Tag Archives: urdu blog

چھوٹے کو کبھی حقیر نہ سمجھوایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک عقاب ایک خرگوش کا پیچھا کر رہا تھا۔ خرگوش نے خوفزدہ ہو کر اپنے پاس موجود واحد جاندار سے مدد مانگی جو ہمیشہ اس کا ساتھ دیتا تھا: یعنی ایک چھوٹا سا گوبر کا بھنورا، جو اس کا گہرا دوست تھا۔خرگوش نے مدد کی بھیک مانگی۔ بھنورا اگرچہ چھوٹا اور بے بس تھا، پھر بھی وہ آگے بڑھا اور عقاب سے کہا: “براہِ کرم، میرے دوست کو چھوڑ دو۔”عقاب ایک لمحے کے لیے بھی نہ رکا۔ اس کی نظر میں اتنے چھوٹے جاندار کی آواز کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ اس نے بھنورے کو ایک طرف جھٹک دیا اور خرگوش کو اٹھا کر لے گیا۔وہ فخر اور اس یقین کے ساتھ اڑ گیا کہ اتنی چھوٹی چیز کبھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ لیکن یہ اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔اس دن کے بعد سے، بھنورا…

Read more

ایک دن کسی نے شیخ چلی کو بتایا کہ شہر کے باہر والے جنگل میں ایک خطرناک شیر رہتا ہے، جو لوگوں کو ڈراتا ہے۔یہ سنتے ہی شیخ چلی کے دل میں ہیرو بننے کا خیال جاگا۔ وہ سوچنے لگا:“اگر میں نے اس شیر کو قابو کر لیا تو پورا شہر مجھے سلام کرے گا، اور بادشاہ مجھے سونے سے نواز دیں گے!” بس پھر کیا تھا! شیخ چلی ایک لمبی لاٹھی اٹھائے بہادری کے عالم میں جنگل کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں اسے ایک ٹوٹا ہوا آئینہ ملا۔شیخ نے اسے بھی “ضروری ہتھیار” سمجھ کر جیب میں رکھ لیا۔ کچھ دور پہنچا تو اچانک جھاڑیوں کے پیچھے سے شیر کی خوفناک دھاڑ سنائی دی۔شیخ چلی کے تو ہوش اڑ گئے… مگر “بہادری” کا خیال آتے ہی اس نے ہمت باندھی۔ اس نے جلدی سے آئینہ نکالا، جھاڑی کی طرف کر دیا اور خود ایک درخت کے پیچھے چھپ…

Read more

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﭼﺎﺭ ﺁﺩﻣﯽ ﻃﻠﺐ ﮐﺌﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﺎ ، ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻋﺎﺷﻖ ﺗﮭﺎ ، ﺗﯿﺴﺮﺍ ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﺗﮭﺎ ﻏﺮﯾﺐ ﺗﮭﺎ ،،ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍﻥ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺼﺮﻋﮧ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ اس کو ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻭ ، ﻣﺼﺮﻋﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ:اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﻮﭺ ﺑﭽﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺴﺎﺏ ﺳﮯ ﺷﻌﺮ ﺑﻨﺎئے ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﯾﻮﮞ ﮨﯿﮟ.. ﻋﺎﻟﻢ :ﺑﺖ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﺩﯾﻦ ﺍﺣﻤﺪ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻋﺎﺷﻖ :ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﺟﺐ ﺩﻭ ﮨﻮﮰ ﭘﮭﺮ ﻟﻄﻒ ﯾﮑﺘﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ :ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻨﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﯾﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ — ﻏﺮﯾﺐ :ﻣﺎﻧﮕﺘﮯ ﭘﯿﺴﮯ ہیں ﻣﺼﻮﺭ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ،،اس لیے ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﻨﻮﺍﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ —#منقولــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاگر کوئی تحریر اچھی…

Read more

ایک بادشاہ نے اپنے محل میں ایک عجیب و غریب کمرہ بنایا۔ اس کمرے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی چاروں دیواریں، ستون اور چھت ہزاروں چھوٹے بڑے آئینوں سے سجے ہوئے تھے۔ جہاں بھی نظر پڑتی، انسان کو اپنا ہی عکس دکھائی دیتا۔ ایک دن ایک کتا اتفاقاً اس کمرے میں داخل ہوا۔ جیسے ہی اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی، اسے ہر طرف سینکڑوں کتے دکھائی دیے۔ کتا خوفزدہ اور غصے میں آ گیا۔ ہر آئینے میں اسے دوسرے کتوں کے غصے سے بھونکتے ہوئے چہرے نظر آئے۔ دل کی دھڑکن تیز ہوئی، خوف بڑھا، اور وہ سمجھ بیٹھا کہ ہر طرف دشمن ہی دشمن ہیں۔ آخرکار مسلسل بھونکتے اور ڈرتے ڈرتے وہ گر پڑا اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ کچھ دیر بعد ایک معصوم بچہ اسی کمرے میں داخل ہوا۔ وہ بھی ہر طرف سینکڑوں بچے دیکھ رہا تھا، مگر اس کے دل میں…

Read more

سب سے خطرناک سودا وہ نہیں ہوتا جو آپ پر حملہ کرے۔ بلکہ وہ ہوتا ہے جو سب کچھ چھینتے ہوئے آپ کو “محفوظ” ہونے کا احساس دلائے۔وادی کے پار رہنے والے چیتوں کے ڈر سے بھیڑوں کا ایک ریوڑ ہمیشہ خوف میں رہتا تھا۔ پھر ایک بھیڑیا آیا۔ 🐺اس نے انہیں نہ دھمکایا، نہ ان کا پیچھا کیا۔ وہ چشمہ لگائے، پرسکون آواز اور ایک پیشکش کے ساتھ آیا۔اس نے کہا: “مجھے اپنی حفاظت کرنے دو۔ کوئی چیتا اس وادی کے قریب نہیں آئے گا۔ بدلے میں، میں ہر مہینے صرف ایک بھیڑ مانگوں گا۔”ریوڑ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔“صرف ایک مہینے میں؟”“یہ روز روز کے خوف میں جینے سے بہتر ہے۔”“کم از کم اب ہمیں تحفظ تو حاصل ہے۔” چنانچہ وہ راضی ہو گئے۔ شروع میں یہ سودا عقلمندی لگا۔ بھیڑیے نے چیتوں کو بھگا دیا۔ وادی میں خاموشی چھا گئی۔ خوف ختم ہونے لگا۔مہینہ در مہینہ،…

Read more

زید بن اسلم رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قحط سالی کے دوران لوگ نمرود کے پاس جاتے اور غلہ لے آتے تھے۔ حضرت خلیل اللہ علیہ السلام بھی گئے، مگر بدبخت نمرود نے آپ علیہ السلام کو غلہ نہ دیا اور آپ خالی ہاتھ واپس لوٹے۔ گھر کے قریب پہنچ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دونوں بوریوں میں ریت بھر دی تاکہ گھر والے سمجھیں کہ کچھ لے آئے ہیں۔ گھر آ کر بوریوں کو رکھ کر سو گئے۔ حضرت سارہ علیہا السلام اٹھیں، بوریوں کو کھولا تو دیکھیں کہ وہ عمدہ اناج سے بھری ہوئی ہیں۔ کھانا پکا کر تیار کیا۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آنکھ کھلی اور کھانا دیکھا تو پوچھا، “یہ اناج کہاں سے آیا؟” حضرت سارہ علیہا السلام نے کہا، “وہی بوریوں میں سے نکالا جو آپ لے کر آئے تھے۔” آپ سمجھ گئے کہ یہ خدا کی برکت اور رحمت ہے۔…

Read more

اس کہانی کا مفہوم اور پیغام بہت گہرا ہے۔ تیاری کی حکمت: ایک سبق آموز کہانیکچھ لوگ مشکل وقت میں بھی پرسکون نظر آتے ہیں، اس کی ایک بڑی وجہ ہے:وہ دباؤ آنے سے پہلے ہی اپنی تیاری مکمل کر چکے ہوتے ہیں۔ایک پُرسکون جنگل میں، ایک جنگلی سور ایک پرانے درخت کے تنے سے اپنے دانت رگڑ کر انہیں تیز کر رہا تھا۔ دن بدن، وہ یہی کام کرتا رہا۔ آہستہ آہستہ، صبر کے ساتھ اور بغیر کسی ناغے کے۔وہاں سے ایک لومڑی گزری، اس نے سور کو دیکھا اور ہنسنے لگی۔“یہاں تو کوئی شکاری نہیں ہے۔ کوئی خطرہ بھی نہیں ہے۔ پھر تم ابھی سے اپنے دانت تیز کر کے اپنی توانائی کیوں ضائع کر رہے ہو؟” جنگلی سور نے کوئی بحث نہیں کی۔ وہ ایک لمحے تک اپنے دانت تیز کرتا رہا، پھر جواب دیا:“جب خطرہ آئے گا، تو مجھے فوراً اپنے تیز دانتوں کی ضرورت ہوگی۔…

Read more

یہ ایک بہت ہی سبق آموز کہانی ہے جو انسانی فطرت کی عکاسی کرتی ہے۔ کیا آپ کو ان لوگوں کو دینا چاہیے جو اس کے حقدار نہیں؟ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ نکیمی فونا نامی ایک شخص رہتا تھا۔ وہ اس قدر کنجوس تھا کہ کوئی کتا بھی اس کے پیچھے نہ جاتا تھا اور نہ ہی کبھی کسی مرد یا عورت نے اسے “شکریہ” کہا تھا۔اور ہر کنجوس کی طرح، اسے اپنے لالچ پر کوئی قابو نہ تھا۔ اسے تقریبات میں شرکت کرنا بہت پسند تھا لیکن اس نے کبھی کسی میزبان کی ایک کوڑی سے بھی مدد نہ کی تھی۔ جب بھی وہ گاؤں کے چوک سے گزرتا، لوگ اس کے بارے میں کہتے:“یہ وہ شخص ہے جو کبھی دیتا نہیں، لیکن ہمیشہ لینے کی توقع رکھتا ہے۔”ایک بدقسمت دن، نکیمی فونا ایک شادی کی تقریب میں جا رہا تھا کہ وہ ایک گہرے گڑھے میں گر…

Read more

پڑھیے گا ضرور…ہماری تاریخ میں بہت بڑا خوبصورت نام عبداللہ بن زید رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ آپ نے ساری زندگی نکاح نہیں کیا، جوانی گزر گئی بڑھاپا آیا ایک دن بیٹھے حدیث مبارکہ پڑھ رہے تھے تو اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان پڑھا جس کا مفہوم یہ تھا کہ:**”جنت میں کوئی اکیلا نہیں ہو گا جو نکاح کی عمر میں نہیں پہنچا یا پہنچا بھی تو کسی وجہ سے نہیں ہوا اور وہ مسلمان ہی مرا تو اللہ مسلمان مردوں اور عورتوں کا جنت میں آپس میں نکاح کر دے گا”۔**جب یہ حدیث پاک پڑھی تو دل میں خیال آیا کہ یہاں تو نکاح نہیں کیا تو جنت میں ہونا ہی ہونا ہے تو جنت میں میری بیوی کون ہو گی دعا کی کہ یا اللہ مجھے دکِھا تو سہی جنت میں میری بیوی کون ہو گی؟* *پہلی رات دعا قبول نہیں ہوئی…

Read more

بہت پہلے کی بات ہے، جنگل کے بیچوں بیچ ایک بندر رہتا تھا جو چالاک تو تھا مگر بہت لالچی بھی تھا۔ وہ اتنا پھرتیلا تھا کہ کوئی جال اسے پکڑ نہیں سکتا تھا۔ تمام جانور اسے اچھی طرح جانتے تھے۔ جب بھی کھانا بانٹا جاتا، وہ اپنے حصے سے زیادہ لیتا۔ جب بھی پھل پکتے، وہ اتنے توڑ لیتا کہ خود کھا بھی نہ پاتا۔ایک موسم میں آم کے درخت پھلوں سے لد گئے تھے۔ بندر نے اتنے آم جمع کر لیے کہ اس کے درخت کے نیچے ڈھیر لگ گیا۔ آدھے آم دھوپ میں گل سڑ گئے جبکہ طوطے اور گلہریاں بھوک سے انہیں دیکھتی رہتیں، مگر وہ پھر بھی انہیں بھگا دیتا اور چلاتا، “یہ میرے ہیں! سب میرے ہیں!”جنگل کے دوسرے جانور اس سے ناراض تھے۔انہوں نے کہا، “بندر میاں! لالچ تمہیں لے ڈوبے گا۔ یہ لالچ ہی تمہیں کسی دن پھنسائے گا۔”بوڑھے کچھوے نے، جس…

Read more

حضرت عیسیٰ ؑ تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے ایک پہاڑ کی طرف جا رہے تھے، ایک آدمی نے بلند آواز سے پکار کر کہا، اے خدا کے رسول ؑ ! اس وقت آپ ؑکہاں تشریف لے جا رہے ہیں،تیز چلنے کی وجہ کیا ہے؟ آپ ؑکے پیچھے کوئی دشمن بھی نہیں ہے۔حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا: میں ایک احمق آدمی سے بھاگ رہا ہوں،تو میرے بھاگنے میں خلل مت ڈال۔اس آدمی نے کہا: اے حضرت آپ مسیحا ؑ نہیں ہیں؟جن کی برکت سے مریض شفایاب ہو جاتے ہیں،اندھے اور بہرے کو صحت مل جاتی ہے۔آپؑ نے فرمایا: ہاں میں وہی نبیؑ ہوں۔اس آدمی نے کہا: کیا آپؑ وہی بادشاہ نہیں ہیں جو مردے پر اللہ کا کلام پڑھتا ہے تو وہ زندہ ہو جاتا ہے؟آپ ؑ نے فرمایا : ہاں میں وہی پیغمبرؑ ہوں۔اس آدمی نے کہا: کیا آپؑ وہ نہیں ہیں جو مٹی کو پرندے بنا کر ان پر…

Read more

کوہِ طور پر تجلیِ الہٰیہ کی زیارت کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چہرہ مبارک پر ایسی قوی چمک رہتی تھی کہ چہرے پر نقاب کے باوجود جو بھی آپ کی طرف آنکھ بھر کر دیکھتا تو اُس کی آنکھوں کی بینائی ختم ہو جاتی۔ آپ علیہ السلام نے حق تعالیٰ سے عرض کیا کہ “مجھے ایسا نقاب عطا فرمائیے جو اِس قوی نُور کا ستر بن جائے اور مخلوق کی آنکھوں کو نقصان نہ پہنچے۔” حکم ہوا کہ “اپنے اُس کمبل کا نقاب بنا لیجئےجو کوہِ طُور پر آپ (علیہ السلام) کے جسم پر تھا۔ جس نے طُور کی تجلی کا تحمل کیا ہُوا ہے۔ اے موسیٰ.! اُس کمبل کے علاوہ اگر کوہ قاف بھی آپ کے چہرے کی تجلی بند کرنے کو آ جائے تو وہ بھی مثلِ کوہِ طُور پھٹ جائے گا۔” الغرض موسیٰ علیہ السلام نے بغیر نقاب کے خلائق کو اپنا چہرہ دیکھنے سے…

Read more

ایک مغرور شخص ایک درویش کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ تم لوگ کہتے ہو کہ شیطان آگ سے بنا ہے اور اسے دوزخ کی آگ میں جلایا جائے گا، بھلا آگ آگ کو کیسے جلا سکتی ہے؟ درویش نے خاموشی سے مٹی کا ایک ڈھیلا اٹھایا اور اس شخص کے سر پر مار دیا۔وہ شخص چیخا اور کہنے لگا کہ تم نے مجھے کیوں مارا؟ میرا سر درد کر رہا ہے۔ درویش نے پوچھا کہ کیا تمہیں درد نظر آ رہا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ درویش نے کہا کہ جیسے درد نظر نہیں آتا مگر محسوس ہوتا ہے، ویسے ہی اللہ کی قدرت بھی ہے۔ اور رہی بات آگ کی، تو تم مٹی سے بنے ہو لیکن مٹی کے ڈھیلے نے تمہیں تکلیف دی، اسی طرح اللہ آگ سے بنے شیطان کو آگ سے ہی سزا دے گا۔سبق: قدرت کے نظام پر شک کرنے کے بجائے…

Read more

ﻣُﻼ ﻧﺼﯿﺮ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﯾﮓ ﺍﺩﮬﺎﺭ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﺟﺐ ﺍُﻥ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ انہیں دیگ واپس کی اور ساتھ میں اپنی ایک چھوٹی دیگچی بھی بھجوا دی۔۔!!ﭘﮍﻭﺳﯽ ﻧﮯ ﻣُﻼ ﻧﺼﯿﺮﺍﻟﺪﯾﻦ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ، “ﮐﯿﻮﮞ ﺑﮭﺌﯽ! ﯾﮧ دیگچی ساتھ میں کیوں دے رہے ہو۔۔۔؟”ﻣُﻼ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ “جناب! ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺩﯾﮓ ﻧﮯ ﺑﭽﮧ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ۔۔۔!” ﭘﮍﻭﺳﯽ ﻧﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﺮﺗﻦ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﮯ۔ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﭘﮭﺮ ﺩﯾﮓ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﮍ ﮔﺌﯽ، ﭘﮭﺮ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﮕﯽ۔ مگر ﺑﮩﺖ ﺩﻥ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﻣﻼ ﻧﺼﯿﺮ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﯾﮓ ﻭﺍﭘﺲ ﻧﮧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﻧﮯ ﺁ ﮐﺮ ﺗﻘﺎضا ﮐﯿﺎ۔ﻣُﻼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺑﮍﮮ ﺩُﮐﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ “ﺟﻨﺎﺏ! ﺁﭖ ﮐﯽ ﺩﯾﮓ ﮐﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝِ ﭘُﺮ ﻣﻼﻝ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔۔۔!”ﭘﮍﻭﺳﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، “کیوں ملا! ﮐﯿﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ، کیا کبھی دیگ کا بھی انتقال ہو…

Read more

ایک فقیر ایک درویش کی ملاقات کو آیا جس سے اُسے بڑی عقیدت تھی کیا دیکھتا ہے کہ درویش ایک مخملیں غالیچے پر بیٹھا ہوا ہے اور اس کے سر پر ریشمی کپڑے کی جھونپڑی تنی ہے جس کو سونے کی میخوں سے زمیں میں گاڑا گیا ہے فقیر نے جب یہ سب دیکھا تو فریاد کرنے لگا پیر و مرشد یہ سب کیا ہے ؟ میں تو آپ کے زہد و خدا پر توکّل کی وجہ سے آپ کا مرید بنا تھا اب یہ شان و شوکت دیکھ کر میں دنگ رہ گیا ہوں درویش نے ہنس کر کہا میں تیّار ہوں کہ یہ سب کچھ ترک کر کے تمہارے ہمراہ چلوں یہ کہہ کر درویش اٹھا اور فقیر کے ساتھ چل پڑا اُس نے اتنی زحمت بھی نہیں کی کہ اپنے چپّل ھی پہن لے کچھ دور چلنے کے بعد فقیر کہنے لگا میں اپنا کشکول تو آپ…

Read more

جاپان کے ایک گاؤں میں ایک غریب لکڑہارا رہتا تھا۔ اس کا نام ایچیرو تھا۔ وہ ہر روز جنگل جاتا، درخت کاٹتا، لکڑی بیچتا، اور اپنی بیوی اور دو بچوں کا پیٹ پالتا۔ ایک دن جنگل میں اس نے دیکھا کہ ایک سارس شکنجے میں پھنسی ہوئی ہے۔ وہ بے حال تڑپ رہی تھی۔ ایچیرو نے اس پر رحم کھایا۔ اس نے شکنجہ کھول دیا۔ سارس اڑ گئی۔ اس رات جب ایچیرو گھر واپس آیا تو اس کے گھر میں ایک عورت بیٹھی تھی۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔ عورت نے کہا: “میں وہی سارس ہوں جسے تم نے آج بچایا۔ شکریہ۔ میں تمہیں تین خواہشیں پوری کروں گی۔” ایچیرو نے بیوی سے مشورہ کیا۔ بیوی بولی: “نیا گھر چاہیے۔ یہ پرانا گھر گرنے کو ہے۔” ایچیرو نے کہا: “پہلی خواہش  نیا گھر۔” اتنا کہنا تھا کہ پرانا گھر غائب ہو گیا۔ اس کی جگہ ایک نیا خوبصورت گھر تھا۔ اگلے…

Read more

بہت پرانی بات ہے، حلب کے مشہور بازارِ زرگراں میں یوسف نام کا ایک سنار رہتا تھا۔ یوسف اپنے کام کا ماہر تھا، اس کے بنائے ہوئے زیورات پورے شام میں مشہور تھے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ بے حد لالچی اور کنجوس بھی تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ دنیا میں سب سے اہم چیز ‘وقت’ نہیں بلکہ ‘سونا’ ہے، اور وہ اپنا ہر لمحہ صرف سونا جمع کرنے میں صرف کرتا تھا۔اس کے پڑوس میں ایک بوڑھا، درویش صفت آدمی رہتا تھا، جسے لوگ خاموشی سے ‘الحکیم’ (دانا) کہتے تھے۔ الحکیم اکثر یوسف کو دیکھ کر مسکراتا اور کہتا: “یوسف! سونا تو مٹی ہے، وقت کا دھاگا سنبھالو، یہ ایک بار ٹوٹ جائے تو دوبارہ نہیں جڑتا۔” لیکن یوسف اس کی باتوں کو ہنس کر ٹال دیتا۔ ایک دن، جب سورج حلب کے قدیم قلعے کے پیچھے ڈھل رہا تھا، یوسف کی دکان پر ایک پرسرار اجنبی…

Read more

گاؤں میں خدا بخش کا ایک چھوٹا سا پیارا سا گھر تھا۔ وہ کسان تھا۔ اس کا ایک باغ تھا۔ باغ کے آخری کونے میں ایک بہت گہرا کنواں تھا۔ بے چارہ کسان پانی اوپر کھینچتا اور پھر اس کو باغ کے پودوں میں ڈالتا تھا۔ ایک سال بالکل بارش نہیں ہوئی۔ سورج بہت گرم تھا۔ کسان نے اپنے باغ کی طرف دیکھا اور کہا: ”اگر پانی نہ ملا تو میرے پودے مر جائیں گے۔ مجھے ان کو پانی ضرور دینا چاہیے، لیکن پانی تو اب بہت گہرائی میں اتر گیا ہے۔ میں بہت بوڑھا ہو گیا ہوں اور موٹا بھی۔ بہت محنت کا کام ہے، مجھے کیا کرنا چاہیے؟“ یہ سوچتا ہوا وہ سڑک کے کنارے بنی ہوئی چار دیواری تک آ گیا۔ وہ تھک کر ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہی تھا کہ اس کے کان میں کھسر پھسر کی آواز آئی۔ کوئی اس کا نام لے رہا…

Read more

اٹلی کے ایک چھوٹے سے قصبے میں لوگوں نے ایک بہت اونچا مینار بنانے کا فیصلہ کیا۔ وہ مینار اتنا اونچا ہو گا کہ پورے علاقے میں سب سے اونچا ہو گا۔ شہر کے بڑھئی، معمار، سنگ تراش، سب جمع ہوئے۔ انہوں نے نقشہ بنایا، پتھر تراشے، مٹی گوندھی، اور کام شروع کر دیا۔ پہلے مہینے میں مینار کی بنیاد بنی۔ بنیاد بہت مضبوط تھی، پتھر بہت بڑے تھے۔ دوسرے مہینے میں دیواریں اٹھنے لگیں۔ تیسرے مہینے میں مینار اتنا اونچا ہو گیا کہ لوگوں کو سیڑھیاں لگانی پڑیں۔ چوتھے مہینے میں مینار اتنا اونچا ہو گیا کہ لوگوں کو رسیاں باندھنی پڑیں۔ پانچویں مہینے میں مینار اتنا اونچا ہو گیا کہ نیچے سے اوپر نظر نہیں آتا تھا۔ لیکن جیسے جیسے مینار اونچا ہوتا گیا، لوگوں میں جھگڑے شروع ہو گئے۔ پتھر تراشنے والے کہنے لگے: “یہ مینار ہماری محنت سے بن رہا ہے۔ ہم سب سے اہم ہیں۔”…

Read more

بنگال کے ایک بادشاہ کا ڈھول بجانے والا بہت مشہور تھا۔ اس کا نام بھولو تھا۔ وہ اتنا اچھا ڈھول بجاتا تھا کہ لوگ دور دور سے سننے آتے تھے۔ جب وہ ڈھول بجاتا تو لوگ ناچنے لگتے، بادشاہ خوش ہو جاتا، ساری دربار خوشی سے جھوم اٹھتی۔ بادشاہ نے اسے بہت سا انعام دیا — سونے کے سکے، ریشمی کپڑے، ایک خوبصورت گھر۔ بھولو امیر ہو گیا۔ لیکن امیر ہوتے ہی بھولو بدل گیا۔ اسے غرور آ گیا۔ وہ سوچنے لگا: “میں بہت بڑا فنکار ہوں۔ میرے جیسا کوئی نہیں۔” وہ اپنے پرانے دوستوں سے نہیں ملتا تھا۔ وہ غریبوں کو حقارت سے دیکھتا تھا۔ وہ کہتا: “یہ لوگ میرے برابر نہیں ہیں۔” ایک دن بادشاہ نے اسے بلایا۔ بھولو دربار میں گیا، ڈھول بجایا۔ اس دن اس نے اتنا اچھا بجایا کہ سب دنگ رہ گئے۔ بادشاہ نے کہا: “بھولو، تم بہت بڑے فنکار ہو۔ مانگو، جو چاہو…

Read more

40/422
NZ's Corner