فتوحات_شام

فتوحات_شام

دامس، اسے ابولہول کی کنیت سے پکارا جاتا تھا۔ لمبا قد، انتہائی سیاہ رنگ، ایسی سیاہی کہ دنیا نے شاید ہی کوئی اتنا سیاہ انسان دیکھا ہوگا۔ جب سواری کے جانور پر بیٹھتا تو ٹانگیں گھسٹی ہوئی جاتی تھیں۔ ملوکِ کندہ میں سے بنی ظریف کے اس کی غلام کی ہیبت و شجاعت زبان زد عام تھی۔ لوگوں کی مجلسوں میں اس کی بہادری اور چالاکی کے قصے سنائے جاتے تھے۔

واقدی کہتے ہیں جن دنوں مسلمان حلب کے قلعے کو فتح کرنے کی کوشش میں مصروف تھے ان دنوں ابولہول بھی اپنے پانچ سو ساتھیوں کے ساتھ مسلمانوں سے آ ملا اور اس نے بڑی بہادری سے جنگی کارروائیوں میں نمایاں حصہ لیا۔
۔۔۔۔۔۔
“لوگو! امیر محترم کا حکم ہے کہ اپنے اپنے خیمے سمیٹو اور چلو!”

لوگوں نے جب یہ اعلان سنا تو سب اپنے اپنے خیمے اکھیڑ کر چل پڑے۔ پورا اسلامی لشکر قلعے کا محاصرہ ختم کرکے چل پڑا تو یوقنا کے لوگوں نے خوب خوشیاں منائیں۔ انھوں نے اس سے اجازت طلب کی کہ ہمیں ان کا تعاقب کرنے دیا جائے مگر یوقنا نے اجازت نہیں دی۔

اسلامی لشکر یہاں سے اٹھ کر کافی دور آگیا اور خیمے گاڑ لیے گئے تھے۔ قلعے والوں نے سمجھا کہ مسلمان شکست کھا گئے ہیں، اسی لیے وہ یہاں سے اٹھ کر دور چلے گئے۔ اُنھیں مسلمانوں کی منصوبہ بندی کا علم نہیں تھا۔

کچھ دن گزرنے کے بعد ایک رات کے آخری حصے میں جب انسان نیند میں غافل پڑا ہوتا ہے، ابولہول کی قیادت میں پچیس سے تیس مسلمان قلعے کی فصیل کے اطراف منڈلانے لگے۔ یہ لوگ بڑی احتیاط کے ساتھ گھوم پھر رہے تھے کہ کوئی موقع ملے اور ہم اندر پہنچ جائیں۔ آخر ایک برج کے قریب جو اونچائی میں دوسروں کی بنسبت کم تھا، انھوں نے نقب لگانے کی کوشش شروع کی۔ سب سے نیچے ابولہول بیٹھے۔ پھر اس کے کندھوں پر دوسرا، پھر اسی طرح ایک دوسرے کی کمر اور کاندھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے تیسرا اور چوتھا۔ یہاں تک کہ درمیانے وزن کے سات لوگ ایک دوسرے کے کندھوں پر بیٹھ گئے۔ ابولہول چونکہ جسمانی لحاظ سے بہت مضبوط تھے اور قد بھی لمبا تھا، تو وہ سب سے نیچے تھے۔ اب انھوں نے ترتیب کے مطابق کھڑا ہونا شروع کیا۔ پہلے سب سے اوپر والا کھڑا ہوا، پھر اس سے نیچے والا، پھر اس سے نیچے والا۔ یوں یہ ساتوں کے ساتوں کھڑے گئے۔ جب ابولہول پوری قوت اور دیوار کا سہارا لے کے کھڑے ہوئے تو سب سے اوپر والے شخص کے ہاتھ دیوار کے کنگروں تک پہنچ گئے۔ اس نے کوشش کرکے دیوار پھلانگی تو وہاں دو تین رومی سپاہی مدہوش سے پڑے تھے۔ چونکہ مسلمانوں کا لشکر قلعہ کا محاصرہ اٹھا کر بہت دور خیمہ زن ہوا تھا اس لیے قلعے والے تقریباً بے فکر ہوچکے تھے۔ البتہ وہ باہر پھر بھی نہیں نکلتے تھے نہ دروازہ کھولتے تھے۔ اس نے اوپر چڑھتے ہی سب سے پہلے محافظوں کو خاموشی سے خنجر مار کر جہنم رسید کیا اور ان کو ایک طرف کردیا۔ اس کے بعد رسی لٹکا کر دوسروں کو اوپر چڑھنے میں مدد دی۔ یہاں تک کہ یہ سب کے سب اوپر پہنچ گئے۔ اب یہ لوگ دبے پاؤں سیڑھی کے پاس پہنچے جو قریب ہی تھیں۔ دو پہرے دار وہاں بھی اونگ رہے تھے۔ انھوں نے ان کو قابو کیا اور سیڑھیوں سے نیچے اترنے لگے۔ لیکن بہت احتیاط کے ساتھ۔ منصوبہ کے مطابق جب یہ لوگ قلعہ کے اندر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے تو قریبی درختوں میں چھپے مخبروں نے اسلامی لشکر میں اطلاع پہنچا دی کہ قلعہ کے قریب پہنچ جائیں، دروازہ کھلنے ہی والا ہے۔ چنانچہ حضرت خالد بن ولید ؓ کی قیادت میں ایک مخصوص دستہ قریبی درختوں کے جھنڈ پہنچ چکا تھا۔ اب بس نعرہ تکبیر کی آوازوں کی انتظار تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔
قلعہ کے دو دروازے تھے، ایک اندر صحن کی جانب کھلتا تھا اور دوسرا باہر سڑک کی جانب۔ یہ ایک کمرہ نما ہال تھا، اس میں سے گزر کر باہر والا دروازہ کھولنا ہوتا تھا۔ یہ لوگ چپکے چپکے دروازے کے قریب پہنچ گئے مگر اس صورت حال کو دیکھ کر پریشان ہوگئے۔ ادھر سے صبح ہونے کے قریب تھی۔ خطر تھا کہ سپاہی پہرہ بدلیں گے اور معاملہ سارا بگڑ جائے گا۔ سب پکڑے جائیں گے اور مارے جائیں گے۔ کچھ دیر سوچ و بچار کے بعد دامس (ابولہول) آگے بڑھے اور دروزے کے قریب اندر اس ہال میں جانے کا رستہ تلاش کرنے لگے۔ اس ہال میں پانچ سپاہی جو مسلح حالت میں ہوتے تھے، موجود رہتے تھے۔ ابولہول نے دروازے کے قریب ستون کے آگے ایک ایک بڑا سا پتھر رکھے ہوئے دیکھا۔ اس کو زور لگا کر آہستہ آہستہ سرکایا تو اندر جانے کا سرنگ نما رستہ مل گیا۔ انھوں نے خنجر کو ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑ لیا اور سرنگ نما رستے سے اندر داخل ہوگئے۔ وہاں پانچ چھ سپاہی سوئے ہوئے تھے۔ ان کا اسلحہ دیواروں کے ساتھ رکھا تھا۔ چونکہ قلعہ میں داخل ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا اس لیے سارے بے فکر تھے۔ انھوں نے سب سے پہلے ان سب کو ابدی نیند سلایا۔ پھر انھوں نے ان کی جیبوں سے چابیاں تلاش کرکے دروازوں کے تالوں کو کھولا مگر پٹ بند ہی رکھے۔ پھر اسی سرنگ نما رستے باہر نکل کر پتھر کو اپنی جگہ پر رکھ دیا اور اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ گئے۔ انھوں نے ساتھیوں کو بتایا:

“اے جوانو! میں راستہ کھول آیا ہوں، اب سرعام حملے کا وقت ہے، اپنے دلوں کو مضبوط رکھو اور یوقنا کے گھر کی طرف بڑھو۔”

