دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے
🔘 اسپین کا جنوبی علاقہ اندلس آج بھی یورپ کی سب سے خوبصورت اور تاریخی خطوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں کی مٹی میں آٹھ صدیوں تک اسلامی تمدن کی خوشبو بسی رہی۔
یہ وہ سرزمین ہے جسے مسلمانوں نے الاندلس کا نام دیا، اور جہاں 711ء سے 1492ء تک تقریباً 781 سال تک اسلامی حکمرانی قائم رہی۔
یہ دور نہ صرف فتوحات کا ہے بلکہ علم، فن، تعمیرات اور رواداری کا بھی شاندار باب ہے۔
🔘 یہ سب 711ء میں شروع ہوا جب طارق بن زیاد نے موسیٰ بن نصیر کے حکم پر افریقہ سے گزر کر آبنائے جبل الطارق عبور کی۔
ویزی گوتھ بادشاہ راڈرک (رودرگو) کو وادی لکہ میں فیصلہ کن شکست دی۔ طارق نے اپنے سپاہیوں سے کہا تھا: “دشمن سامنے ہے اور پیچھے سمندر!”۔ اس کے بعد چند ہی سالوں میں قرطبہ، طلیطلہ، اشبیلیہ اور دیگر بڑے شہر فتح ہو گئے۔
یہ فتح نہ صرف فوجی تھی بلکہ ایک نئی تہذیب کی بنیاد بھی۔
🔘 امارت قرطبہ (756-929ء): عبدالرحمٰن الداخل (جو اموی خاندان کا بچ جانے والا فرد تھا) نے دمشق کے سقوط کے بعد یہاں اموی اقتدار قائم کیا۔ یہ دور استحکام اور ترقی کا تھا۔
خلافت قرطبہ (929-1031ء): عبدالرحمٰن سوم نے خلیفہ کا لقب اختیار کیا۔ قرطبہ اس وقت یورپ کا سب سے بڑا اور ترقی یافتہ شہر تھا۔
جہاں 70 لائبریریاں، 600 مساجد اور لاکھوں کتابیں تھیں۔ حکم ثانی کے دور میں لائبریری میں 4 سے 6 لاکھ کتب تھیں۔ یہاں یونانی فلسفہ، طب، فلکیات اور ریاضی کو نہ صرف محفوظ کیا گیا بلکہ نئی ایجادات بھی کیں.
🔘اندلس کی تہذیب نے یورپ کو روشنی دی۔ مسلمانوں نے یہاں زراعت (نہری نظام)، طب (الزہراوی)، فلسفہ (ابن رشد)، فلکیات (الزرقالی) اور فن تعمیر میں انقلاب برپا کیا۔
قرطبہ کی جامع مسجد (موجودہ کیتھیڈرل-مسجد) اور الحمراء کے باغات آج بھی اس عروج کی گواہی دیتے ہیں۔
مگر افسوس کہ داخلی اختلافات، طوائف الملوکی اور عیسائی ریاستوں (قشتالہ، آراغون) کی متحدہ قوت نے 1492ء میں غرناطہ کو فتح کر لیا۔
آخری مسلم حکمران ابو عبداللہ نے الحمراء کی چابیاں عیسائی حاکم فرڈیننڈ اور ایزابیلا کے حوالے کیں۔
🔘 مزید تحاریر پڑھنے کے لئے آئی ڈی کو فالو کریں.
