جب ہلاکو خان نے بغداد کو فتح کیا تو دجلہ و فرات کا پانی سیاہی سے نہیں بلکہ انسانوں کے خون سے سرخ ہو چکا تھا۔ کتب خانے جل چکے تھے، مدرسے ویران ہو گئے تھے، اور شہر کی گلیوں میں موت رقص کر رہی تھی۔ عباسی خلافت کا چراغ گل ہو چکا تھا اور بغداد، جو علم و دانش کا مرکز تھا، ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔
ہلاکو خان نے شہر کے باہر اپنا عظیم الشان ڈیرہ لگایا۔ خیموں کی قطاریں، مسلح سپاہ، اور خوف کی ایسی فضا کہ پرندہ بھی پر مارنے سے پہلے سوچے۔ اسی ڈیرے سے اس نے بغداد میں پیغام بھجوایا:
“شہر کا سب سے بڑا عالم میرے پاس حاضر ہو۔”
یہ پیغام بجلی بن کر شہر میں پھیل گیا۔ لوگ سہم گئے۔ علما، فقہا، محدثین—سب جانتے تھے کہ ہلاکو خان علم کا نہیں، طاقت کا پجاری ہے۔ اس کے دربار میں جانا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔
ہر عالم نے انکار کر دیا۔
کسی نے کہا: “ظالم کے دربار میں جانا ذلت ہے۔”
کسی نے کہا: “میری جان زیادہ قیمتی نہیں، مگر بے فائدہ ضائع کیوں ہو؟”
مگر شہر کے ایک گوشے میں، ایک ویران سے مدرسے میں، ایک استاد خاموشی سے سب کچھ سن رہا تھا۔ اس کے کپڑے سادہ تھے، چہرے پر نور تھا، اور آنکھوں میں عجیب سا اطمینان۔ اس نے اپنے شاگردوں کی طرف دیکھا اور کہا:
“اگر علم والے ہی حق نہ بولیں تو پھر کون بولے گا؟”
شاگرد گھبرا گئے۔
“استادِ محترم! وہ ہلاکو خان ہے، خونخوار، ظالم، سفاک!”
استاد نے نرمی سے جواب دیا:
“بیٹا، موت تو ایک دن آنی ہی ہے، اگر علم کے دفاع میں آئے تو اس سے بہتر کیا ہوگا؟”
اگلے دن وہ استاد ہلاکو خان کے ڈیرے کی طرف روانہ ہوا۔ مگر وہ خالی ہاتھ نہیں تھا۔ اس کے ساتھ ایک اونٹ، ایک بکرا اور ایک مرغ تھا۔
جب وہ خیمے میں داخل ہوا تو محافظوں نے ہنسی اڑائی۔
“یہ کیا تماشا ہے؟”
ہلاکو خان نے بھی حیرت سے دیکھا۔
“اے عالم! تم میرے پاس آئے ہو یا کسی منڈی میں؟ یہ جانور کیوں ساتھ لائے ہو؟”
عالم نے نہایت سکون سے سلام کیا اور بولا:
“بادشاہ سلامت! میں نے سوچا خالی ہاتھ آنا بے ادبی ہے، اس لیے یہ تحفے ساتھ لے آیا ہوں۔ مگر ان کا اصل مقصد تحفہ نہیں، سبق ہے۔”
ہلاکو خان چونک پڑا۔
“سبق؟ کیسا سبق؟”
عالم نے پہلے اونٹ کی طرف اشارہ کیا اور کہا:
“یہ اونٹ طاقت کی علامت ہے۔ یہ بوجھ اٹھاتا ہے، سفر طے کرتا ہے، مگر عقل نہیں رکھتا۔ جس طرح طاقتور حکمران، جو صرف زورِ بازو پر حکومت کرتے ہیں، مگر عقل و عدل سے خالی ہوتے ہیں۔”
پھر اس نے بکرے کی طرف اشارہ کیا۔
“یہ بکرا لالچ اور پیٹ کی علامت ہے۔ جہاں سبزہ دیکھے، کھا لیتا ہے، انجام کی پروا نہیں کرتا۔ جیسے وہ حکمران جو صرف مالِ غنیمت اور دنیا کے پیچھے بھاگتے ہیں۔”
آخر میں اس نے مرغ کو اٹھایا اور کہا:
“اور یہ مرغ غرور کی علامت ہے۔ ذرا سا اونچا مقام ملے تو بانگ دیتا ہے، خود کو سب سے بڑا سمجھتا ہے، مگر ذبح ہونے میں دیر نہیں لگتی۔”
خیمے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
ہلاکو خان نے غور سے عالم کو دیکھا۔
“تو تم مجھے اونٹ، بکرا اور مرغ کہہ رہے ہو؟”
عالم نے بلا خوف جواب دیا:
“میں آپ کو نہیں، آپ کے اعمال کو ان جانوروں سے تشبیہ دے رہا ہوں۔ اگر آپ صرف طاقت، لالچ اور غرور پر چلیں گے تو انجام ان ہی جیسا ہوگا۔”
سپاہیوں نے تلواروں کے دستے مضبوطی سے پکڑ لیے۔
ہلاکو خان نے ہاتھ اٹھا کر سب کو روک دیا۔
“بولتے رہو، عالم! تم نے ابھی تک اپنی جان بچا لی ہے۔”
عالم نے گہرا سانس لیا اور کہا:
“بادشاہ! بغداد کو آپ نے فتح کر لیا، مگر تاریخ کو فتح نہیں کر سکتے۔ کتابیں جل سکتی ہیں، علما قتل ہو سکتے ہیں، مگر علم کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر آپ نے علم کا احترام کیا تو فاتح کہلائیں گے، ورنہ قصاب۔”
ہلاکو خان کے چہرے پر پہلی بار سنجیدگی آئی۔
“اگر میں علم کا احترام کروں تو کیا ملے گا؟”
عالم بولا:
“بادشاہ! عزت، دوام اور تاریخ میں نیک نامی۔ ورنہ آپ کا نام صرف خون سے لکھا جائے گا۔”
کچھ لمحے خاموشی رہی۔ پھر ہلاکو خان ہنس پڑا۔
مگر یہ ہنسی پہلے جیسی نہ تھی۔
“عجیب آدمی ہو عالم! تم پہلے شخص ہو جس نے میرے سامنے سچ کہا۔”
اس نے حکم دیا:
“اسے کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔”
پھر اس نے اعلان کیا کہ جو علما زندہ ہیں، انہیں قتل نہ کیا جائے۔ کچھ مدارس دوبارہ کھولنے کی اجازت دی گئی۔ اگرچہ بغداد کبھی پہلے جیسا نہ بن سکا، مگر علم کی شمع مکمل طور پر بجھنے سے بچ گئی۔
عالم واپس اپنے مدرسے لوٹا۔
شاگردوں نے پوچھا:
“استاد! آپ کو ڈر نہیں لگا؟”
وہ مسکرا کر بولا:
“ڈر تو لگا تھا، مگر سچ بولنے کا حوصلہ اس سے بڑا تھا۔”
اور یوں تاریخ نے یہ سبق یاد رکھا کہ
طاقت تلوار سے نہیں،
عقل سے زندہ رہتی ہے۔