دو تین آدمیوں کو دروازوں کے پاس بھیج دیا کہ جیسے ہی ہماری تکبیریں بلند ہوں تو تم لشکر کے لیے دروازے کھول دینا۔ اور ایک آدمی کو کہا کہ تم باہر والے دروازے سے نکل کر لشکر کو اطلاع کردو۔ جس وقت یہ لوگ یوقنا کے گھر کے قریب پہنچ گئے تو ان کو سپاہیوں کے دوڑنے کی آواز آئی، شاید محافظوں کو خطرے کا احساس ہوچکا تھا۔ اس سے پہلے کہ سارا منصوبہ ناکام ہوتا یہ حضرت نعرے بلند کرکے یوقنا کے گھر کے باہر کھڑے محافظوں پر ٹوٹ پڑے۔ ان کی آوازیں قلعے کے اندر بلند ہوئی تو رومی بدحواس ہوگئے۔ ان کو توقع نہیں تھی کہ یہ لوگ یہاں تک پہنچ جائیں گے مگر ایسا ہوچکا تھا۔ رومی سپاہی چیختے چلاتے ان کی طرف دوڑے اور ان کو گھیر کر حملہ کردیا۔ کچھ لوگ دروازے کی طرف دوڑے مگر اب دیر ہوچکی تھی۔ نعروں کی آواز کے ساتھ ہی قلعے کے باہر سے گھوڑوں کی ٹاپوں اور نعروں کی گونج سے قلعہ کی خاموش فضا میں ارتعاش پیدا ہوگیا۔ اچانک حملے سے شدید بھگدڑ مچ گئی اور لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ رومی سپاہی اور مسلمان گتھم گتھا تھے کہ خالد بن ولید ؓ اپنے تیز رفتار لشکر کو لے کر قلعہ میں داخل ہوگئے اور رومیوں کو تلواروں کی زد میں لے لیا۔ رومیوں نے جب لشکر کو اندر داخل ہوتے دیکھ لیا تو یہ بھاگ بھاگ کر قلعہ کی فصیل پر چڑھنے لگے تاکہ جان بچ جائے۔ مگر کئی مسلمانوں نے گھوڑوں سے چھلانگیں لگائیں اور ان کے پیچھے پیچھے دوڑے۔ ہر طرف آہ و فغاں اور تلواروں کی جھنکار سنائی دے رہی تھی۔ گھوڑوں کی ہنہناہٹ سے ماحول شدید خوفناک ہوگیا تھا۔ جب رومیوں نے دیکھا کہ معاملہ ہمارے بس سے باہر ہوچکا تو امان امان پکارنے لگے۔ اسی وقت حضرت امین الامۃ ؓ بھی باقی ماندہ لشکر کو لے کر پہنچ چکے تھے۔ لوگوں نے آپ کو اطلاع کی کہ یہ امان چاہتے ہیں، آپ نے مسلمانوں کو حملہ روکنے کا حکم دے دیا۔ آپ کا حکم ملتے ہی تلواریں میان میں کرلی گئیں اور سب رومی سپاہیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ جب سب قیدیوں کو آپ کے سامنے پیش کیا گیا تو ان میں یوقنا بھی تھا۔ آپ نے ان سب کو اسلام کی دعوت دی۔ کچھ نے قبول کرلیا اور باقیوں نے جزیہ دینے کا کہا۔ آپ نے ان کا وعدہ قبول کرلیا اور اس طرح یہ مشکل ترین مہم اپنے انجام کو پہنچی۔ واقدی کہتے ہیں اس لڑائی میں دامس (ابولہول) کو ستر سے زائد زخم لگے تھے اور تیس پینتیس مسلمان شہـ ـید بھی ہوگئے تھے۔ یوقنا کے بارے میں واقدی لکھتے ہیں کہ یہ بھی مسلمان ہوگیا تھا اور اس نے بعد کی جنگی کاروائیوں میں مسلمانوں کا بہت ساتھ دیا۔ اس قلعے کی فتح کے ساتھ ہی حلب مکمل طور پر مسلمانوں کے کنٹرول میں آچکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
قلعہ کی فتح اور تمام انتظامات سے فارغ ہوکر حضرت امین الامۃ ؓ مسلمانوں کو جمع کرکے فرمایا:

“اب انطاکیہ کے سوا کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں سے ہمیں دوبارہ حملے کا خوف ہو۔ صرف وہی ایک جگہ رہ گئی ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں ہرقل کا خاص بندہ گورنر ہے اور دوسرے مفرورین بھی اسی جگہ جمع ہیں۔ اس لیے اب ہمیں انطاکیہ کی طرف بڑھنا چاہیے۔”

چنانچہ مسلمان تین چار دن کا سفر طے کرکے تیزی سے انطاکیہ کے سامنے پہنچ گئے۔ یہ شام کا بہت مضبوط شہر تھا۔ اس کی فصیل بھی دوہری تھی۔ بلکہ کسی کسی جگہ تو تین تین فصیلیں تھیں۔ پہاڑوں میں گھرا ہوا یہ خوبصورت اور مضبوط شہر رومیوں کی آخری پناہ گاہ تھی۔ حضرت امین الامۃ ؓ نے فرمایا:

“ابو سلیمان! ہم رومیوں کی سرزمین پر پہنچ چکے ہیں، کچھ ہی دیر بعد رومیوں کے گورنر کا لشکر جرار ہمارے سامنے ہوگا۔ ہمیں کیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟”

حضرت خالد بن ولید ؓ نے کہا:
“حضرت! آپ ایک ایک سالار کو لشکر دے کر روانہ کرتے رہیں تاکہ رومیوں پر رعب پڑے۔”

