Tag Archives: urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge

ایک بار سردار جی ایک الیکٹرانکس کی دکان پر گئے اور ایک چیز کی طرف اشارہ کر کے دکاندار سے پوچھا:“یار! ذرا بتانا یہ ‘ٹی وی’ (TV) کتنے کا ہے؟” دکاندار نے انہیں غور سے دیکھا اور غصے سے بولا:“ہم سرداروں کو ٹی وی نہیں بیچتے! جاؤ یہاں سے۔” سردار جی کو بڑی بے عزتی محسوس ہوئی۔ وہ گھر گئے، انہوں نے سوچا کہ دکاندار نے پگڑی کی وجہ سے مجھے پہچان لیا تھا۔اگلے دن سردار جی نے پگڑی اتاری، کلین شیو کی، پینٹ کوٹ پہنا، ہیٹ لگائی اور پورے “انگریز” بن کر دوبارہ اسی دکان پر گئے۔ سٹائل مارتے ہوئے بولے:“ایکسکیوز می! (Excuse me!) ذرا بتائیں گے کہ یہ ‘ٹی وی’ کتنے کا ہے؟” دکاندار نے انہیں اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پھر بولا:“بھائی صاحب! میں نے کل بھی کہا تھا، ہم سرداروں کو ٹی وی نہیں بیچتے!” سردار جی حیران رہ گئے کہ اس نے پھر پہچان…

Read more

قدیم ہند کی گھنی وادیوں میں، جہاں جانور انسانوں کی طرح بولتے سمجھے جاتے تھے، ایک بستی تھی جس کے کنارے دوستی کا تالاب تھا۔ اس تالاب کے پاس ایک کوّا اور ایک کچھوا رہتے تھے۔ دونوں کی دوستی پرانی تھی، مگر مزاج الگ کوّا تیز، کچھوا ٹھہرا ہوا۔ ایک سال سخت قحط پڑا۔ تالاب سوکھنے لگا۔ کوّا اڑ کر دور سے دانہ لا سکتا تھا، مگر کچھوا نہیں۔ کوّے نے چال سوچی: اس نے ایک مضبوط لکڑی منگوائی، دونوں سروں کو چونچوں میں تھامنے کے لیے دو پرندے بلائے، اور کچھوے سے کہا کہ بیچ میں لکڑی دانتوں سے پکڑ لے بس خاموش رہنا۔ سفر شروع ہوا۔ نیچے لوگ حیران ہو کر بولے، ہنسے، آوازیں لگائیں۔ کچھوا خود کو روک نہ سکا۔ جیسے ہی بولا، لکڑی چھوٹی کچھوا گرا۔ مگر قسمت نے پلٹا کھایا: وہ ایک نرم جھاڑی پر گرا، جان بچ گئی۔ کچھوا لوٹا۔ کوّا خاموش تھا۔ کچھ…

Read more

ایک جنگل میں ایک طاقتور شیر شکار کی تلاش میں نکلا۔ اس کے ساتھ ایک ریچھ اور ایک لومڑی بھی تھے۔ قسمت سے تین شکار ہاتھ آئے: ایک گائے، ایک ہرن اور ایک خرگوش۔واپسی پر ریچھ کے انداز میں خود اعتمادی سے زیادہ غرور تھا۔ شیر نے کہا، “بتاؤ، ان کی تقسیم کیسے ہوگی؟”ریچھ نے سینہ تان کر کہا، “گائے آپ کی شان کے لائق ہے، ہرن میرا حصہ، اور خرگوش لومڑی کو دے دیا جائے۔”بات مکمل بھی نہ ہوئی تھی کہ شیر کے ایک ہی وار نے ریچھ کا غرور خاک میں ملا دیا۔اب شیر نے لومڑی کی طرف دیکھا، “تم بتاؤ، تقسیم کیسے کرو گی؟”لومڑی نے ادب سے سر جھکا کر کہا، “حضور، خرگوش صبح کے ناشتے کے لیے، گائے دوپہر کے کھانے کے لیے، اور ہرن رات کے کھانے کے لیے پیش ہے۔”شیر مسکرایا اور بولا، “یہ حکمت کہاں سے سیکھی؟”لومڑی نے نظریں جھکا کر کہا، “ریچھ…

Read more

چوہدری صاحب کو اصیل مرغے پالنے کا جنون تھا، اسی چکر میں وہ ایک ایسا ‘لال بجھکڑ’ مرغہ لے آئے جو دکھنے میں جتنا رعب دار تھا، دماغی طور پر اتنا ہی ‘شارٹ سرکٹ’ کا شکار تھا۔ اس مرغے کا فلسفہ یہ تھا کہ جب اسے نیند نہ آئے، تو پورا علاقہ جاگنا چاہیے۔ایک رات جب پورا گاؤں سکون کی نیند سو رہا تھا، اچانک بادل گرجا۔ مرغے نے سمجھا شاید اس کے اعزاز میں تالیاں بج رہی ہیں، اس نے جوشِ خطابت میں آ کر رات کے پونے تین بجے ایسی ‘انقلابی’ اذان دی کہ گاؤں کے نمبردار، سائیں بخش، بستر سے اچھل کر سیدھے فرش پر جا گرے۔ سائیں بخش نے گھڑی دیکھنے کے بجائے آسمان کی طرف دیکھا اور کالی گھٹاؤں کو صبح کی سفیدی سمجھ کر شور مچا دیا کہ “اوئے دوڑو! فجر نکل رہی ہے اور تم اب تک غفلت میں پڑے ہو!”سائیں بخش کی…

Read more

یہ ایک بہت سبق آموز کہانی ہے۔ وہ مکڑا جس نے رازوں کے ذریعے حکومت کیایک وسیع و عریض جنگل کے بیچوں بیچ “اروکُو” کا ایک قدیم درخت کھڑا تھا۔ اس کی اونچی شاخوں میں زارتھ نامی ایک مکڑا رہتا تھا۔ وہ قد میں چھوٹا تھا، لیکن اس کے دل میں پورے جنگل پر حکومت کرنے کی خواہش تھی۔زارتھ کے پاس نہ تو شیر جیسی طاقت تھی اور نہ ہی ہرن جیسی رفتار۔ اس کے پاس نہ مینڈھے جیسے سینگ تھے اور نہ عقاب جیسے تیز ناخن۔ لیکن اس کے پاس کچھ اور تھا— راز۔ہر رات، وہ ان شاخوں کے درمیان بڑی احتیاط سے جالا بنتا جہاں دوسرے اسے صاف دیکھ نہیں سکتے تھے۔ اس کے دھاگے باریک اور تقریباً نہ ہونے کے برابر تھے، لیکن وہ بہت مضبوط تھے۔ زارتھ بولنے سے زیادہ سننے پر توجہ دیتا تھا۔ اس نے بندر کو کچھوے کی شکایت کرتے سنا، اس نے…

Read more

حضرت حلیمہ سعدیہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا‘ وہ اپنے پرانے مذہب پر قائم رہی تھیں‘ فتح مکہ کے وقت حضرت حلیمہ کی بہن   خدمت میں حاضر ہوئی‘ماں کے بارے میں پوچھا‘ بتایا گیا‘ وہ انتقال فرما چکی ہیں‘ رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے‘ روتے جاتے تھے اور حضرت حلیمہ کو یاد کرتے جاتے تھے‘ رضاعی خالہ کو لباس‘ سواری اور سو درہم عنایت کئے‘ رضاعی بہن شیما غزوہ حنین کے قیدیوں میں شریک تھی‘ پتہ چلا تو انہیں بلایا‘ اپنی چادر بچھا کر بٹھایا‘ اپنے ہاں قیام کی دعوت دی حضرت شیما نے اپنے قبیلے میں واپس جانے کی خواہش ظاہر کی‘ رضاعی بہن کو غلام‘ لونڈی اور بکریاں دے کر رخصت کر دیا ‘ یہ بعد ازاں اسلام لے آئیں‘ یہ ہے شریعت۔ جنگ بدر کے قیدیوں میں پڑھے لکھے کفار بھی شامل تھے‘ ان کافروں کو مسلمانوں کو پڑھانے‘ لکھانے اور سکھانے…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹا لڑکا خوبصورت فن پارے بنانا سیکھنا چاہتا تھا۔ وہ ایک مشہور فنکار (سنگ تراش) کے پاس گیا جو سفید پتھر کے ایک بہت بڑے اور بے ڈول ٹکڑے پر کام کر رہا تھا۔ کئی ہفتوں تک وہ لڑکا اس فنکار کو دیکھتا رہا۔ فنکار ہتھوڑے اور ایک تیز دھار اوزار (چھینی) کی مدد سے پتھر پر ضربیں لگاتا تھا۔ پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہر طرف اڑ رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ فنکار صرف اس بڑے پتھر کو توڑ کر اس کے ٹکڑے کر رہا ہے۔لڑکے نے پوچھا، “آپ اس خوبصورت پتھر کو کیوں توڑ رہے ہیں؟ جب آپ نے اسے شروع کیا تھا، تب تو یہ کتنا ہموار اور مکمل تھا۔”فنکار رکا نہیں، اس نے بس سرگوشی کی، “میں اسے توڑ نہیں رہا، بلکہ میں تو اسے آزاد کر رہا ہوں۔”مہینے گزرتے گئے۔ پتھر کے تمام کھردرے حصے غائب…

Read more

یہ ایک بہت سبق آموز کہانی ہے جو دوستی کے اصل مفہوم کو واضح کرتی ہے۔ دو پڑوسی ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ہی گلی میں ایک نانبائی (روٹی بنانے والا) اور ایک درزی رہتے تھے۔ وہ آپس میں کافی دوستانہ تھے اور ہر صبح ایک دوسرے کو ہاتھ ہلا کر سلام کیا کرتے تھے۔ایک دن درزی سنجیدہ چہرہ لیے نانبائی کی دکان پر آیا اور کہنے لگا: “آج میں بازار میں تھا، وہاں ایک آدمی چلا چلا کر کہہ رہا تھا کہ تمہاری روٹی سڑی ہوئی ہوتی ہے اور تم گندا آٹا استعمال کرتے ہو۔ اس نے سب کو بتایا کہ تم دھوکے باز ہو! وہ تمہارا دشمن ہے!”نانبائی یہ سن کر اداس ہو گیا اور بولا: “میں سمجھ گیا، وہ میرا دشمن ہے۔”اگلے دن درزی پھر آیا اور کہنے لگا: “آج میں پارک میں تھا، وہاں ایک اور شخص سب کو بتا رہا تھا کہ تم…

Read more

پپو میاں کی بارات روانہ ہونے میں صرف آدھا گھنٹہ باقی تھا کہ اچانک گھر میں کہرام مچ گیا۔ پتہ چلا کہ پپو کا وہ شاہی سہرا جو خاص طور پر آرڈر دے کر بنوایا گیا تھا وہ بشیر صاحب کی پالتو بکری چبا گئی ہے۔ بشیر صاحب غصے میں بکری کے پیچھے بھاگ رہے تھے اور پپو کمرے میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا کیونکہ بغیر سہرے کے وہ دولہا کم اور ویٹر زیادہ لگ رہا تھا۔وقت ہاتھ سے نکلا جا رہا تھا اور بینڈ والے دروازے پر دھمال ڈال رہے تھے۔ بشیر صاحب نے ایمرجنسی میٹنگ بلائی اور پپو کے چھوٹے بھائی کو حکم دیا کہ جاؤ جلدی سے بازار سے نیا سہرا لاؤ۔ مگر افسوس کہ اس دن شہر میں ہڑتال تھی اور تمام دکانیں بند تھیں۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ پپو کا ماتھا اتنا چوڑا تھا کہ بغیر سہرے کے وہ کسی ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر…

Read more

تاریخ اور داستانوں میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف بہادری نہیں بلکہ زندگی کا گہرا سبق بھی سکھا جاتے ہیں۔ رستم پہلوان کی موت بھی انہی میں سے ایک ہے۔ رستم، جو میدانِ جنگ کا بے مثال سورما تھا، جس کے نام سے دشمن کانپتے تھے، وہ کسی دشمن کی تلوار سے نہیں گرا… بلکہ اپنوں کے دھوکے کا شکار ہوا۔ اس کا سوتیلا بھائی شغاد، جو دل میں حسد اور کینہ چھپائے بیٹھا تھا، اس کی عظمت اور شہرت برداشت نہ کر سکا۔ اس نے دشمنوں سے ساز باز کر کے ایک مکروہ منصوبہ بنایا۔ شکار کے بہانے ایک ایسی جگہ گڑھے کھدوائے گئے جن میں نوکیلے نیزے گاڑ دیے گئے تھے اور اوپر سے زمین ہموار کر دی گئی تھی۔ رستم اپنے وفادار گھوڑے رخش کے ساتھ بے خبری میں اس جال میں جا گرا۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود اس کی بہادری متاثر نہ ہوئی…

