بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک آدمی نے حاتم طائی سے پوچھا:
“اے حاتم! کیا سخاوت میں کوئی تجھ سے آگے بڑھا ہے؟”

حاتم نے جواب دیا: “ہاں!… قبیلہ طے کا ایک یتیم بچہ مجھ سے زیادہ سخی نکلا، جس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ دوران سفر میں شب بسری کے لیے ان کے گھر گیا، اس کے پاس دس بکریاں تھیں، اس نے ایک ذبح کی، اس کا گوشت تیار کیا اور کھانے کیلئے مجھے پیش کر دیا۔ اس نے کھانے کے لیے مجھے جو چیزیں دیں ان میں مغز بھی تھا۔ میں نے اسے کھایا تو مجھے پسند آیا، میں نے کہا: “واہ! کیا خوب ذائقہ ہے”

یتیم بچہ فوراً باہر نکل گیا اور ایک ایک کر کے تمام بکریاں میری لا علمی میں اس نے ذبح کر ڈالیں اور سب کے مغز مجھے پیش کیے۔ جب میں کوچ کرنے لگا تو کیا دیکھا کہ گھر کے ارد گرد ہر طرف خون ہی خون بکھرا پڑا ہے۔ میں نے اس سے کہا،
“آپ نے تمام بکریاں کیوں ذبح کیں؟”

اس نے کہا:
“واہ…! آپ کو میری کوئی چیز اچھی لگے اور میں اس پر بخل کروں، یہ عربوں کیلئے بدترین گالی ہے۔”

حاتم سے پوچھا گیا:
“بدلے میں آپ نے اسے کیا دیا؟”

انہوں نے کہا:
“تین سو سرخ اونٹھنیاں اور پانچ سو بکریاں۔”

ان سے کہا گیا:
“تو پھر آپ اس سے بڑے سخی ہوئے۔”

انہوں نے جواب دیا:
“نہیں وہ مجھ سے زیادہ سخی ہے، کیونکہ اس نے اپنا سب کچھ لٹا کر سخاوت کی جبکہ میں نے تو اپنے بہت سے مال میں سے تھوڑا سا خرچ کر کے سخاوت کی ہے۔”

میں اکثر یہی بات کہتا ہوں کہ سخاوت یہ نہیں کہ آپ لاکھوں جیب میں ڈال کر کسی غریب کو کھانا کھلا دیں، اصل سخاوت تو یہ ہے کہ آپ بھوکے ہوں، آپ کے پاس ایک ہی روٹی ہو اور آپ اپنی بھوک پر کسی دوسرے کی بھوک کو ترجیح دیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner