چار ملنگ شہر سے باہر ایک کٹیا میں رہتے تھے۔۔
ایک پولیس کا حوالدار بھی ان کے پاس بھنگ
پینے آجاتا۔۔
ایک دن تنگ آ کر حوالدار کو “دھتورا ” پلا دیا۔
حوالدار مر گیا۔ملنگوں نے اسے چار پائی پر ڈالا اوپر چادر چڑھائی اور چار پائی کے ایک ایک پائے
کو کندھا دے دیا۔ دیہاتیوں میں لوگ تعلق کی بنا پر جنازے میں شامل ہوتے ہیں اور شہروں میں
لوگ کلمہ شہادت سن کر۔جب ملنگ شہر میں
داخل ہوئے تو کلمہ شہادت کا نعرہ لگانے لگے۔
شہری مسلمان جنازے کو کندھا دینے لگے۔ جب
ملنگوں نے دیکھا کہ کافی لوگ جنازے کے ساتھ
چل رہے ہیں تو وہ کھسک گئے۔
جنازہ قبرستان پہنچا تو نہ کوئی والی وارث اور
نہ ہی قبر کھدی ہوئی۔ پولیس کو اطلاع کی گئی۔
پولیس والوں نے جب میت کے چہرے سے چادر
ہٹائی تو اپنا ہی حوالدار نکلا۔۔۔
کلمہ شہادت کہنے والوں کو دس دس ہزار دے کر
جان چھڑانا پڑی۔۔🫣🫣🤭🤭🌴💫✨️
