بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

ایک گاؤں کے قریب گھنا جنگل تھا۔ اس جنگل میں ایک پرانا کنواں تھا جس کے پاس ایک اندھا سانپ رہتا تھا۔ سانپ زہریلا تو تھا مگر نابینا ہونے کی وجہ سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا تھا۔ وہ کنویں کے کنارے دھوپ میں پڑا رہتا اور اللہ کا شکر ادا کرتا۔

ایک دن ایک لکڑہارا جنگل میں لکڑیاں کاٹتے کاٹتے کنویں کے پاس آ پہنچا۔ جب اس نے اندھے سانپ کو دیکھا تو ڈر کے مارے پیچھے ہٹ گیا۔ مگر سانپ نے نہ کوئی حرکت کی، نہ پھنکارا۔
لکڑہارے نے ہمت کر کے پوچھا:
“کیا تم مجھے نقصان پہنچاؤ گے؟”

سانپ نے نرم آواز میں جواب دیا:
“میں اندھا ہوں اور کسی کو تکلیف نہیں دیتا۔ تم بے فکر ہو جاؤ۔”

لکڑہارے کو ترس آ گیا۔ وہ روزانہ کام کے بعد سانپ کے لیے دودھ رکھ جایا کرتا۔ کچھ عرصے بعد سانپ نے کہا:
“تم نے مجھ پر احسان کیا ہے۔ بدلے میں میں تمہیں روز ایک سونے کا سکہ دیا کروں گا۔”

یوں لکڑہارا روز آتا، دودھ رکھتا اور ایک سکہ لے جاتا۔ وہ خوشحال ہو گیا۔

ایک دن اس کا لالچی بیٹا ساتھ آ گیا۔ اس نے سونے کے سکے دیکھے تو باپ سے بولا:
“یہ سانپ ضرور کسی خزانے پر بیٹھا ہے۔ کیوں نہ اسے مار دیا جائے اور سارا خزانہ نکال لیا جائے؟”

اگلے دن جیسے ہی سانپ سکہ دینے لگا، لڑکے نے کلہاڑی اٹھا کر زور سے وار کیا۔ سانپ بچ تو گیا مگر زخمی ہو گیا۔ غصے میں اس نے لڑکے کو ڈس لیا اور وہ وہیں مر گیا۔

سانپ کراہتے ہوئے بولا:
“لالچ نے دوستی کو دشمنی میں بدل دیا۔ اب نہ تمہیں سکہ ملے گا، نہ مجھے دودھ۔”

لکڑہارا زندگی بھر اپنے بیٹے کے لالچ پر پچھتاتا رہا۔

Leave a Reply

NZ's Corner