دولتِ عباسیہ کا تاجدار مامون الرشید، جس نے شیرِ عدل اور حاتم کی سخاوت کو فراموش کر دیا تھا، سلطنتِ بغداد پر حکمرانی کر رہا تھا۔ اس کا بیٹا، شہزادہ عباس، طائفۃ النمل کے قریب شکار میں مصروف تھا۔
غروبِ آفتاب کی روشنی میں دریا کے کنارے، ایک حسین عورت پانی کا گھڑا بھر رہی تھی۔ عباس نے اسے دیکھا اور پوچھا:
“تم کون ہو؟ اور کس خاندان سے تعلق رکھتی ہو؟ کیا یہاں بھی حسن جنم لے سکتا ہے؟”
عورت نے غصے سے جواب دیا اور آگے بڑھ گئی۔ عباس نے حکم دیا کہ اس کا حسب و نسب معلوم کیا جائے اور نکاح کا پیغام بھیجا جائے۔
لیکن معلوم ہوا کہ یہ عورت خاندانِ برامکہ کی بیوہ مغیرہ بنت ازدار تھی، دو بچوں کی ماں اور اپنے خاندان کی بربادی کا غم لئے ہوئی۔ نکاح کا پیغام سن کر وہ بے قابو ہو گئی اور فرمایا:
“ہارون ہماری جانیں تباہ کر چکا، اب مامون ہماری عزت کے پیچھے ہے! لیکن عباس یاد رکھے، میں اپنی عزت کی حفاظت کے لیے ہر حد سے گزر جاؤں گی!”
صبحِ صادق کے وقت، مغیرہ نے اپنے بچوں کو سینے سے لگایا، نمازِ فجر ادا کی، اور عباس کے قاصد سے سنا کہ مکان خالی کرنے کی ہدایت آئی ہے۔ مغیرہ نے جواب دیا:
“عباس نے وہ وقت بھول گیا جب میرے دادا کا سر اس کے دادا کے سامنے رکھا گیا تھا۔ ہماری عصمت، ہماری دولت سے زیادہ قیمتی ہے۔”
دوسری صدی ہجری کے اختتام پر، مامون الرشید کے دربار میں وہی مغیرہ حاضر ہوئی۔ اس نے دلیرانہ اپنی داستان بیان کی:
“عباس، تم مامون الرشید کے بیٹے ہو، مگر یہ ہاتھ کبھی تمہاری گردن کے لیے نہیں، بلکہ ہماری عصمت کی حفاظت کے لیے ہیں۔”
مامون نے حکم دیا کہ عباس کو مغیرہ کے برابر کھڑا کیا جائے اور اس کی بات روکی نہ جائے۔
آخرکار مامون الرشید نے پانچ تھیلیاں اشرفیوں سے بھری ہوئی مغیرہ کے قدموں میں ڈالیں، اس کا مکان واپس کیا، اور اسے ایک محل عطا کیا۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عزت، صداقت اور حوصلہ دولت سے بھی بڑی چیزیں ہیں۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔
