بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

یہ واقعہ آج سے تقریباً بیس سال پہلے کا ہے۔ یورپ کے ایک پُرانے اور تاریخی شہر کے مضافات میں ایک تین منزلہ پتھروں کا بنا گھر تھا۔ اُس گھر کی کھڑکیاں لمبی اور تنگ تھیں، اور باہر سے دیکھنے پر وہ کسی عام عمارت جیسا ہی لگتا تھا۔ لیکن مقامی لوگ اسے “خاموش گھر” کہتے تھے۔ وجہ کوئی واضح نہیں بتاتا تھا، بس اتنا کہتے تھے کہ “وہاں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔”
اُس گھر میں ایک خاندان رہنے آیا تھا۔ شوہر، بیوی اور اُن کی دس سالہ بیٹی۔ شوہر ایک انجینئر تھا اور بیوی مقامی اسکول میں پڑھاتی تھی۔ سب کچھ عام تھا، جب تک کہ انہوں نے گھر کی تیسری منزل کا دروازہ نہ کھولا۔
گھر خریدتے وقت ایجنٹ نے بتایا تھا کہ اوپر والا فلور اسٹور روم کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، اس لیے کافی عرصے سے بند ہے۔ لیکن نئی جگہ پر آ کر انسان تجسس میں آ ہی جاتا ہے۔
ایک شام، جب بارش ہو رہی تھی اور آسمان پر بادل گرج رہے تھے، شوہر نے اوپر جا کر دروازہ کھولنے کا فیصلہ کیا۔ دروازہ پرانا تھا، لکڑی کا، اور اس پر لوہے کا زنگ آلود ہینڈل لگا تھا۔ جیسے ہی اس نے زور لگا کر دروازہ کھولا، ایک تیز اور عجیب سی بُو باہر نکلی۔ نہ وہ سڑاند تھی، نہ عام نمی کی بو… بلکہ کچھ جلا ہوا، کچھ کڑوا۔
کمرہ اندھیرا تھا۔ صرف ایک چھوٹی سی کھڑکی تھی جس سے بجلی کی چمک اندر آتی تو چند لمحوں کے لیے کمرہ روشن ہو جاتا۔
فرش پر گرد جمی ہوئی تھی۔ لیکن درمیان میں ایک جگہ ایسی تھی جہاں گرد کم تھی… جیسے وہاں کچھ رکھا گیا ہو۔
اسی جگہ ایک پرانا لکڑی کا صندوق پڑا تھا۔
شوہر نے تجسس میں صندوق کھولا۔
اندر پرانے کپڑوں کے نیچے ایک کپڑے میں لپٹی ہوئی چیز تھی۔ جب اس نے اسے کھولا تو اندر ایک گڑیا نکلی۔ لیکن وہ عام گڑیا نہیں تھی۔ اس کے چہرے پر سیاہ دھاگوں سے عجیب نشان بنے ہوئے تھے۔ آنکھوں کی جگہ کالے بٹن لگے تھے، اور سینے پر سرخ دھاگے سے ایک نشان بنا تھا… جیسے کوئی خاص علامت ہو۔
شوہر نے اسے مذاق سمجھ کر نیچے لا کر بیوی کو دکھایا۔ بیوی نے فوراً کہا، “اسے واپس رکھ دو۔ مجھے اچھا احساس نہیں ہو رہا۔”
لیکن شوہر ہنس دیا۔ “یہ صرف ایک پرانی گڑیا ہے۔”
اُس رات پہلی بار عجیب واقعہ پیش آیا۔
رات کے تقریباً تین بجے بیٹی چیخ کر اٹھی۔ وہ کانپ رہی تھی۔ اُس نے کہا کہ اُس نے خواب میں دیکھا کہ کوئی عورت اُس کے کمرے کے دروازے کے پاس کھڑی ہے۔ لمبے سیاہ بال، سفید چہرہ، اور آنکھیں بالکل خالی۔
والدین نے اسے تسلی دی۔ کہا کہ یہ نیا گھر ہے، اس لیے ڈر لگ رہا ہے۔
لیکن اگلی رات پھر وہی وقت… تین بجے۔
اس بار بیٹی نے کہا کہ وہ عورت خواب میں نہیں تھی۔ وہ جاگ رہی تھی… اور دروازہ خود بخود آہستہ آہستہ کھلا تھا۔
باپ نے غصے میں آ کر پورے گھر کی تلاشی لی۔ سب دروازے بند تھے۔ کھڑکیاں بھی ٹھیک تھیں۔
چند دن گزرے۔ گھر میں چیزیں اپنی جگہ سے ہلنے لگیں۔ باورچی خانے کے برتن رات کو گر جاتے۔ سیڑھیوں پر قدموں کی آواز آتی، جیسے کوئی اوپر جا رہا ہو۔ لیکن جب دیکھتے تو کوئی نہیں ہوتا۔
ایک دن بیوی نے محسوس کیا کہ گڑیا جو انہوں نے ڈرائنگ روم کی شیلف پر رکھی تھی، اب وہاں نہیں ہے۔
وہ تیسری منزل پر گئی۔
دروازہ بند تھا۔ لیکن اندر سے ہلکی ہلکی سرگوشیوں کی آواز آ رہی تھی۔
اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اُس نے ہمت کر کے دروازہ کھولا۔
کمرے کے درمیان وہی گڑیا رکھی تھی۔ لیکن اب وہ سیدھی کھڑی تھی، جیسے کسی نے اسے ترتیب سے رکھا ہو۔ اُس کے اردگرد فرش پر چاک سے دائرہ بنا ہوا تھا۔ اور دائرے کے اندر کچھ الفاظ لکھے تھے… جو مقامی زبان میں نہیں تھے۔
بیوی گھبرا کر نیچے آئی۔ شوہر نے جا کر دیکھا تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ نہ دائرہ، نہ الفاظ۔ صرف گرد آلود فرش… اور گڑیا صندوق کے اندر۔
اب شوہر کو بھی شک ہونے لگا۔
انہوں نے مقامی لائبریری جا کر اُس گھر کی تاریخ معلوم کرنے کی کوشش کی۔ پتہ چلا کہ کئی سال پہلے وہاں ایک بوڑھی عورت رہتی تھی جس پر کالا جادو کرنے کا الزام تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ وہ گڑیا کے ذریعے لوگوں پر اثر ڈالتی تھی۔ اچانک ایک رات وہ مر گئی۔ لیکن اُس کی لاش کئی دن بعد ملی، اور کمرے کی دیواروں پر عجیب نشانات بنے ہوئے تھے۔
یہ سن کر شوہر کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔
اسی رات سب سے خوفناک واقعہ ہوا۔
گھر کی ساری بتیاں ایک ساتھ بجھ گئیں۔ اندھیرا مکمل تھا۔ باہر بارش ہو رہی تھی۔ بیٹی کے کمرے سے دوبارہ چیخ کی آواز آئی۔
جب والدین دوڑ کر پہنچے، بیٹی دیوار کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ اُس کی نظریں دروازے پر جمی تھیں۔
دروازہ آہستہ آہستہ بند ہو رہا تھا… جیسے کسی نے اندر سے دھکا دیا ہو۔
اور فرش پر وہی گڑیا پڑی تھی۔
اس بار گڑیا کے سینے پر لگا سرخ دھاگہ کھل چکا تھا۔ اور اُس کے کپڑے پر نمی تھی… جیسے وہ بارش میں بھیگی ہو۔
اگلے دن انہوں نے ایک مقامی پادری اور ایک روحانی ماہر کو بلایا۔ اُس نے گھر کا معائنہ کیا۔ تیسری منزل پر جا کر وہ کچھ دیر خاموش کھڑا رہا۔ پھر اُس نے کہا، “یہ جگہ خالی نہیں ہے۔ یہاں کچھ بند کیا گیا تھا… اور آپ نے اسے چھیڑ دیا ہے۔”
اُس نے بتایا کہ گڑیا جادوئی عمل کا حصہ ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے کسی کی روح یا منفی طاقت کو اس کے ذریعے باندھا گیا ہو۔
ماہر نے مخصوص دعائیں پڑھیں۔ کمرے میں عجیب سا دباؤ محسوس ہوا۔ جیسے ہوا بھاری ہو گئی ہو۔ گڑیا کو ایک لوہے کے ڈبے میں بند کیا گیا اور شہر سے باہر لے جا کر جلایا گیا۔
جب گڑیا آگ میں ڈالی گئی تو شعلہ غیر معمولی طور پر اونچا اٹھا۔ اور کچھ لمحوں کے لیے ایسا لگا جیسے آگ کے اندر کوئی سایہ تڑپ رہا ہو۔
اس کے بعد گھر میں سب کچھ معمول پر آ گیا۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔
چند سال بعد وہ خاندان وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ نیا خریدار آیا۔ اُس نے گھر کی مرمت شروع کی۔
تیسری منزل کی دیوار توڑتے وقت اندر سے ایک چھوٹا سا خفیہ خانہ ملا۔
اور اُس کے اندر… ایک اور گڑیا رکھی تھی۔
اسی نشان کے ساتھ۔
یہ واقعہ مقامی اخبار میں بھی شائع ہوا تھا، لیکن کچھ ہی دنوں بعد خبر ہٹا دی گئی۔
آج بھی اُس شہر کے لوگ کہتے ہیں کہ جادو صرف کہانی نہیں ہوتا۔ کچھ چیزیں دفن کر دی جاتی ہیں… لیکن اگر انہیں چھیڑا جائے، تو وہ دوبارہ سانس لینے لگتی ہیں۔
اگر آپ کو یہ سچا اور پراسرار واقعہ چونکا گیا… تو اسے شیئر کریں۔ کیونکہ کچھ کہانیاں صرف پڑھنے کے لیے نہیں ہوتیں… بلکہ خبردار کرنے کے لیے ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner