ایک شخص شہر کے باہر گھوم رہا تھا۔ اس نے دیکھا داروغہ شہر ایک درخت کے نیچے سو رہا ہے ۔ شراب کی بوتل اس کی بغل میں دبی ہوئی تھی۔ اور منہ سے شراب کی بو آرہی تھی ۔ داروغہ خراٹے لے رہا تھا۔ اس نے بڑے اطمینان سے داروغہ کی نئی اونی قبا اتاری اور وہاں سے رخصت ہو گیا ۔ شراب کے نشے اور نیند میں اسے پتا ہی نہ چلا۔
جب داروغہ کی آنکھ کھلی اور شراب کا نشہ اترا تو اس نے دیکھا کہ اس کی نئی قبا غائب ہے ۔ وہ گھر واپس آئے اور اپنے ملازموں سے کہا کہ میری قباچوری ہو گئی ہے تم چور کو تلاش کر کے فورا میرے سامنے پیش کرو۔
داروغہ کے ملازم تلاش میں نکلے اور آخر انھیں وہ آدمی جس نے قبا چرائی تھی مل گیا ۔ اسے پکڑ کر وہ داروغہ کے پاس لے آئے داروغہ کو اپنی قبا دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ وہ دیر تک اس پر ہاتھ پھیرتا رہا۔
داروغہ نے اس سے پوچھا کہ یہ قبا اس کے پاس کہاں سے آئی؟
اس شخص نے جواب دیا کہ جناب میں شہر کے باہر گھوم رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ ایک بے ایمان شخص شراب کے نشے میں دھت پڑا ہوا ہے۔ میں نے اس کے منہ پر تھوکا اور اس کی قبا اتار لی ۔ لیکن اگر آپ کا یہ دعوا ہے کہ یہ قبا آپ کی ہے تو آپ اسے بخوشی لے سکتے ہیں ۔ داروغہ کو غصہ تو بہت آیا ۔ مگر کیا کرتا ۔ اس نے کہا :
او بد بخت یہ قبا لے جا۔ یہ میری نہیں ہے۔ میں نے اس سے پہلے اسے دیکھا بھی نہیں۔ پھر اس نے اپنے ملازموں سے کہا ۔ اس کم بخت کو باہر نکالو میں اس کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتا ۔