Read more

*ایک دفعہ کا ذکر ہےکہ ایک بادشاہ کی انگلی کٹ گئی۔وزیر نے کہا: “اس میں اللہ کی کوئی بہتری ہوگی۔”بادشاہ بہت غصے میں آ گیا اور وزیر کو جیل میں ڈال دیا۔لیکن وزیر پھر بھی کہتا رہا: “اس میں اللہ کی کوئی بہتری ہوگی۔”چند دن بعد، بادشاہ شکار کے لیے جنگل میں گیا،جہاں ایسے لوگ رہتے تھے جو سال میں ایک آدمی کی قربانی دیتے تھے۔جب بادشاہ کو پکڑ کر قربان کرنے لگے،انہوں نے دیکھا کہ بادشاہ کی انگلی کٹی ہوئی ہے،تو چھوڑ دیا کیونکہ وہ عیب دار کو قربان نہیں کرتے تھے۔بادشاہ واپس آیا، وزیر کو بلایا اور کہا:“واقعی، اللہ کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی بہتری ہوتی ہے۔میری انگلی کٹی، میری جان بچ گئی۔اور تم جیل میں ہو کر بھی یہی کہہ رہے تھے۔”وزیر نے جواب دیا:“اگر میں جیل میں نہ ہوتا، آپ شکار پر مجھے لے کر جاتے،اور آپ کی جگہ مجھے قربان کرتے۔اب آپ سمجھ…

Read more

ٹیپو سلطان (1751-1799)، جو میسور کے حکمران تھے، کی اولاد کے بارے میں دستیاب معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی زیادہ تر نسل آج بھی بھارت میں رہائش پذیر ہے، خاص طور پر کولکتہ (کلکتہ) میں۔ ٹیپو سلطان کی موت کے بعد برطانویوں نے ان کی فیملی کو جلاوطن کر کے ویلور اور پھر کولکتہ منتقل کیا تھا۔ آج کل ان کی اولاد کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، اور وہ مختلف پیشوں میں مصروف ہیں۔کولکتہ میں اولاد:تقریباً 45 براہ راست اولاد کولکتہ میں رہتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر عام کاموں میں مصروف ہیں، جیسے رکشہ چلانا، سائیکل مرمت کرنا، الیکٹریشن کا کام، یا درزی کا کام کرنا۔22af2c کچھ خاندان پرنس انور شاہ روڈ اور ٹولی گنج جیسے علاقوں میں رہتے ہیں، جہاں ان کی مالی حالت عام ہے اور وہ اپنے آباؤ اجداد کی یاد میں تقریبات منعقد کرتے ہیں۔2018 میں، انہوں نے کولکتہ…

Read more

یہ واقعہ آج سے تقریباً بیس سال پہلے کا ہے۔ یورپ کے ایک پُرانے اور تاریخی شہر کے مضافات میں ایک تین منزلہ پتھروں کا بنا گھر تھا۔ اُس گھر کی کھڑکیاں لمبی اور تنگ تھیں، اور باہر سے دیکھنے پر وہ کسی عام عمارت جیسا ہی لگتا تھا۔ لیکن مقامی لوگ اسے “خاموش گھر” کہتے تھے۔ وجہ کوئی واضح نہیں بتاتا تھا، بس اتنا کہتے تھے کہ “وہاں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔”اُس گھر میں ایک خاندان رہنے آیا تھا۔ شوہر، بیوی اور اُن کی دس سالہ بیٹی۔ شوہر ایک انجینئر تھا اور بیوی مقامی اسکول میں پڑھاتی تھی۔ سب کچھ عام تھا، جب تک کہ انہوں نے گھر کی تیسری منزل کا دروازہ نہ کھولا۔گھر خریدتے وقت ایجنٹ نے بتایا تھا کہ اوپر والا فلور اسٹور روم کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، اس لیے کافی عرصے سے بند ہے۔ لیکن نئی جگہ پر آ کر انسان…

