ایک کمزور ماہی گیر کے جال میں ایک طاقتور مچھلی پھنس گئی۔ ماہی گیر کے بس میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ جال کو پانی سے کھینچ سکے۔ جب مچھلی نے زور لگایا تو جال اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔
شعر:
دام ہر بار ماہی آوردے
ماہی ایں بار رفت و دام ببرد
ترجمہ:
جال ہر بار مچھلی پکڑتا ہے، لیکن اس بار مچھلی گئی تو جال کو ہی لے گئی۔
دوسرے ماہی گیر اس واقعے پر اتنے افسردہ ہوئے کہ انہوں نے اس کمزور ماہی گیر کو ملامت کرنا شروع کر دیا، کہ ایسا بڑا شکار تیرا جال میں پھنس گیا اور تو اسے تھام نہ سکا۔
ماہی گیر نے جواب دیا:
“اے بھائیو، میں کیا کر سکتا تھا؟ یہ مچھلی میرا رزق نہیں تھی، اور میرا رزق ابھی باقی تھا۔ دانا کہتے ہیں کہ شکاری قسمت کے بغیر دریا سے مچھلی نہیں پکڑ سکتا، اور مچھلی بغیر وقت کے خشکی پر نہیں مرتی۔”
سبق: ہر شخص کا رزق مقرر ہے، قسمت کے بغیر کسی کو بھی مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں
