا، کہ ایسا بڑا شکار تیرا جال میں پھنس گیا اور تو اسے تھام نہ سکا۔ماہی گیر نے جواب دیا:“اے بھائیو، میں کیا کر سکتا تھا؟ یہ مچھلی میرا رزق نہیں تھی، اور میرا رزق ابھی باقی تھا۔ دانا کہتے ہیں کہ شکاری قسمت کے بغیر دریا سے مچھلی نہیں پکڑ سکتا، اور مچھلی بغیر وقت کے خشکی پر نہیں مرتی۔” سبق: ہر…

Read more

ایک ملک کا حکمران بنانے کا طریقہ نہایت انوکھا تھا۔ وہ ہر سال کے پہلے دن اپنا بادشاہ بدل دیتے تھے۔ سال کے آخری دن جو بھی سب سے پہلے ملک کی حدود میں داخل ہوتا، اسے نیا بادشاہ منتخب کر لیا جاتا اور موجودہ بادشاہ کو “علاقۂ غیر” یعنی ایسی جگہ چھوڑ آتے جہاں صرف سانپ بچھو ہوتے اور کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہ ہوتا۔ اگر وہ سانپ بچھوؤں سے کسی طرح بچ بھی جاتا تو بھوک پیاس سے مر جاتا۔ کتنے ہی بادشاہ ایسے ہی ایک سال کی بادشاہی کے بعد اس “علاقۂ غیر” میں جا کر مر کھپ گئے۔ اس مرتبہ شہر میں داخل ہونے والا نوجوان کسی دور دراز علاقے کا لگ رہا تھا۔ سب لوگوں نے آگے بڑھ کر اسے مبارکباد دی اور بتایا کہ آپ کو اس ملک کا بادشاہ چن لیا گیا ہے۔ اسے بڑے اعزاز کے ساتھ محل میں لے…

Read more

کیا آپ نے عثمانی سلطنت کے “مجانین” دستے کے بارے میں سنا ہے؟عثمانی سلطنت کی تاریخ میں کئی ایسے فوجی دستے تھے جنہوں نے اپنی بہادری اور منفرد انداز کی وجہ سے شہرت حاصل کی۔ انہی میں سے ایک مشہور دستہ “المجانین” یا دیلی (Deli) سپاہی تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق اس طرح کے غیر معمولی جری سپاہیوں کو باقاعدہ طور پر استعمال کرنے کا سلسلہ سلطان محمد فاتحؒ (سلطان محمد ثانی) کے دور میں 1453ء کے بعد زیادہ منظم شکل میں سامنے آیا، جب قسطنطنیہ کی فتح کے بعد عثمانی فوج کو مزید طاقتور اور نفسیاتی جنگ کے لیے تیار کیا گیا۔یہ دراصل عثمانی سلطنت کی ایک خاص قسم کی فوجی یونٹ یا اسپیشل فورس تھی، جو ینی چری (Janissaries) اور سپاہی گھڑ سواروں (Sipahi cavalry) کے ساتھ میدانِ جنگ میں شامل ہوتی تھی۔ اس زمانے میں انہیں دنیا کی طاقتور اور خوفناک جنگی جماعتوں میں شمار کیا جاتا…

Read more

حضرت موسیٰ علیہ السّلام نے اللّہ سے سوال کِیا: “اے خدا.! تُو لوگوں کو پیدا کرتا ہے اور پھر مار دیتا ہے اِس میں کیا حکمت ہے؟ “حق تعالیٰ نے فرمایا: “چونکہ تیرا سوال انکار اور غفلت پر مبنی نہیں ہے اِس لیے میں دَرگُزر کرتا ہوں ورنہ سزا دیتا۔ تُو اِس لیے معلوم کر رہا ہے تاکہ عوام کو ہماری حِکمتوں سے آگاہ کر دے, ورنہ تجھے مخلوق کے پیدا کرنے میں ہماری حِکمتیں معلوم ہیں۔تیرا سوال علم کے منافی نہیں ہے۔ کسی چیز کے بارے میں سوال آدھا عِلم ہوتا ہے۔ اگرچہ تُو تو اِس سے واقف ہے لیکن تُو چاہتا ہے کہ عوام بھی آگاہ ہو جائیں۔ کسی چیز کا علم ہو جانے کے بعد ہی اُس کے بارے میں سوال جواب ہو سکتا ہے۔ عِلم ہی گُمراہی اور ہدایت کا سبب بنتا ہے۔ جیسا کہ نمی اور تَری ہی پھل میں شیرینی کے علاوہ تلخی بھی…

Read more

یہ ایک خوبصورت افریقی لوک کہانی ہے۔ بہت پہلے کی بات ہے، ایک ایسے گاؤں میں جہاں کی سرخ مٹی پاؤں کو گرما دیتی تھی اور کھجور کے اونچے درخت ہوا کے ساتھ سرگوشیاں کرتے تھے، وہاں کوکورو (Kòkòrò) نامی ایک خاموش طبع شکاری کتا رہتا تھا۔کوکورو زیادہ بھونکتا نہیں تھا۔ وہ خوراک کے ٹکڑوں کے لیے دوسرے کتوں سے لڑتا بھی نہیں تھا۔ جب دوسرے کتے سائے کا پیچھا کرتے اور دھول میں ایک دوسرے سے جھگڑتے، تو وہ بس خاموشی سے دیکھتا… اور یاد رکھتا۔اسی وجہ سے گاؤں کے بہت سے لوگ اسے سست اور ناسمجھ سمجھتے تھے۔نوجوان شکاری ہنستے ہوئے کہتے، “اسے دیکھو! یہ کتا گھورنے کے سوا کچھ نہیں کرتا۔”لیکن بوڑھی ماما سادے، جن کی آنکھوں نے زندگی کے بہت سے موسم دیکھے تھے، صرف دھیرے سے سر ہلاتیں۔ وہ کہتیں: “خاموش آنکھ بہت دور تک دیکھتی ہے۔”ایک بار خشک سالی کے موسم میں مصیبت آ…

Read more

ایک بادشاہ نے حج کا ارادہ کیا۔ جب اس نے ارکانِ سلطنت سے مشورہ کیا تو انہوں نے عرض کیا:بادشاہ کی مثال جان کی اور سلطنت جسم کی مانند ہے۔ جس وقت بادشاہ کا سایہ ملک سے اٹھ جائے گا تو بہت سی خرابیاں جنم لیں گی۔ بادشاہ نے کہا: پھر میں حج کا ثواب کیسے حاصل کر سکتا ہوں؟انہوں نے جواب دیا: اس سلطنت میں ایک درویش رہتا ہے جو سات حج کر چکا ہے اور گوشۂ تنہائی اختیار کیے ہوئے ہے، ممکن ہے وہ ایک حج کا ثواب آپ کو فروخت کر دے۔ بادشاہ درویش کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:میرا ارادہ حج کا ہے، مگر سلطنت کے امور کے باعث مجھے منع کیا جا رہا ہے، کیا آپ ایک حج کا ثواب مجھے دے سکتے ہیں؟ درویش نے فرمایا: میں اپنے تمام حجوں کا ثواب فروخت کرتا ہوں۔بادشاہ نے پوچھا: ہر حج کی کیا قیمت…

Read more

ہزاروں سال پہلے مصر کے لوگ کہتے تھے کہ اگر دریائے نیل کو راضی نہ رکھا جائے تو وہ نہیں بہے گا، اور اسے راضی رکھنے کے لیے ہر سال ایک لڑکی کو دریا میں ڈال دیا جاتا تھا۔ یعنی ہر سال ایک غیر فطری قربانی، پھر ایک دن ایک خط پانی میں ڈالا گیا، اور روایت ہے کہ سب کچھ بدل گیا۔ساتویں صدی میں جب مصر اسلامی خلافت کے زیرِ اثر آیا اور حضرت عمرو بن العاصؓ وہاں کے گورنر مقرر ہوئے، تو مقامی لوگوں نے بتایا کہ نیل کے سالانہ بہاؤ کے لیے یہ رسم ضروری ہے ورنہ تباہی ہو گی، یہ بات مدینہ بھیجی گئی۔ جواب میں خلیفہ حضرت عمر بن خطابؓ نے ایک تحریر بھیجی جس میں دریا کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا گیا کہ اگر تو اپنے اختیار سے بہتا ہے تو نہ بہہ، اور اگر اللہ کے حکم سے بہتا ہے تو پھر اسی…

Read more

ایک قدیم گاؤں میں چھ اندھے آدمی رہتے تھے جو اپنی سمجھ بوجھ کی وجہ سے مشہور تھے۔ ایک دن گاؤں میں ایک ہاتھی لایا گیا۔ چونکہ انہوں نے پہلے کبھی ایسا جانور نہیں دیکھا تھا، اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ہاتھی کے پاس جائیں گے اور اسے چھو کر یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ ہاتھی کیسا ہوتا ہے۔پہلے آدمی نے ہاتھ بڑھا کر ہاتھی کے پہلو (پیٹ) کو چھوا۔ وہ پکار اٹھا: “کتنا ہموار اور سپاٹ ہے! ہاتھی تو بالکل ایک دیوار کی طرح ہے۔”دوسرے آدمی نے ہاتھی کے دانت کو محسوس کیا۔ اسے ایک نوکیلی اور ہموار چیز ملی۔ اس نے بحث کرتے ہوئے کہا: “نہیں، نہیں، ہاتھی بہت تیز دھار اور خطرناک ہے۔ یہ تو بالکل ایک نیزے جیسا ہے۔”تیسرے آدمی کے ہاتھ میں ہاتھی کی سونڈ آئی، جو ہل جل رہی تھی۔ اس نے کہا: “تم دونوں غلط ہو۔ ہاتھی لمبا…

Read more

امام شافعیؒ کے زمانے میں ایک خلیفہ نے اپنی بیوی کو ایک عجیب انداز میں طلاق دے دی، اور یہ واقعہ بعد میں فقہ کا ایک بڑا مسئلہ بن گیا۔ ایک دن بادشاہ اپنی ملکہ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ ہنسی مذاق کے دوران اس نے ملکہ سے پوچھ لیا: “تمہیں میری شکل کیسی لگتی ہے؟”ملکہ، جو اس کی نہایت عزیز بیگم تھی، مزاح میں بولی: “مجھے آپ شکل سے جہنمی لگتے ہیں۔” یہ جملہ سن کر بادشاہ کو غصہ آ گیا اور وہ بولا: “اگر میں جہنمی ہوں تو میں تمہیں تین طلاقیں دیتا ہوں!”یہ سنتے ہی ملکہ رونے لگی، اور کچھ دیر بعد بادشاہ کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اگلے دن بادشاہ نے ملک بھر کے علماء، مفتیانِ کرام اور امام حضرات کو دربار میں جمع کیا اور پوچھا: “کیا اس طرح میری طلاق واقع ہو چکی ہے؟”تمام علماء نے یکے بعد دیگرے یہی جواب دیا…

Read more

دنیا جتنی بڑی ہوتی جائے گی، انا غرور اتنا ہی چھوٹا ہوتا جائے گا۔”وضاحت:اس تصویر میں “کنویں کے مینڈک” والی مشہور تمثیل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جب مینڈک صرف کنویں میں رہتا ہے، تو اسے لگتا ہے کہ وہ بہت بڑا ہے اور یہ کنواں ہی کل کائنات ہے۔ لیکن جب وہ باہر نکل کر بڑی دنیا اور دوسرے بڑے جانوروں (جیسے تصویر میں بیل) کو دیکھتا ہے، تو اسے اپنی حقیقت اور اپنی چھوٹی سی حیثیت کا احساس ہوتا ہے۔یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:علم اور تجربہ: ہم جتنا زیادہ سیکھتے ہیں، ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ابھی کتنا کچھ سیکھنا باقی ہے۔عاجزی: وسعتِ ظرفی انسان کے اندر سے تکبر کو ختم کر کے عاجزی پیدا کرتی ہے۔کیا آپ کو کبھی 100% یقین رہا ہے… اور پھر بھی آپ مکمل غلط ثابت ہوئے؟بہت پہلے کی بات ہے، ایک مینڈک کئی سالوں تک ایک پرانے اور متروک کنویں کی…

Read more

ایک پیاسا مسافر خشک ریگستان میں راستہ بھٹک گیا۔ اس کے پاس پانی ختم ہو چکا تھا اور وہ شدید کمزوری محسوس کر رہا تھا۔ اپنے سفر کے دوران اسے تین مختلف کنویں ملے، جن میں سے ہر ایک کی دیکھ بھال ایک الگ شخص کر رہا تھا۔پہلا کنواں: جولاہیمسافر کی ملاقات ایک خاتون سے ہوئی جو کپڑا بن رہی تھی۔ اس نے پانی مانگا تو خاتون نے بڑی ہمدردی سے اسے ٹھنڈے پانی کی بالٹی مفت میں دے دی۔ اس نے کوئی دکھاوا نہیں کیا اور خاموشی سے اپنے کام پر واپس چلی گئی۔ مسافر وہاں سے خود کو توانا اور معزز محسوس کرتے ہوئے رخصت ہوا۔دوسرا کنواں: سنگ تراشاگلے دن مسافر ایک سنگ تراش سے ملا جو پتھر تراش رہا تھا۔ سنگ تراش کچھ نہ بولا، لیکن اس نے پانی کا ایک بھاری گھڑا کھینچ کر نکالا اور مسافر کو پلایا۔ اس نے مسافر کی کمزوری کو ایک…

Read more

ایک بار سردار جی بازار گئے تو انہیں ایک دکان پر ایک چمکتا ہوا “تھرماس” (Thermos Flask) نظر آیا۔سردار جی نے حیرت سے اسے اٹھایا اور دکاندار سے پوچھا:“یار! یہ چمکتی ہوئی بوتل کیا چیز ہے اور اس کا کیا فائدہ ہے؟” دکاندار نے بڑے فخر سے بتایا:“سردار جی! یہ کوئی عام بوتل نہیں ہے، یہ ایک کمال کی ایجاد ہے۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس میں ‘گرم چیز گرم’ رہتی ہے اور ‘ٹھنڈی چیز ٹھنڈی’ رہتی ہے۔” سردار جی یہ سن کر بہت خوش ہوئے، انہوں نے سوچا کہ یہ تو واقعی کوئی جادوئی مشین ہے۔ انہوں نے فوراً پیسے دیے، تھرماس خریدا اور اگلے دن بڑی شان سے اسے لٹکا کر اپنے دفتر (Office) پہنچ گئے۔ دفتر میں ان کے ایک دوست نے نئی بوتل دیکھی تو پوچھا:“سردار جی! یہ نیا تھرماس لیا ہے؟ بڑا زبردست لگ رہا ہے۔” سردار جی نے سینہ…

Read more

ایک دن جحا بازار سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک بھوکا مسافر ایک کباب فروش کی دکان کے سامنے کھڑا ہے۔ اس مسافر کے پاس کھانے کے پیسے نہیں تھے، اس لیے اس نے روٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکالا اور اسے کبابوں سے اٹھنے والے دھوئیں کے اوپر رکھ کر سینکنے لگا تاکہ روٹی میں کبابوں کی خوشبو بس جائے اور وہ اسے کھا سکے۔دکاندار بڑا کنجوس اور جھگڑالو تھا۔ اس نے مسافر کا ہاتھ پکڑ لیا اور شور مچانے لگا: “تم نے میرے کبابوں کے دھوئیں سے فائدہ اٹھایا ہے، اب اس کی قیمت ادا کرو!”مسافر بے چارہ پریشان ہو گیا کہ دھوئیں کے پیسے کیسے دے؟ اتنے میں جحا وہاں پہنچ گئے اور سارا معاملہ سمجھنے کے بعد بولے: “فکر نہ کرو، اس مسافر کے بدلے میں قیمت میں ادا کروں گا۔”جحا نے اپنی جیب سے چند سکے نکالے اور انہیں مٹھی میں…

Read more

حضرت علی علیہ السلام نے پتھر اٹھایا تو چشمہ اُبل پڑا مقام صفین کو جاتے ہوئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لشکر ایک ایسے میدان سے گزرا جہاں پانی نایاب تھا،پورا لشکر پیاس کی شدت سے بے تاب ہوگیا۔وہاں کے گرجا گھر میں ایک راہب رہتا تھا ۔ اس نے بتایا کہ یہاں سے دو کوس کے فاصلے پر پانی مل سکے گا۔ کچھ لوگوں نے اجازت طلب کی تاکہ وہاں سے جاکر پانی پئیں ،یہ سنکر آپ اپنے خچر پر سوار ہوگئے اورایک جگہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ اس جگہ تم لوگ زمین کو کھودو۔ چنانچہ لوگوں نے زمین کی کھدائی شروع کردی تو ایک پتھر ظاہر ہوا ۔ لوگوں نے اس پتھر کو نکالنے کی انتہائی کوشش کی لیکن تمام آلات بے کار ہوگئے اوروہ پتھر نہ نکل سکا۔ یہ دیکھ کر آپ کو جلال آگیا اور آپ نے اپنی سواری سے اتر کر آستین چڑھائی…

Read more

ایک دفعہ ایک بادشاہ شاہی کھانے کے ساتھ ایک فقیر کے پاس آیا اور کھانے کی اجازت چاہی۔ فقیر نے ایک آئینہ منگوایا اور شاہی کھانے میں سے ایک لقمہ آئینے پر مَل دیا۔ پورا آئینہ دھندلا ہو گیا۔ پھر فقیر نے جو کی روٹی لی اور اسے آئینے پر پھیرا، تو آئینہ دوبارہ شفاف ہو گیا۔ فقیر نے کہا:“آپ کا کھانا دل کے آئینے کو سیاہ کر دیتا ہے، جبکہ نانِ جوئیں اسے جِلا بخشتا ہے۔ اس لیے مجھے معاف کیجیے۔” بادشاہ نے کہا:“اگر میرے لیے کوئی خدمت کرنی ہو تو بتائیں۔” فقیر نے جواب دیا:“مکھیاں اور مچھر مجھے بہت تنگ کرتے ہیں، انہیں حکم دے دیجیے کہ مجھے نہ ستائیں۔” بادشاہ نے کہا:“یہ تو میرے حکم سے بھی ممکن نہیں۔” فقیر نے مسکرا کر کہا:“جب ایسے حقیر جانور بھی آپ کی اطاعت سے باہر ہیں اور آپ کو ان کے ختم کرنے کی قدرت نہیں، تو پھر میں…

Read more

مولانا رومیؒ بیان کرتے ہیں کہ ہرات کا ایک نواب بڑی خوبیوں کا مالک تھا۔ اس کی خوش اخلاقی اور فیاضی کی وجہ سے عوام، مسافر، تاجر—سبھی اس سے خوش تھے۔ وہ بادشاہ وقت کا وفادار ساتھی بھی تھا اور بادشاہ کو اس پر مکمل اعتماد تھا۔ اس نواب کے پاس بہت سے غلام تھے جنہیں وہ بیٹوں کی طرح رکھتا، آرام و آسائش، زیب و زینت اور بہترین لباس ان کا نصیب تھا۔ اقلس و کمخواب کی قبائیں اور گنگا جمنی پٹیاں ان کی شان کو دوبالا کرتی تھیں۔ ایک بار یہ غلام بڑی شان سے بازار میں گشت کر رہے تھے۔ وہیں ایک مفلس، بھوکا اور ننگا شخص کھڑا انہیں دیکھ کر لوگوں سے پوچھنے لگا:“یہ رئیس زادے کون ہیں؟” کسی نے جواب دیا:“یہ ہمارے علاقے کے نواب کے نوکر چاکر ہیں۔” یہ سن کر وہ حیران رہ گیا، آسمان کی طرف منہ کر کے کہنے لگا:“اے اللہ!…

Read more

ایک زمیندار کو اپنے مالوں کی رکھوالی کیلیئے ایسے ملازم کی تلاش تھی جو جانثاری سے اس کے فارم کی رکھوالی کر سکے۔ اُسے ہمیشہ اپنے ملازمین سے شکایت رہتی تھی کہ اُسے کوئی حلالی ملازم ملا ہی نہیں۔ زمیندار کے پاس کام کرنے کیلیئے، زمیندار کی سخت شرطوں سے زچ ہو کر کوئی ملازم باآسانی کام کے لیے تیار بھی نہیں ہوتا تھا۔ ایک بار جب اس زمیندار کو ملازم کی شدت سے تلاش تھی تو ایک مجبور آدمی کام کے لیے پہنچا۔ زمیندار نے اس سے پوچھا: اپنی کسی خوبی کا بتاؤ۔ کام کے متلاشی نے کہا: میں جب بارش یا طوفان ہو تو سکون سے سوتا ہوں۔ زمیندار کو اس شخص کی بات کی کوئی خاص سمجھ تو نہ آئی مگر آنے والی سردیوں اور بارش و آندھی طوفان کے  موسم کے خدشے کے مارے، بمشکل دستیاب اس شخص کو کام پر رکھ ہی لیا۔ دن گزرتے…

Read more

ایک گاؤں میں ایک بوڑھا کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک خوبصورت گھوڑا تھا جس سے وہ کھیتوں میں کام لیتا تھا۔ ایک دن اس کا گھوڑا بھاگ گیا۔ گاؤں والے آئے اور کہنے لگے: “کتنی بدقسمتی ہے تمھاری!” بوڑھے کسان نے مسکرا کر کہا: “کیا معلوم یہ بدقسمتی ہے یا خوش قسمتی؟” چند دن بعد، وہی گھوڑا واپس آیا، اور ساتھ میں تین جنگلی گھوڑے بھی لے آیا۔ گاؤں والے حیران ہو کر کہنے لگے: “کتنی خوش نصیبی ہے تمھاری!” بوڑھا کسان پھر مسکرایا: “کیا معلوم یہ خوش نصیبی ہے یا بدقسمتی؟” اگلے دن کسان کا بیٹا ان میں سے ایک جنگلی گھوڑے کو سدھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ گر کر اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ گاؤں والے پھر آئے: “کتنی بدقسمتی ہے!” کسان نے پھر وہی جواب دیا: “کیا معلوم؟” کچھ ہفتے بعد بادشاہ نے جنگ چھیڑ دی اور گاؤں کے تمام نوجوانوں کو فوج…

Read more

60/114
NZ's Corner