Read more

   خلیفہ ہارون الرشید بڑے حاضر دماغ تھے ۔ ایک مرتبہ کسی نے آپ سے پوچھا ۔۔۔۔ “آپ کبھی کسی بات پر لاجواب بھی ہوئے ہیں ۔”انہوں نے کہا؛” تین مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ میں لاجواب ہو گیا ۔ ایک مرتبہ ایک عورت کا بیٹا مرگیا اور وہ رونے لگی ۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ مجھے اپنا بیٹا سمجھیں اور غم نہ کریں ۔” اس نے کہا؛“اس بیٹے کے مرنے پر کیوں نہ آنسوں بہاوں ، جس کے بدلے خلیفہ میرا بیٹا بن گیا ۔”“دوسری مرتبہ مصر میں کسی شخص نے موسیء ہونے کا دعوی کیا ۔ میں نے اسے بلوا کر کہا کہ حضرت موسیء کے پاس تو اللہ تعالی کے دیئے ہوئے معجزات تھے اگر تو موسیء ہے تو کوئی معجزہ دکھا ۔” اس نے جواب دیا؛“موسیء نے تو اس وقت معجزہ دکھایا تھا، جب فرعون نے خدائی کا دعوی کیا تھا، تو بھی…

Read more

2 جولائی 1839 کو ہسپانوی کالونی کیوبا کے ساحل پر ایک تاریک رات میں، سینگبے نامی ایک سیاہ فام شخص نے ہسپانوی بحری جہاز، لا امسٹاد پر سوار اپنی زنجیروں پر لگے تالے کو کھولنے کے لیے ایک ڈھیلے کیل کا استعمال کیا۔ اس نے اور 52 دیگر غیر قانونی طور پر پکڑے گئے افریقیوں نے پھر جہاز پر قبضہ کر لیا، انہوں نے کپتان اور باورچی کو قتل کر دیا، لیکن عملے کے دو اہم افراد کو کچھ نہ کہا جن کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ سیرا لیون (افریقی ملک) کے لیے اپنے گھر روانہ ہو سکتے ہیں۔ عملے کے دونوں ہسپانوی افراد نے ہوشیاری سے کام لیتے ہوئے چپکے سے جہاز کو شمال کی طرف موڑ دیا دو مہینوں تک، بحری جہاز امریکی ساحلوں پر گھومتا رہا آخرکار اسے لانگ آئی لینڈ، نیویارک سے دریافت کر لیا گیا جہاں افریقیوں کو حراست میں لے…

Read more

جب طارق بن زیاد اپنی فوج کے ساتھ اسپین فتح کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو وہ سو گئے اور انہیں خواب میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ آپ ﷺ کے ساتھ آپ کے صحابہ کرام بھی تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “اے طارق! ہمت کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ، تم وہی حاصل کرو گے جس کے لیے تمہیں مقدر کیا گیا ہے!” پھر انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ اندلس میں داخل ہو رہے ہیں۔ وہ نہایت خوشی اور سرور کی حالت میں بیدار ہوئے، کیونکہ وہ جان گئے تھے کہ انہیں اس ہستی کی طرف سے بشارت دی گئی ہے جسے اللہ نے بشارت دینے کے لیے بھیجا تھا ﷺ۔ پھر وہ اپنی فوج کے ساتھ جبل الطارق میں داخل ہوئے، مگر انہوں نے انہیں کیا حکم دیا؟ انہوں نے حکم دیا کہ اپنی کشتیاں جلا دو اور فرمایا: “دشمن…

Read more

حرام تو حرام ہی ہوتا ہے کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کی شادی کو عرصہ ہوگیا مگر گھر میں ولی عہد کی کمی ہی رہی تو اس نے سلطنت کے کونے کونے سے اپنے اور اپنی ملکہ کے علاج معالجے کیلئے حکیم بلوائے۔ مقدر میں لکھا تھا اور اللہ نے ملکہ کی گود ہری کر دی ۔بیٹا پیدا ہوا مگر ایک پیدائشی معذوری کے ساتھ یعنی وہ ایک کان کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔ بادشاہ نے اپنے وزیروں سے مشورہ کیا کہ اتنی بڑی سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالنے کیلئے پیدا ہونے والا یہ ولی عہد جب اپنے آپ کو یوں معذور پائے گا تو احساس محرومی کا شکار ہو جائیگا۔ کس طرح اس کی اس خامی پر قابو پایا جائے؟وزیروں نے مشورہ دیا بادشاہ سلامت، یہ تو کوئی بات ہی نہیں، اعلان کرا دیجیئے کہ آج سے جو بھی بچہ پیدا ہو اس کا ایک کان کاٹ لیا جائے۔…