حضرت امین الامۃ ؓ نے ایسا ہی کیا۔ پہلے ہراول بھیجا، پھر دیگر سالاروں کی کمان میں پے در پے دستے روانہ کیے۔ جب رومیوں نے مسلمانوں کے لشکر کی ٹاپیں سنی تو وہ جلد از جلد صفیں مرتب کرنے لگے۔ سب سے پہلے ٹاکرا مشہور لوہے کے پل، جسے جسر حدید کہتے تھے، پر قبضہ کرنے کے لیے ہوا۔ مسلمانوں کے شدید حملے کی تاب نہ لاکر رومی پل چھوڑ کر پیچھے بھاگ گئے اور پل پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا۔ یہ پل انطاکیہ کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا تھا، جب اس پر قبضہ ہوگیا تو رومی مسلمانوں کے سخت محاصرے میں آگئے۔ یہ محاصرہ بہت طویل رہا۔ چونکہ یرموک کی لڑائی کے بعد رومی کھلے میدان میں لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اس لیے شہر میں بند ہوگئے۔ مسلمانوں نے اتنا سخت محاصرہ کیا کہ رومیوں کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ رومیوں کا ہر طرف سے ناطقہ بند کردیا گیا تھا۔ تنگ آکر رومی گورنر نے باہر نکل کر لڑنے کا فیصلہ کیا۔ جب یہ باہر نکل کر حملہ آور ہوئے تو شدید جنگ چھڑی۔ ہجوم کے وجہ سے لوگ ایک دوسرے میں گتھم گتھا ہوگئے۔ ہر طرف ہتھیار پوری قوت سے چل رہے تھے۔ مسلمانوں نے نعرے بلند کیے اور زور دار ہلہ بولا۔ چاروں طرف خون کی ندیاں بہنے لگیں۔ ہر کوئی لڑائی میں ایسا مگن ہوا کہ اپنے تن بدن کا ہوش بھی نہ رہا۔ اچانک حضرت خالد بن ولید ؓ کی کی گئی منصوبہ بندی کے مطابق چھپے ہوئے گھڑ سوار دستے بہت تیزی سے آئے اور رومیوں پر چڑھ دوڑے۔ میدان اللہ اکبر کے نعروں اور گھوڑوں کی ٹاپوں سے گونج اٹھا۔ رومیوں نے مسلمانوں کا یہ حربہ دیکھ کر ہمت ہار دی اور واپس شہر کی طرف بھاگے۔ مسلمان ان کے تعاقب میں فصیل تک گئے مگر اوپر سے ہونے والی سنگ باری اور تیروں کی بوچھاڑ نے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ مسلمان اپنے ٹھکانوں پر پلٹ آئے اور محاصرہ جاری رکھا۔ اس جنگ میں مسلمانوں نے خوب مال غنیمت جمع کیا۔ رومی لشکر اپنا بہت سارا اسلحہ اور دیگر جنگی ساز و سامان مع اپنے سپاہیوں کی لاشوں کو میدان میں ہی چھوڑ کر بھاگ گئے۔ واقدی کہتے ہیں اجنادین اور یرموک کے بعد سب سے زیادہ رومی یہاں مارے گئے۔ کئی دن کے محاصرے کے بعد شہریوں نے صلح کے لیے گورنر پر دباؤ ڈالا مگر وہ جنگ پر اڑا ہوا تھا۔ شہری اس کو چھوڑ کر بڑے پادری کے پاس گئے اور کہا:

“اے مقدس باپ! آپ مسلمانوں سے جتنے تاوان پر وہ راضی ہو جائیں صلح کرلیں۔”

پادری راضی ہوگیا اور اس نے مسلمانوں سے صلح کے متعلق بات چیت کی۔ چنانچہ اس نے تین لاکھ سالانہ دینار پر صلح کرلی۔ مسلمان شہر کے اندر داخل ہوئے اور اس گورنر کو گرفتار کرکے گردن مار دی گئی۔ واقدی نے راوی کے حوالے سے لکھا کہ میسرہ بن مسروق العبسی کہنے لگے:
“ہم نے انطاکیہ کو بہت خوبصورت شہر پایا۔ یہاں کی آب و ہوا نہایت صحت بخش اور خوشگوار تھی۔ مسلمانوں کو یہ شہر بہت پسند آیا۔ اگر ہم ایک ماہ یہاں رہتے تو بہت آرام ملتا مگر حضرت امین الامۃ ؓ نے تین دن قیام کے بعد کوچ کا اعلان کردیا۔”

اس کے بعد یہ اسلامی لشکر وہاں سے کوچ کرکے حازم نامی جگہ پر قیام پذیر ہوگیا۔
(جاری ہے)

ماخوذ از فتوح الشام للواقدی اُردو ترجمہ
تسہیل و تلخیص محمد عثمان انصاری

Leave a Reply

NZ's Corner