بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک پیر صاحب نے بڑی دھوم دھام سے اپنی شادی کی۔ شادی کے بعد جب سب فارغ ہوئے تو ایک حلوائی (جو دیگچیوں میں پکوان بناتا تھا) پیر صاحب کے پاس آیا۔

پیر صاحب نے بڑے وقار سے فرمایا:
“بھائی! بتاؤ، پیسے چاہیے یا دعا؟”

حلوائی نے ادب سے کہا:
“حضور! آپ ہمارے خاندانی پیر ہیں، پیسے نہیں، بس دعا دے دیں۔”

پیر صاحب نے فوراً دعا دے دی۔ حلوائی خوش ہو کر اپنا سامان اٹھایا اور چل دیا۔

تھوڑی دیر بعد ایک میراثی آیا اور بولا:
“پیر صاحب! مجھے بھی کچھ عطا کریں۔”

پیر صاحب نے پوچھا:
“پیسے چاہیے یا دعا؟”

میراثی نے ہوشیاری سے کہا:
“پچاس کی دعا دے دیں، اور پچاس روپے بھی دے دیں۔”

پیر صاحب نے ہاتھ اٹھائے اور دعا شروع کر دی…
دعا کرتے گئے… کرتے گئے… کرتے گئے…
اتنی لمبی دعا کی کہ گھنٹہ گزر گیا۔

آخرکار دعا ختم ہوئی تو پیر صاحب نے میراثی سے کہا:
“بھائی! پتا ہی نہیں چلا دعا اتنی لمبی ہو گئی کہ پانچ سو کی بن گئی!”
“اب ایسا کرو، پچاس اپنے پاس رکھ لو، ساڑھے چار سو مجھے واپس کر دو!” 😂😂😂

Leave a Reply

NZ's Corner