ٹیپو سلطان (1751-1799)، جو میسور کے حکمران تھے، کی اولاد کے بارے میں دستیاب معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی زیادہ تر نسل آج بھی بھارت میں رہائش پذیر ہے، خاص طور پر کولکتہ (کلکتہ) میں۔ ٹیپو سلطان کی موت کے بعد برطانویوں نے ان کی فیملی کو جلاوطن کر کے ویلور اور پھر کولکتہ منتقل کیا تھا۔ آج کل ان کی اولاد کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، اور وہ مختلف پیشوں میں مصروف ہیں۔
کولکتہ میں اولاد:
تقریباً 45 براہ راست اولاد کولکتہ میں رہتی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر عام کاموں میں مصروف ہیں، جیسے رکشہ چلانا، سائیکل مرمت کرنا، الیکٹریشن کا کام، یا درزی کا کام کرنا۔22af2c کچھ خاندان پرنس انور شاہ روڈ اور ٹولی گنج جیسے علاقوں میں رہتے ہیں، جہاں ان کی مالی حالت عام ہے اور وہ اپنے آباؤ اجداد کی یاد میں تقریبات منعقد کرتے ہیں۔
2018 میں، انہوں نے کولکتہ پریس کلب میں جمع ہو کر ٹیپو سلطان کی ایک مجسمہ بنانے اور ان کی یاد میں بنی مساجد کی بحالی کے منصوبے بنائے تھے۔ ویسٹ بنگال کی حکومت نے اس کی حمایت کی تھی۔d169bb وہ ہر سال 20 نومبر کو ٹیپو سلطان کی سالگرہ مناتے ہیں۔
خاندان کی تعداد کم ہو رہی ہے، اور کچھ ارکان مشرقی بنگال (اب بنگلہ دیش) منتقل ہو چکے ہیں۔5ddfc7
لکھنؤ میں اولاد:
کچھ اولاد لکھنؤ، اتر پردیش میں رہتی ہے۔ مثال کے طور پر، آٹھویں نسل کے دو بھائی بلال علی شاہ سلطان (طالب علم) اور فراز علی شاہ سلطان (زیورات کی صنعت میں تربیت یافتہ) ہیں۔ وہ ٹیپو کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔68d0c1 (یہ معلومات 2017 کی ہے، لیکن کوئی نئی تبدیلی کی خبر نہیں ملی۔)
نور عنایت خان کی لائن سے اولاد:
ٹیپو سلطان کی پڑپوتی نور عنایت خان (1914-1944)، جو دوسری عالمی جنگ میں برطانیہ کی جاسوس تھیں، کی لائن سے کچھ اولاد امریکہ اور یورپ میں ہے۔ نور کے والد حضرت عنایت خان ٹیپو کے پوتے عبد الخالق کے لائن سے تھے۔0edb9e نور کے بھائی ولایت عنایت خان اور ہدایۃ عنایت خان صوفی ٹیچرز تھے۔ آج کل ان کی اولاد، جیسے زیا عنایت خان (ولایت کے بیٹے)، امریکہ میں صوفی آرڈر انٹرنیشنل کے لیڈر ہیں اور روحانی کاموں میں مصروف ہیں۔
دیگر مقامات:
کچھ خاندان بنگلہ دیش میں بھی ہو سکتے ہیں، جہاں کچھ ارکان منتقل ہوئے۔7087b0 تاہم، کوئی حالیہ (2026 کی) مخصوص خبر نہیں ملی کہ ان کی حالت میں کوئی بڑی تبدیلی آئی ہو۔ زیادہ تر اولاد اپنے آباؤ اجداد کی وراثت کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، جیسے مساجد کی دیکھ بھال اور تاریخی تقریبات۔
