جنگل کا ایک زمانہ تھا جب بوڑھا شیر اس کا بے تاج بادشاہ تھا۔ طاقت اب پہلے جیسی نہ رہی تھی، مگر رعب باقی تھا۔ شیر نے شکار چھوڑ دیا تھا اور اب دربار لگا کر فیصلے کیا کرتا۔
جنگل کے جانور روز آتے، سلام کرتے اور تعریفوں کے پل باندھتے۔ خاص طور پر لومڑیاں ہر وقت شیر کے گرد رہتیں۔
“حضور جیسا انصاف کسی نے نہیں دیکھا!”
“آپ کی دانائی کی مثال نہیں!”
شیر یہ سب سن کر خوش ہوتا اور انہیں قریب رکھتا۔
ایک دن ہرن لنگڑاتا ہوا آیا۔ اس نے فریاد کی کہ لومڑیوں نے اس کے بچوں کا شکار کر لیا ہے۔ شیر نے لومڑیوں کی طرف دیکھا۔
لومڑیوں نے فوراً کہا:
“یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ تو حضور کی عظمت سے جلتا ہے۔”
شیر نے تحقیق کی زحمت نہ کی۔ ہرن کو دربار سے نکال دیا گیا۔
وقت گزرتا گیا۔ لومڑیوں نے پورے جنگل میں لوٹ مار مچا دی۔ کمزور جانور یا تو بھاگ گئے یا مارے گئے۔ شکار کم ہوتا گیا۔ آخرکار شیر بھی بھوک کا شکار ہو گیا۔
ایک دن جب شیر اکیلا پڑا تھا، اس نے دیکھا کہ وہی لومڑیاں اب ایک نئے طاقتور شیر کے پیچھے کھڑی ہیں، اسی طرح تعریفیں کر رہی ہیں۔
بوڑھے شیر نے آخری سانسوں میں خود سے کہا:
“میں نے سچ بولنے والوں کو دور کیا، اور چاپلوسوں کو قریب رکھا۔ میرا زوال انہی کے ہاتھوں لکھا گیا تھا۔”
جو حکمران صرف تعریف سنتا ہے، وہ حقیقت سے اندھا ہو جاتا ہے۔ چاپلوسی اقتدار کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
