یہ ایک بہت ہی سبق آموز کہانی ہے جو انسانی فطرت کی عکاسی کرتی ہے۔
کیا آپ کو ان لوگوں کو دینا چاہیے جو اس کے حقدار نہیں؟
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ نکیمی فونا نامی ایک شخص رہتا تھا۔ وہ اس قدر کنجوس تھا کہ کوئی کتا بھی اس کے پیچھے نہ جاتا تھا اور نہ ہی کبھی کسی مرد یا عورت نے اسے “شکریہ” کہا تھا۔
اور ہر کنجوس کی طرح، اسے اپنے لالچ پر کوئی قابو نہ تھا۔ اسے تقریبات میں شرکت کرنا بہت پسند تھا لیکن اس نے کبھی کسی میزبان کی ایک کوڑی سے بھی مدد نہ کی تھی۔ جب بھی وہ گاؤں کے چوک سے گزرتا، لوگ اس کے بارے میں کہتے:
“یہ وہ شخص ہے جو کبھی دیتا نہیں، لیکن ہمیشہ لینے کی توقع رکھتا ہے۔”
ایک بدقسمت دن، نکیمی فونا ایک شادی کی تقریب میں جا رہا تھا کہ وہ ایک گہرے گڑھے میں گر گیا۔ گہرائی سے اس نے مدد کے لیے پکارا۔ جب لوگوں نے اس کی چیخیں سنیں تو وہ گڑھے کی طرف دوڑے اور اس کنجوس کو بچانے کی کوشش کرنے لگے۔
بچانے والوں میں سب سے طویل قامت شخص نوافور نے نکیمی فونا سے کہا:
“مجھے اپنا ہاتھ دو!”
لیکن نکیمی فونا نے اس کی بات نہ مانی۔
“اسے اپنا ہاتھ دو!” لوگ چلائے۔ لیکن اس بدقسمت شخص نے اپنے ہاتھ اپنے سینے پر باندھ لیے اور بچائے جانے سے انکار کر دیا۔
یہ خبر گاؤں کے سب سے دانشمند شخص اگو تک پہنچی۔ اس نے اپنی لاٹھی اٹھائی اور وہاں پہنچا جہاں نکیمی فونا اپنی قسمت کے حوالے ہو چکا تھا۔
دیہاتیوں نے اگو سے کہا: “آپ اسے نہیں بچا سکتے۔ ہم سب نے کوشش کر لی ہے۔ شاید اس کا نصیب ہی یہی ہے کہ اس کے آخری دن اس گڑھے میں گزریں۔”
اگو نے جواب دیا: “مجھے کوشش کرنے دو۔ شاید اس نے وہ بات نہیں سنی جو وہ سمجھتا ہے۔” دیہاتی ہنسے اور ایک طرف ہو گئے۔
جب اگو گڑھے کے پاس پہنچا، تو وہ ایک گھٹنے کے بل جھکا اور اپنا ہاتھ نیچے کی طرف پھیلایا۔
اس نے نرمی سے کہا: “نکیمی فونا، میرا ہاتھ لے لو۔”
اور فوراً ہی، گڑھے میں موجود شخص نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور اگو کا ہاتھ تھام لیا۔
اس کی جان بچ گئی۔
اُس شام بعد میں، بزرگ جمع ہوئے اور بازار کے چوک میں ہونے والے واقعے پر بات کرنے لگے۔
اگو صرف ہنسا۔
“تم لوگوں نے اس سے کہا تھا کہ ‘مجھے اپنا ہاتھ دو’۔ لیکن نکیمی فونا نے کبھی دینا سیکھا ہی نہیں تھا۔
چنانچہ میں نے اس سے کہا، ‘میرا ہاتھ لے لو’۔”
بزرگ خاموش ہو گئے۔
آخر کار، ان میں سے ایک نے آہستہ سے اپنا سر ہلایا۔
“گڑھے کے اندر بھی،” اس نے کہا، “وہ شخص اب بھی لینے کے لیے ہی کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔”
اگو نے زمین پر اپنی لاٹھی ماری اور مسکرا دیا
اس کہانی میں انسانی نفسیات اور اخلاق کے حوالے سے بہت گہرے اسباق چھپے ہوئے ہیں۔ یہاں اس کے چند اہم نکات درج ہیں:
کہانی کے اخلاقی اسباق
۱. عادت کی قوت (The Power of Habit)
نکیمی فونا کی زندگی “صرف لینے” پر مبنی تھی۔ اس کی یہ عادت اس قدر پختہ ہو چکی تھی کہ موت کے سامنے کھڑے ہونے کے باوجود وہ “دینے” کے لفظ سے ناواقف تھا۔ یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کی عادات اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہیں، یہاں تک کہ مشکل وقت میں بھی وہ اپنی جبلت (Nature) نہیں بدل پاتا۔
۲. دوسروں کی نفسیات کو سمجھنا (Understanding Psychology)
گاؤں کے دانا شخص “اگو” نے یہ ثابت کیا کہ مسئلہ ہمیشہ دوسرے شخص کی ضد نہیں ہوتا، بلکہ کبھی کبھی ہمارے بات کرنے کا انداز غلط ہوتا ہے۔ * دیہاتی اسے “دینے” کا کہہ رہے تھے (جو اس کی فطرت کے خلاف تھا)۔
دانا شخص نے اسے “لینے” کی پیشکش کی (جو اس کی فطرت کے عین مطابق تھا)۔
سبق: اگر آپ کسی سے کوئی کام کروانا چاہتے ہیں، تو اس کی زبان اور اس کی نفسیات میں بات کریں۔
۳. کنجوسی اور تنہائی
کہانی کے شروع میں ہی بتایا گیا کہ کوئی کتا بھی اس کے پیچھے نہیں جاتا تھا۔ کنجوسی صرف پیسے کی کمی کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کو جذباتی طور پر تنہا کر دیتی ہے۔ جو شخص بانٹنا نہیں جانتا، وہ محبت اور ہمدردی سے بھی محروم رہتا ہے۔
۴. کیا نااہل کی مدد کرنی چاہیے؟
آپ کے اصل سوال کا جواب اس کہانی میں چھپا ہے۔ اگرچہ نکیمی فونا اس ہمدردی کا “حقدار” نہیں تھا (کیونکہ اس نے کبھی کسی کی مدد نہیں کی تھی)، لیکن دانا شخص نے اسے بچایا۔
سبق: ہمیں دوسروں کی مدد اس لیے نہیں کرنی چاہیے کہ وہ کون ہیں، بلکہ اس لیے کرنی چاہیے کہ ہم کون ہیں۔ اگو کی دانائی اور ہمدردی اس کی اپنی صفت تھی، جو نکیمی فونا کی برائی سے ختم نہیں ہوئی۔
ایک دلچسپ نکتہ:
اس کہانی کا سب سے بڑا طنز یہ ہے کہ نکیمی فونا نے اپنی جان بچانے کے لیے بھی “لینے” (Take) کے عمل کا سہارا لیا۔ وہ مرتے مرتے بھی کسی کو کچھ دے کر نہ گیا۔
