یہ قصہ ایک ایسے شخص کا ہے جن کا نام تو سخی محمد تھا، لیکن پورے علاقے میں وہ مکھی چوس خان کے نام سے مشہور تھے۔ ان کی کنجوسی کے قصے اتنے عام تھے کہ لوگ کہتے تھے اگر ان کے ہاتھ سے پسینہ بھی چھوٹ جائے تو وہ اسے بھی تالے میں بند کر دیں۔
ایک دن سخی محمد سخت بیمار ہو گئے۔ جب انہیں لگا کہ اب وقتِ رخصت قریب ہے، تو انہوں نے اپنے تینوں بیٹوں کو پاس بلایا۔ ان کی حالت دیکھ کر بڑا بیٹا رونے لگا، لیکن سخی محمد نے کمزور آواز میں کہا:
اوئے بے وقوف! آنسو بہا کر قیمتی پانی ضائع نہ کر، جا کر پیاز کاٹ تاکہ لوگوں کو لگے کہ تو واقعی غمزدہ ہے اور پیاز کا سالن بھی بن جائے۔
پھر انہوں نے وصیت شروع کی:
دیکھو بیٹو! مرنا تو برحق ہے، لیکن فضول خرچی حرام ہے۔ میری میت کے لیے نیا کفن ہرگز نہ لانا، وہ جو پرانی سفید چادر سٹور میں پڑی ہے، وہی کافی ہوگی۔ اور ہاں! قبرستان لے جانے کے لیے چارپائی کرائے پر مت لینا، لکڑی کے چار پھٹے جوڑ کر کام چلا لینا۔
ابھی وہ یہ ہدایات دے ہی رہے تھے کہ اچانک ان کی سانس اکھڑنے لگی۔ چھوٹا بیٹا دوڑا ہوا ڈاکٹر کو لینے جانے لگا تو سخی محمد نے آخری دم توڑتے ہوئے اسے روکا اور بولے:
ٹھہر جا! ڈاکٹر فیس مانگے گا، تو بس تھوڑی دیر انتظار کر لے، میں مفت میں ہی مر جاتا ہوں!
یہ کہہ کر انہوں نے آنکھیں موند لیں۔ گاؤں میں خبر پھیل گئی، لوگ جمع ہو گئے۔ تدفین کا وقت آیا تو بیٹوں نے باپ کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے ایک پرانی اور پیوند لگی چادر میں انہیں لپیٹ دیا۔ جب جنازہ اٹھانے لگے تو چادر اتنی بوسیدہ تھی کہ ایک طرف سے پھٹ گئی۔
لوگوں نے افسوس کرتے ہوئے کہا: افوہ! چادر تو پھٹ گئی، نئی منگوا لیں۔
ابھی بیٹا کچھ بولنے ہی والا تھا کہ اچانک مردہ یعنی سخی محمد کفن کے اندر سے بڑبڑائے:
اوئے چپ رہو! کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں، سائیڈ بدل دو، کسی کو پتہ نہیں چلے گا کہ پھٹی ہوئی ہے۔
پورے قبرستان میں سناٹا چھا گیا۔ جنازہ اٹھانے والے کندھے چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ مولوی صاحب نے جوتا وہیں چھوڑا اور ننگے پاؤں دوڑ لگا دی کہ مردہ حساب کتاب سے پہلے ہی بول پڑا ہے!
سخی محمد کفن سے سر نکال کر بولے:
ارے بھاگو مت! میں تو صرف پیسے بچانے کا مشورہ دے رہا تھا۔ مولوی صاحب! اپنا جوتا تو لے جائیں، نیا خریدنا مہنگا پڑے گا!
آخر کار جب انہیں دوبارہ لٹایا گیا تو انہوں نے ایک آنکھ کھول کر اپنے بیٹے سے پوچھا:
بیٹے! یہ جو لوگ بھاگے ہیں، ان کے لیے دیگ کا آرڈر تو نہیں دے دیا تھا؟ اگر دے دیا تھا تو ابھی کینسل کروا دو، میں تھوڑی دیر اور زندہ رہ لیتا ہوں!
آج بھی اس گاؤں میں کوئی کنجوسی کرے تو لوگ کہتے ہیں: بھائی! سخی محمد نہ بنو، ورنہ کفن پھٹنے پر تمہیں بھی بولنا پڑے گا!
