Tag Archives: urdustory l

ایک بادشاہ جنگل میں سفر کر رہا تھا کہ اچانک ایک سانپ نے اسے ڈس لیا۔ شاہی طبیب اپنی تمام کوششوں کے باوجود زہر کے پھیلاؤ کو روک نہ پایا، اور بادشاہ زارو قطار رونے لگے۔اتنے میں ایک درویش نما شخص وہاں آیا۔ اس نے بادشاہ کو زہر کے درد میں تڑپتے دیکھا، تو بادشاہ کی ٹانگ پر جہاں سانپ نے کاٹا تھا، تھوک دیا اور چل دیا۔بادشاہ کے ساتھی درویش کے پیچھے جانے کی ہمت نہ کر سکے کیونکہ وہ سب بادشاہ کی فکر میں تھے۔شاہی طبیب نے بادشاہ کی نیلی پڑتی ٹانگ سے تھوک صاف کرنے کے لیے رومال پکڑا، مگر پھر حیران ہو کر رُک گیا۔ اس نے تھوک کو سانپ کے ڈسے ہوئے مقام سے اچھی طرح ملا دیا، اور فوراً زہر کا اثر ختم ہو گیا۔بادشاہ ہوش میں آیا اور جب اسے درویش کے قصے کا علم ہوا، تو اس نے فوراً حکم دیا کہ…

Read more

جب ہلاکو خان نے بغداد کو فتح کیا تو دجلہ و فرات کا پانی سیاہی سے نہیں بلکہ انسانوں کے خون سے سرخ ہو چکا تھا۔ کتب خانے جل چکے تھے، مدرسے ویران ہو گئے تھے، اور شہر کی گلیوں میں موت رقص کر رہی تھی۔ عباسی خلافت کا چراغ گل ہو چکا تھا اور بغداد، جو علم و دانش کا مرکز تھا، ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔ہلاکو خان نے شہر کے باہر اپنا عظیم الشان ڈیرہ لگایا۔ خیموں کی قطاریں، مسلح سپاہ، اور خوف کی ایسی فضا کہ پرندہ بھی پر مارنے سے پہلے سوچے۔ اسی ڈیرے سے اس نے بغداد میں پیغام بھجوایا:“شہر کا سب سے بڑا عالم میرے پاس حاضر ہو۔”یہ پیغام بجلی بن کر شہر میں پھیل گیا۔ لوگ سہم گئے۔ علما، فقہا، محدثین—سب جانتے تھے کہ ہلاکو خان علم کا نہیں، طاقت کا پجاری ہے۔ اس کے دربار میں جانا موت کو دعوت دینے…

Read more

2/2
NZ's Corner