Read more

عربوں میں یہ عام عادت تھی کہ وہ گھاس اور پانی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے رہتے تھے۔انہی لوگوں میں ایک شخص تھا جس کی ایک ماں تھی—بہت بوڑھی—اور وہ اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ بوڑھی عورت کبھی کبھی اپنی یادداشت کھو بیٹھتی تھی۔ بیٹا اسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا، اسی لیے اس کی ماں کا خیمہ بھی اس کے قریب ہوتا۔ لیکن اس کا بار بار باہر نکلنا بیٹے کے لیے مشقت کا باعث بنتا اور قبیلے کے سفر میں رکاوٹ بن جاتا۔ ایک دن قبیلے نے دوسری جگہ کوچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا:“کل جب ہم چلیں تو میری ماں کو یہیں چھوڑ دینا۔ اس کے پاس تھوڑا پانی اور کھانا رکھ دینا، تاکہ کوئی آ کر اسے لے جائے۔ہمارے لیے بہتر ہے کہ وہ ہم سے دور مرجائے۔” صبح قبیلہ روانہ ہوا اور بیوی نے…

Read more

سلطان عبدلعزیز کا انصاف ۔ جو کوئی نہ کر سکا وہ سلطان نے کر دکھایا شام کا وقت تھا۔ دربارِ شاہی میں سنہری چراغ جل رہے تھے اور انصاف کی کرسی پر بیٹھے تھے سلطان عبدالعزیز۔ دربار میں سناٹا تھا جب ایک نقاب پوش لڑکی کانپتے قدموں کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں، چہرہ زرد، اور آواز میں درد کی لرزش۔وہ بولی،“اے سلطانِ وقت! ایک تاجر نے مجھ سے نکاح کیا، دو ماہ تک مجھے اپنی بیوی بنا کر رکھا، پھر عیاشی کے بعد مجھے گھر سے نکال دیا۔ اب وہ مجھے پہچاننے سے انکار کرتا ہے۔ میں بے آسرا ہوں، انصاف چاہتی ہوں۔”سلطان نے دربان کو اشارہ کیا۔ تاجر کو دربار میں پیش کیا گیا۔ وہ قیمتی لباس میں ملبوس، خوداعتماد انداز میں کھڑا تھا۔ اس نے بڑے سکون سے کہا،“حضور! میں اس عورت کو نہیں جانتا۔ یہ مجھ پر جھوٹا الزام لگا رہی ہے۔”سلطان…

Read more

🤣جب لفٹ میں پھنسے لوگوں نے ایک دوسرے کو بھوت           سمجھ لیا 🤣 آفس کی عمارت پرانی تھی اور لفٹ اکثر نخرے دکھاتی تھی۔ رات کے آٹھ بج رہے تھے جب تین لوگ لفٹ میں سوار ہوئے جن میں ایک پپو میاں، دوسرے ایک صاحب جو سفید کفن نما لمبا کرتا پہنے ہوئے تھے، اور تیسری ایک خاتون تھیں جن کے سر پر بہت زیادہ ٹیلکم پاؤڈر گرا ہوا تھا کیونکہ وہ ابھی بیوٹی پارلر سے ہو کر آئی تھیں۔اچانک ایک زوردار جھٹکا لگا، لائٹ چلی گئی اور لفٹ آدھے راستے میں پھنس گئی۔ گھپ اندھیرا چھا گیا اور لفٹ کے اندر ہوا کا گزر بھی بند ہو گیا۔ خاموشی ایسی کہ دل کی دھڑکن سنائی دینے لگی۔ پپو نے ڈر کے مارے موبائل کی ٹارچ جلائی، لیکن ٹارچ کی روشنی نیچے سے اوپر کی طرف پڑی۔ سفید کرتے والے صاحب کا چہرہ روشنی میں ایسا خوفناک لگا کہ…

Read more

80/114
NZ's Corner