خلیفہ ہارون الرشید بڑے حاضر دماغ تھے ۔ ایک مرتبہ کسی نے آپ سے پوچھا ۔۔۔۔
“آپ کبھی کسی بات پر لاجواب بھی ہوئے ہیں ۔”
انہوں نے کہا؛
” تین مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ میں لاجواب ہو گیا ۔ ایک مرتبہ ایک عورت کا بیٹا مرگیا اور وہ رونے لگی ۔ میں نے اس سے کہا کہ آپ مجھے اپنا بیٹا سمجھیں اور غم نہ کریں ۔”
اس نے کہا؛
“اس بیٹے کے مرنے پر کیوں نہ آنسوں بہاوں ، جس کے بدلے خلیفہ میرا بیٹا بن گیا ۔”
“دوسری مرتبہ مصر میں کسی شخص نے موسیء ہونے کا دعوی کیا ۔ میں نے اسے بلوا کر کہا کہ حضرت موسیء کے پاس تو اللہ تعالی کے دیئے ہوئے معجزات تھے اگر تو موسیء ہے تو کوئی معجزہ دکھا ۔”
اس نے جواب دیا؛
“موسیء نے تو اس وقت معجزہ دکھایا تھا، جب فرعون نے خدائی کا دعوی کیا تھا، تو بھی یہ دعوی کر تو میں معجزہ دکھاوں گا ۔”
” تیسری مرتبہ لوگ ایک گورنر کی غفلت اور کاہلی کی شکایت لےکر آئے ۔”
میں نے کہا کہ وہ شخص تو بہت نیک، شریف اور ایماندار ہے ۔۔۔
انہوں نے جواب دیا کہ؛
” پھر آپ اپنی جگہ اسے خلیفہ بنادیں تاکہ اس کا فائدہ سب کو پہنچے ۔”۔۔۔۔ !!!
