بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک آدمی نے حاتم طائی سے پوچھا: “اے حاتم! کیا سخاوت میں کوئی تجھ سے آگے بڑھا ہے؟” حاتم نے جواب دیا: “ہاں!… قبیلہ طے کا ایک یتیم بچہ مجھ سے زیادہ سخی نکلا، جس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ دوران سفر میں شب بسری کے لیے ان کے گھر گیا، اس کے پاس دس بکریاں تھیں، اس نے ایک ذبح کی، اس کا گوشت تیار کیا اور کھانے کیلئے مجھے پیش کر دیا۔ اس نے کھانے کے لیے مجھے جو چیزیں دیں ان میں مغز بھی تھا۔ میں نے اسے کھایا تو مجھے پسند آیا، میں نے کہا: “واہ! کیا خوب ذائقہ ہے” یتیم بچہ فوراً باہر نکل گیا اور ایک ایک کر کے تمام بکریاں میری لا علمی میں اس نے ذبح کر ڈالیں اور سب کے مغز مجھے پیش کیے۔ جب میں کوچ کرنے لگا تو کیا دیکھا کہ گھر کے ارد گرد ہر طرف خون…
urdu blog urdupoetry urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge urdustory
بلاعنوان۔۔۔!
جنگل میں ایک شیرنی حکمرانی کرتی تھی۔اس کے پاس طاقت تھی، تیز نظریں تھیں، اور وفادار جانور ہر وقت اس کے ساتھ رہتے تھے۔سب جانتے تھے کہ شیرنی کا حکم لازمی ہے، اور کوئی بھی اس کے فیصلے کے خلاف نہیں جا سکتا۔شیرنی کو اپنی طاقت پر فخر تھا، اور وہ سمجھتی تھی کہ طاقت ہی سب کچھ ہے—جنگل میں امن، فیصلے، اور احترام سب اسی سے قائم رہتا ہے۔مگر جنگل کے کچھ جانور اس سے مختلف سوچ رکھتے تھے۔سب سے ذہین اور چالاک جانور ایک چھوٹی لومڑی تھی۔لومڑی نہ صرف تیز دماغ کی مالک تھی، بلکہ اس کے دل میں سب جانوروں کی بھلائی کی فکر بھی تھی۔اس نے کئی بار کہا:“رانی، طاقت ضروری ہے، مگر سمجھ بوجھ اور سننا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر ہم سب ایک دوسرے کے خوف، ضرورت اور احساسات کو سمجھیں، تو جنگل میں حقیقی امن قائم ہوگا۔”شیرنی نے لومڑی کی بات کو…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
عشقِ فانی کا ایک عبرت انگیز واقعہ
ایک شہزادہ اپنی رعایا کی ایک غریب مگر نہایت حسین لڑکی کے حسن پر ایسا فریفتہ ہوا کہ کھانا پینا چھوڑ بیٹھا۔ ہر وقت اسی کے ہجر میں آہیں بھرتا اور بے چین رہتا۔ بادشاہ کو جب اس حال کا علم ہوا تو وہ سخت پریشان ہوا۔ اس نے سوچا کہ اگر عالمِ شہزادگی میں یہ کیفیت ہے تو کل تخت نشین ہو کر نجانے کیا کرے گا۔ چنانچہ اس نے وزیرِ دانا سے مشورہ کیا کہ کسی حکمت سے شہزادے کی اصلاح کی جائے۔وزیر نے چند روز کی مہلت طلب کی۔ حالات کا جائزہ لینے کے بعد اس نے تدبیر سے لڑکی اور اس کے اہلِ خانہ کو محل میں ملازم رکھوا لیا اور لڑکی کو اپنی بیگم کی خاص کنیز مقرر کر دیا۔ پھر ایک حکیم کے مشورے سے اس کے کھانے میں سخت اسہال آور دوا ملا دی۔ نتیجتاً وہ لڑکی شدید کمزوری کا شکار ہو گئی…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک پیر صاحب نے بڑی دھوم دھام سے اپنی شادی کی۔ شادی کے بعد جب سب فارغ ہوئے تو ایک حلوائی (جو دیگچیوں میں پکوان بناتا تھا) پیر صاحب کے پاس آیا۔ پیر صاحب نے بڑے وقار سے فرمایا:“بھائی! بتاؤ، پیسے چاہیے یا دعا؟” حلوائی نے ادب سے کہا:“حضور! آپ ہمارے خاندانی پیر ہیں، پیسے نہیں، بس دعا دے دیں۔” پیر صاحب نے فوراً دعا دے دی۔ حلوائی خوش ہو کر اپنا سامان اٹھایا اور چل دیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک میراثی آیا اور بولا:“پیر صاحب! مجھے بھی کچھ عطا کریں۔” پیر صاحب نے پوچھا:“پیسے چاہیے یا دعا؟” میراثی نے ہوشیاری سے کہا:“پچاس کی دعا دے دیں، اور پچاس روپے بھی دے دیں۔” پیر صاحب نے ہاتھ اٹھائے اور دعا شروع کر دی…دعا کرتے گئے… کرتے گئے… کرتے گئے…اتنی لمبی دعا کی کہ گھنٹہ گزر گیا۔ آخرکار دعا ختم ہوئی تو پیر صاحب نے میراثی سے کہا:“بھائی! پتا ہی نہیں…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
داروغہ کا کوٹ
ایک شخص شہر کے باہر گھوم رہا تھا۔ اس نے دیکھا داروغہ شہر ایک درخت کے نیچے سو رہا ہے ۔ شراب کی بوتل اس کی بغل میں دبی ہوئی تھی۔ اور منہ سے شراب کی بو آرہی تھی ۔ داروغہ خراٹے لے رہا تھا۔ اس نے بڑے اطمینان سے داروغہ کی نئی اونی قبا اتاری اور وہاں سے رخصت ہو گیا ۔ شراب کے نشے اور نیند میں اسے پتا ہی نہ چلا۔ جب داروغہ کی آنکھ کھلی اور شراب کا نشہ اترا تو اس نے دیکھا کہ اس کی نئی قبا غائب ہے ۔ وہ گھر واپس آئے اور اپنے ملازموں سے کہا کہ میری قباچوری ہو گئی ہے تم چور کو تلاش کر کے فورا میرے سامنے پیش کرو۔ داروغہ کے ملازم تلاش میں نکلے اور آخر انھیں وہ آدمی جس نے قبا چرائی تھی مل گیا ۔ اسے پکڑ کر وہ داروغہ کے پاس لے آئے…
گریمورس جادو کی کتاب🔥🥺
حضرت سلیمانؑ کے بعد انکے بیٹے رحبعام نے سلطنت کی باگ دوڑ سنبھالی مگر کچھ عرصہ کے بعد یہودیوں کے دس قبیلوں نے بغاوت کر دی مورخین نے اس بغاوت و جرات کی وجہ حضرت سلیمانؑ کی وفات کے بعد شیطان کی طرف سے انکے تخت کے نیچے رکھے جانے والی جادو کی کتابوں کا ان دس قبیلوں کےسرداروں کا لے لینا تھا بھگڈر میں ان سرداروں نے جو اس وقت حضرت سلیمانؑ کے دربار میں درباری کی حیثیت سے تھے موقع سے فائدہ اٹھایا اور وہ کتابیں اٹھا کے یہ الزام۔لگایا کہ نعوذباللّٰہ سلیمان نبیؑ نہیں بلکہ جادوگر تھے اور ان کتابوں کو اپنے پاس رکھ لیا بعد میں جب رحبعام بادشاہ بنا تو ان سرداروں نے ان جادو کی کتابوں سے فائدہ اٹھایا اور ایک الگ سلطنت جسے سلطنت اسرائیل یا سامریہ کا نام دیاگیا بنالی رحبعام کے بعد اسکا بیٹا اور حضرت سلیمانؑ کا پوتا ابیہا یا…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
لکھنو میں ایک استاد بڑی ثقیل قسم کی اردو بولا کرتے تھے اور اپنے شاگردوں کو بھی یہی “نصیحت” کرتے تھے، کہ جب بات کرنی ہو،،،،،، تو تشبیہات، استعارات، محاورات اور ضرب الامثال سے آراستہ پیراستہ اردو زبان استعمال کیا کرو۔ ایک بار “دورانِ تدریس” یہ “استاد صاحب” حقہ پی رہے تھے انھوں نے جو زور سے حقہ گڑگڑایا،،،،، تو اچانک چلم سے ایک چنگاری اڑی،، اور استاد جی کی پگڑی پر جا پڑی۔ ایک شاگرد اجازت لے کر کھڑا ہوا اور بڑے ادب سے گویا ہوا: “حضور والا؛ یہ بندہ “ناچیز” حقیر فقیر، پُر تقصیر، ایک روح فرسا حقیقت،حضور کے “گوش گزار” کرنے کی جسارت کر رہا ہے،،،،،، وہ یہ کہ؛ آپ لگ بھگ نصف گھنٹہ سے حقہ نوشی ادا فرما رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چند ثانیے قبل میری چشم نارسا نے ایک اندوہناک منظر کا مشاہدہ کیا،،،،،، کہ ایک شرارتی آتشی پتنگا آپکی چلم سے افقی سمت میں بلند ہو کر،چند…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
وہ مخلوق جو ڈائنوسارز سے بھی پہلے یہاں موجود تھی 🦎⏳ہمیشہ سے یہ مانا جاتا رہا ہے کہ ڈائنوسارز اس زمین کے پہلے اور طاقتور ترین حکمران تھے لیکن حال ہی میں ہونے والی ایک کھدائی نے اس نظریے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ہمالیہ کے دامن میں جمی برف کے نیچے سے ایک ایسی مخلوق کے ڈھانچے ملے ہیں جن کی ساخت موجودہ سائنس کی سمجھ سے باہر ہے۔ یہ مخلوق ڈائنوسارز کے دور سے بھی کروڑوں سال پہلے کی ہے جب زمین پر آکسیجن کا تناسب آج کے مقابلے میں بہت زیادہ تھا۔ان عجیب و غریب ڈھانچوں کے سر پر تین آنکھیں اور پشت پر دھاتی ڈھال جیسی ہڈیاں موجود ہیں جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ صرف شکاری نہیں تھے بلکہ ان میں ذہانت کی ایک الگ ہی سطح موجود تھی۔ ماہرین آثار قدیمہ اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے ان ڈھانچوں کے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
امیر تیمور اور سلطان بایزید یلدرم کے درمیان ہونے والی خونریز اور ہولناک “جنگِ انقرہ” کی تاریخ، جب عثمانیوں کا طاقتور ترین سلطان امیر تیمور کی قید میں مارا گیا۔803 ہجری میں امیر تیمور نے آرمینیا کی سمت سے عثمانی سلطنت کی سرحد میں داخل ہو کر شہر سیواس کا محاصرہ کر لیا۔ یہ شہر چند سال پہلے سلطان بایزید کے قبضے میں آیا تھا اور اس کی دیواریں نہایت مضبوط تھیں۔ شہر کی حفاظت سلطان بایزید کے بڑے بیٹے، شہزادہ ارطغرل، کی قیادت میں ہو رہی تھی۔ عثمانی سپاہیوں نے بڑی بہادری سے دفاع کیا اور ابتدا میں تیمور کی عظیم فوج کامیاب نہ ہو سکی۔لیکن آخرکار تیمور نے ایک خطرناک تدبیر اختیار کی۔ اس نے ہزاروں مزدوروں سے شہر کی دیواروں کی بنیادیں کھدوائیں اور نیچے سرنگیں بنوائیں۔ جب سرنگیں مکمل ہو گئیں تو لکڑی کے سہاروں کو آگ لگا دی گئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے مضبوط دیواریں…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
کنجوس کا بزنس پلان
یہ قصہ ایک ایسے شخص کا ہے جن کا نام تو سخی محمد تھا، لیکن پورے علاقے میں وہ مکھی چوس خان کے نام سے مشہور تھے۔ ان کی کنجوسی کے قصے اتنے عام تھے کہ لوگ کہتے تھے اگر ان کے ہاتھ سے پسینہ بھی چھوٹ جائے تو وہ اسے بھی تالے میں بند کر دیں۔ایک دن سخی محمد سخت بیمار ہو گئے۔ جب انہیں لگا کہ اب وقتِ رخصت قریب ہے، تو انہوں نے اپنے تینوں بیٹوں کو پاس بلایا۔ ان کی حالت دیکھ کر بڑا بیٹا رونے لگا، لیکن سخی محمد نے کمزور آواز میں کہا:اوئے بے وقوف! آنسو بہا کر قیمتی پانی ضائع نہ کر، جا کر پیاز کاٹ تاکہ لوگوں کو لگے کہ تو واقعی غمزدہ ہے اور پیاز کا سالن بھی بن جائے۔پھر انہوں نے وصیت شروع کی:دیکھو بیٹو! مرنا تو برحق ہے، لیکن فضول خرچی حرام ہے۔ میری میت کے لیے نیا کفن…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
بلاعنوان۔۔۔🙂!
جب ہلاکو خان نے بغداد کو فتح کیا تو دجلہ و فرات کا پانی سیاہی سے نہیں بلکہ انسانوں کے خون سے سرخ ہو چکا تھا۔ کتب خانے جل چکے تھے، مدرسے ویران ہو گئے تھے، اور شہر کی گلیوں میں موت رقص کر رہی تھی۔ عباسی خلافت کا چراغ گل ہو چکا تھا اور بغداد، جو علم و دانش کا مرکز تھا، ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔ہلاکو خان نے شہر کے باہر اپنا عظیم الشان ڈیرہ لگایا۔ خیموں کی قطاریں، مسلح سپاہ، اور خوف کی ایسی فضا کہ پرندہ بھی پر مارنے سے پہلے سوچے۔ اسی ڈیرے سے اس نے بغداد میں پیغام بھجوایا:“شہر کا سب سے بڑا عالم میرے پاس حاضر ہو۔”یہ پیغام بجلی بن کر شہر میں پھیل گیا۔ لوگ سہم گئے۔ علما، فقہا، محدثین—سب جانتے تھے کہ ہلاکو خان علم کا نہیں، طاقت کا پجاری ہے۔ اس کے دربار میں جانا موت کو دعوت دینے…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory l
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک بار ایک دیہاتی اپنے شہر والے دوست سے ملنے آیا جو بہت بڑا کنجوس تھا۔ دیہاتی خالی ہاتھ نہیں آیا، بلکہ اپنے ساتھ تحفے کے طور پر ایک موٹی تازی “مرغابی” (پرندہ) لے کر آیا۔کنجوس میزبان بہت خوش ہوا۔ اس نے مرغابی پکائی اور دونوں نے مزے سے کھائی۔ اگلے دن، کچھ اجنبی لوگ کنجوس کے گھر آ دھمکے اور کھانے کا مطالبہ کیا۔کنجوس نے پوچھا: “تم کون ہو؟”انہوں نے کہا:“ہم آپ کے اس دوست کے ‘دوست’ ہیں جو کل آپ کے لیے مرغابی لے کر آیا تھا۔”کنجوس نے کچھ نہیں کہا اور انہیں کل کی بچی ہوئی مرغابی کا “شوربہ” (سالن کا پانی) پلا دیا۔ تیسرے دن، کچھ اور لوگ آ گئے اور بولے:“ہم آپ کے اس دوست کے دوست کے ‘ہمسائے’ ہیں جو مرغابی لایا تھا۔”کنجوس نے انہیں بھی جیسے تیسے کچھ کھلا کر ٹال دیا۔ چوتھے دن، حد ہو گئی۔ 10، 12 لوگ کنجوس کے گھر…
#urdustory #urduquotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollectionmessageoftheday urdu blog urdustory
🔘 یورپی سپین پر مسلمانوں کی حاکمیت
دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نےبحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے 🔘 اسپین کا جنوبی علاقہ اندلس آج بھی یورپ کی سب سے خوبصورت اور تاریخی خطوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں کی مٹی میں آٹھ صدیوں تک اسلامی تمدن کی خوشبو بسی رہی۔ یہ وہ سرزمین ہے جسے مسلمانوں نے الاندلس کا نام دیا، اور جہاں 711ء سے 1492ء تک تقریباً 781 سال تک اسلامی حکمرانی قائم رہی۔ یہ دور نہ صرف فتوحات کا ہے بلکہ علم، فن، تعمیرات اور رواداری کا بھی شاندار باب ہے۔ 🔘 یہ سب 711ء میں شروع ہوا جب طارق بن زیاد نے موسیٰ بن نصیر کے حکم پر افریقہ سے گزر کر آبنائے جبل الطارق عبور کی۔ ویزی گوتھ بادشاہ راڈرک (رودرگو) کو وادی لکہ میں فیصلہ کن شکست دی۔ طارق نے اپنے سپاہیوں سے کہا تھا: “دشمن سامنے ہے اور پیچھے سمندر!”۔ اس کے بعد چند ہی…
#MessageOfTheDay #میسیج_آف_دی_ڈے #DailyMotivation #UrduQuotes #MoralStory #bestphotochallenge #InspirationalQuotes #NZEECollection urdu blog urdustory
چار ملنگ
چار ملنگ شہر سے باہر ایک کٹیا میں رہتے تھے۔۔ایک پولیس کا حوالدار بھی ان کے پاس بھنگ پینے آجاتا۔۔ایک دن تنگ آ کر حوالدار کو “دھتورا ” پلا دیا۔حوالدار مر گیا۔ملنگوں نے اسے چار پائی پر ڈالا اوپر چادر چڑھائی اور چار پائی کے ایک ایک پائے کو کندھا دے دیا۔ دیہاتیوں میں لوگ تعلق کی بنا پر جنازے میں شامل ہوتے ہیں اور شہروں میں لوگ کلمہ شہادت سن کر۔جب ملنگ شہر میں داخل ہوئے تو کلمہ شہادت کا نعرہ لگانے لگے۔شہری مسلمان جنازے کو کندھا دینے لگے۔ جب ملنگوں نے دیکھا کہ کافی لوگ جنازے کے ساتھ چل رہے ہیں تو وہ کھسک گئے۔جنازہ قبرستان پہنچا تو نہ کوئی والی وارث اور نہ ہی قبر کھدی ہوئی۔ پولیس کو اطلاع کی گئی۔پولیس والوں نے جب میت کے چہرے سے چادر ہٹائی تو اپنا ہی حوالدار نکلا۔۔۔کلمہ شہادت کہنے والوں کو دس دس ہزار دے کر جان چھڑانا…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ابن بطوطہ‘‘میں ایک واقعہ لکھا ہے کہ بحر انٹلا نٹک میں ایک مرتبہ طوفان کی وجہ سے عربوں کا ایک جہاز ٹوٹ گیا ،سمندر کی موجوں نے اسے برباد کردیا؛ مگر اللہ تعالیٰ نے ایک عرب کو جزیرہ کی طرف پہونچا دیا وہ آبادی میں پہنچے تو معلوم ہوا کہ پوری بستی غیر مسلموں سے آباد ہے ایک غریب کے جھونپڑے میں فروکش ہوئے کچھ مدت کے بعد گھر والے غمگین اور شکستہ دل تھے ، عرب مہمان نے اپنے محسن مالک ِمکان سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہاں ہر سال سمندر سے ایک بلا آتی ہے اور بستی کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے اس بلا کو ٹالنے کے لیے ایک رسم ادا کی جاتی ہے کہ پوری بستی میں سے ایک حسین و جمیل لڑکی کو زیورات سے آراستہ کر کے سمندر کے کنارے ایک مندر میں رات میں چھوڑ آتے ہیں لڑکی بلا کی بھینٹ چڑھ…
سنڑھ
پرانے زمانے میں چور دیہاتوں میں ایک واردات کا طریقہ استعمال کرتے تھے جسے “سنڑھ لگانا” کہتے تھے۔ یہ ایک خاموش اور نہایت چالاکی سے کی جانے والی واردات تھی۔غمی خوشی کے موقع پر گھر کی ماسی، جو روزمرہ کے کاموں میں مکمل رسائی رکھتی تھی، جہیز کے زیورات، ٹرنک، پیٹی، صندوق اور کمروں کی ترتیب اپنے ذہن میں محفوظ کر لیتی۔ اکثر وہ گھر والوں کو مشورے بھی دیتی، مثلاً کہ فلاں صندوق کو فلاں جگہ رکھیں۔ وہ نہ صرف سامان اٹھانے یا منتقل کرنے میں مدد کرتی بلکہ اندر کی ہر چھوٹی جگہ اور ترتیب کا بھی نقشہ ذہن نشین کر لیتی۔کمرے کے اندر وہ چاروں اطراف قدموں سے ناپ لیتی اور دیواروں کے طاقچوں کو یاد کر لیتی، جہاں دیا، لالٹین یا چھوٹا سامان رکھا ہوتا۔ موقع ملتے ہی اسی دیوار کی بیرونی جانب کوئلے سے ایک نشان بنا دیتی — عام لوگوں کے لیے معمولی، مگر…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
ایک نجومی لوگوں کے ہاتھ دیکھ کر ان کی موت کا وقت بتایا کرتا تھا اور عجیب بات یہ تھی کہ جس وقت کا وہ اعلان کرتا، عین اسی وقت وہ شخص مر جاتا۔ اس کی شہرت پورے ملک میں پھیل چکی تھی۔ امیر ہو یا غریب، سب اس کے پاس آتے اور کانپتے دل کے ساتھ اپنا ہاتھ اس کے سامنے رکھ دیتے۔ جب یہ خبر سلطان تک پہنچی تو سلطان کے دل میں بھی ایک ہلکا سا خوف جاگا، حالانکہ وہ ایک بہادر اور عقل مند حکمران تھا۔ سلطان نے فوراً سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس نجومی کو محل میں حاضر کیا جائے۔نجومی جب محل میں آیا تو اس کے چہرے پر نہ خوف تھا نہ گھبراہٹ، جیسے وہ پہلے ہی سب جانتا ہو۔ سلطان نے اسے غور سے دیکھا اور کہا،“کیا تو ہاتھ دیکھ کر موت کا وقت بتا سکتا ہے؟”نجومی نے سر جھکا کر جواب…
نمرود
نمرود، جو خود کو خدا کہتا تھا، ایک حقیر سے مچھر کے آگے بے بس ہو چکا تھا۔ اس کا سارا غرور، اس کی ساری طاقت، اس کی فوجیں، اس کے محلات — سب بے معنی ہو گئے تھے۔ اب وہ اپنے ہی محل کے ایک کمرے میں قید ہو کر رہ گیا تھا، جہاں نہ کوئی لشکر کام آتا تھا اور نہ ہی اس کی خدائی کے دعوے۔کہا جاتا ہے کہ جب مچھر اس کے دماغ میں داخل ہوا تو اسے ایسا درد اٹھا کہ وہ دیوانوں کی طرح چیخنے لگا۔ پہلے تو اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اسے طبیبوں کے پاس لے جایا جائے۔ شہر کے بڑے بڑے حکیم بلائے گئے۔ جڑی بوٹیاں آزمائی گئیں، تعویذ لٹکائے گئے، ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھی گئیں، مگر درد کم ہونے کے بجائے بڑھتا ہی گیا۔جب درد شدت اختیار کرتا تو وہ اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ…
“پلِ فیصلہ”
قدیم جاپان میں، کیوتو کے قریب ایک پہاڑی پر ایک لکڑی کا پل تھا جسے لوگ “پلِ فیصلہ” کہتے تھے۔ روایت تھی کہ جو اس پل سے گزرتا ہے، وہ واپس وہی انسان نہیں رہتا۔ اسیعلاقے میں ہارو نام کا ایک نوجوان سامورائی رہتا تھاتلوار تیز، اصول سخت، اور دل میں ایک ہی خواہش: بے داغ عزت۔ ایک رات اس کے استاد نے اسے بلایا اور ایک خفیہ حکم دیا:“شہر کے ایک بوڑھے کاتب کو خاموش کرنا ہے۔ وہ سچ لکھتا ہے، اور سچ اس وقت ریاست کے لیے خطرہ ہے۔” ہارو نے سر جھکا لیا۔ حکم، حکم ہوتا ہے۔ مگر دل میں پہلی بار بوجھ اترا۔ وہ رات کے اندھیرے میں پل کی طرف بڑھا۔ پل کے بیچ پہنچ کر اسے ایک کمزور آواز سنائی دی۔ بوڑھا کاتب پل کے کنارے بیٹھا کاغذات سمیٹ رہا تھا۔ اس نے ہارو کو دیکھ کر کہا:“تم دیر سے آئے ہو۔ میں جانتا…
بلاعنوان۔۔۔🙂!
جگنو ٹیلرز : بے گناہ اور ناحق ق۔ت۔ل خود پکار اٹھتا ہے ۔۔۔۔ 1998 میں ایک مزدور کےاندھے ق۔ت۔ل کی تفتیش کی روداد جب واقعات کی کڑیاں ایسے ملتی گئیں کہ تفتیشی افسران بھی حیران رہ گئے ۔۔۔۔۔ گوجرانوالہ میں ایک روز پولیس کو اطلاع ملی کی ایک لا۔ش کسی ٹوبہ یا تالاب میں تیر رہی ہے ، پولیس موقع پر پہنچی ، لا۔ش کے گل سڑ جانے اور پھول جانے کی وجہ سے شناخت ممکن نہ تھی ، ایک ہجوم جمع تھا مگر کسی نے شناخت نہ کی ، لہذا رسمی کارروائی کے بعد پولیس نے لا۔ش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا ، متوفی کی جیب سے بھی کچھ نہ ملا تھا ، پوسٹ۔ مارٹم رپورٹ میں وجہ موت سر پر لگنے والی چوٹ بتائی گئی اور یہ کہ ٹوبہ میں پھینکے جانے سے قبل اس شخص کی موت ہو چکی تھی جسے ق۔ت۔ل کیا گیا ہے…