Tag Archives: urdu blog

بنگال کے ایک بادشاہ کا ڈھول بجانے والا بہت مشہور تھا۔ اس کا نام بھولو تھا۔ وہ اتنا اچھا ڈھول بجاتا تھا کہ لوگ دور دور سے سننے آتے تھے۔ جب وہ ڈھول بجاتا تو لوگ ناچنے لگتے، بادشاہ خوش ہو جاتا، ساری دربار خوشی سے جھوم اٹھتی۔ بادشاہ نے اسے بہت سا انعام دیا — سونے کے سکے، ریشمی کپڑے، ایک خوبصورت گھر۔ بھولو امیر ہو گیا۔ لیکن امیر ہوتے ہی بھولو بدل گیا۔ اسے غرور آ گیا۔ وہ سوچنے لگا: “میں بہت بڑا فنکار ہوں۔ میرے جیسا کوئی نہیں۔” وہ اپنے پرانے دوستوں سے نہیں ملتا تھا۔ وہ غریبوں کو حقارت سے دیکھتا تھا۔ وہ کہتا: “یہ لوگ میرے برابر نہیں ہیں۔” ایک دن بادشاہ نے اسے بلایا۔ بھولو دربار میں گیا، ڈھول بجایا۔ اس دن اس نے اتنا اچھا بجایا کہ سب دنگ رہ گئے۔ بادشاہ نے کہا: “بھولو، تم بہت بڑے فنکار ہو۔ مانگو، جو چاہو…

Read more

میکسیکو کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیڈرو نام کا ایک لڑکا رہتا تھا۔ وہ بہت غریب تھا۔ اس کے پاس جوتے نہیں تھے، اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، اس کے پاس کھانے کو اکثر صرف ایک روٹی ہوتی تھی۔ لیکن پیڈرو کے پاس ایک دولت تھی اس کی ماں کی محبت۔ پیڈرو کی ماں بہت بوڑھی تھی۔ اس کی آنکھیں کمزور تھیں، اس کے ہاتھ کانپتے تھے، لیکن وہ ہر روز پیڈرو کے لیے روٹی پکاتی، اس کے سر پر ہاتھ رکھتی، اور کہتی: “بیٹا، کبھی ہار مت ماننا۔” ایک دن پیڈرو نے ماں سے کہا: “ماں، میں شہر جا رہا ہوں۔ وہاں کام ملے گا، پیسے ملیں گے۔ میں تمہارے لیے دوائی لاؤں گا، تمہیں اچھے کپڑے دلوں گا۔” ماں نے کہا: “جا بیٹا، لیکن یاد رکھنا جو کچھ بھی ہو، ایماندار رہنا۔” پیڈرو شہر پہنچا۔ اس نے بہت کام کیا صبح سے رات تک محنت کی۔…

Read more

جب بہت زیادہ مدد کرنے والا آخر کار چھوڑ کر چلا جاتا ہےاس خشک سرزمین میں اونٹ صرف ایک ہی بات کے لیے مشہور تھا: اسے معلوم تھا کہ پانی کہاں ملے گا۔جب دریا خشک ہو جاتے اور زمین پھٹ جاتی، تو دوسرے جانور کھودنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔ وہ بس اسے دیکھتے رہتے۔ہر صبح، سورج کے تیز ہونے سے پہلے، اونٹ ریت میں کھدائی کرتا۔ اس کا سانس پھول جاتا۔ اس کے سینے میں درد ہوتا۔ پانی بہت آہستہ، تھوڑا تھوڑا کر کے نکلتا، جیسے کہیں چھپا ہوا ہو۔زیبرا پانی پیتا۔ ہرن پانی پیتا۔ پرندے غول کی شکل میں آتے اور پانی پیتے تاکہ اپنی پیاس بجھا سکیں۔انہوں نے کبھی غور نہیں کیا کہ وہ کتنا تھک چکا ہے۔ انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ کھدائی کے لیے صحیح جگہ تلاش کرنے کے لیے اسے کتنا پیدل چلنا پڑتا ہے۔ وہ صرف اس وقت آتے جب وہ…

Read more

ایک بادشاہ نے اعلان کروایا کہ“میری سلطنت میں جو سب سے بڑا بے وقوف ہے، اسے میرے دربار میں پیش کیا جائے۔” بادشاہ کا حکم تھا، اس پر عمل ہوا اور بے وقوف کے نام پر سینکڑوں لوگ دربار میں پیش کر دیے گئے۔ بادشاہ نے سب کا امتحان لیا اور آخرکار فائنل راؤنڈ میں ایک شخص کو “کامیاب بے وقوف” قرار دے دیا۔ بادشاہ نے اپنے گلے سے ایک قیمتی ہار اتارا اور اس شخص کے گلے میں ڈال دیا۔ وہ شخص یہ عجیب سا اعزاز لے کر اپنے گھر واپس چلا گیا۔ کچھ عرصے بعد اس کے دل میں خیال آیا کہ بادشاہ سے دوبارہ ملاقات کی جائے۔جب وہ محل پہنچا تو معلوم ہوا کہ بادشاہ مرضِ الموت میں ہے اور اپنی زندگی کے آخری لمحات گزار رہا ہے۔ بادشاہ کو اطلاع دی گئی تو اس نے ملاقات کی اجازت دے دی۔ وہ شخص حاضر ہوا اور بولا:“بادشاہ…

Read more

حضرت آدم علیہ السلام کے ہاں دو بیٹے پیدا ہوئے۔ ان میں سے ایک کا نام قابیل اور دوسرے کا ہابیل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ دونوں اپنی اپنی قربانی پیش کریں۔ ہابیل نے اپنی بہترین بکری قربان کی، جبکہ قابیل نے کم درجے کی چیزیں پیش کیں۔ اللہ نے ہابیل کی قربانی قبول فرمائی اور قابیل کی قبول نہ کی۔ قابیل حسد اور غصے میں ہابیل کو قتل کرنے لگا۔ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا یہ زمین پر پہلا قتل تھا۔ بعد میں اسے سخت پشیمانی ہوئی، لیکن اس کا قتل اس کی آخرت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ اللہ نے اس واقعہ کے ذریعے انسانوں کو سکھایا کہ قتل کرنا کتنا بڑا گناہ ہے، اور کہ ہر انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ حوالہ جات قرآن کریم سے: · سورۃ المائدہ، آیت ۲۷ تا ۳۲ترجمہ: ”اور انہیں آدم…

Read more

برازیل کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ایک ٹوپی فروش رہتا تھا۔ اس کا نام پیڈرو تھا۔ وہ ہر روز شہر جاتا، بازار میں اپنی ٹوپیاں بیچتا، اور شام کو واپس آ جاتا۔ اس کا کاروبار چھوٹا تھا، لیکن وہ خوش تھا۔ ایک دن اس نے سوچا: “کیوں نہ شہر سے آگے کے گاؤں میں چلا جاؤں؟ وہاں لوگ کم آتے ہیں، شاید میری ٹوپیاں اچھے داموں بک جائیں۔” اس نے اپنی ساری ٹوپیاں ایک بڑے تھیلے میں رکھیں، تھیلا سر پر رکھا، اور چل پڑا۔ وہ گھنٹوں چلتا رہا۔ سورج سر پر آیا، راستہ مشکل تھا۔ وہ تھک گیا۔ اس نے ایک بڑے درخت کے نیچے آرام کرنے کا سوچا۔ درخت بہت بڑا تھا، اس کی شاخیں پھیلی ہوئی تھیں، گھنی چھاؤں تھی۔ پیڈرو نے تھیلا نیچے رکھا، ایک پتھر سرہانے رکھا، اور آنکھ بند کر لی۔ وہ سو گیا۔ اسے پتہ نہیں تھا کہ اس درخت پر بندروں…

Read more

ایک دن ہوا اور سورج آپس میں بحث کر رہے تھے۔ دونوں میں سے ہر ایک کہہ رہا تھا کہ میں زیادہ طاقتور ہوں۔ ہوا بولی: “میں اتنی طاقتور ہوں کہ درخت اکھاڑ سکتی ہوں، چھتیں اڑا سکتی ہوں، سمندر میں لہریں کھڑی کر سکتی ہوں۔” سورج بولا: “طاقت صرف تباہ کرنے میں نہیں ہوتی۔ دیکھتے ہیں کون زیادہ طاقتور ہے۔” اتنے میں انہوں نے نیچے ایک مسافر کو دیکھا۔ وہ گرمی سے بچنے کے لیے اپنی چادر اوڑھے چلا جا رہا تھا۔ سورج بولا: “دیکھ، وہ مسافر چادر اوڑھے ہوئے ہے۔ جو اس کی چادر اتار دے، وہ زیادہ طاقتور۔” ہوا بولی: “یہ تو بہت آسان ہے۔ پہلے میں کوشش کرتی ہوں۔” ہوا زور سے چلنے لگی۔ اس نے تیز جھونکے بھیجے۔ مسافر کی چادر اڑنے لگی۔ اس نے چادر کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ ہوا نے اور زور کیا۔ مسافر نے چادر کو اور مضبوطی سے تھام لیا۔…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ وہ بہت لالچی تھا۔ اس کے پاس اتنا سونا تھا کہ اس کے محل کے تہہ خانے بھرے ہوئے تھے۔ اتنا چاندی تھا کہ اس کے گوداموں میں جگہ نہیں بچی تھی۔ اتنے ہیرے جواہرات تھے کہ اس کے خزانوں کے دروازے بند نہیں ہوتے تھے۔ لیکن وہ پھر بھی خوش نہیں تھا۔ وہ ہر روز سوچتا: “اور چاہیے۔ مجھے اور چاہیے۔” اس نے اپنے وزیر سے کہا: “دنیا کا سب سے امیر آدمی کون ہے؟” وزیر نے کہا: “بادشاہ سلامت! آپ ہی دنیا کے سب سے امیر آدمی ہیں۔” بادشاہ نے کہا: “پھر میں خوش کیوں نہیں ہوں؟” وزیر چپ رہا۔ اسے جواب نہیں معلوم تھا۔ ایک دن بادشاہ کے دربار میں ایک درویش آیا۔ اس کے پاس کچھ نہیں تھا۔ نہ سونا، نہ چاندی، نہ کپڑے۔ اس کے پاس صرف ایک ٹوٹی ہوئی چادر تھی اور ایک مٹی کا کٹورا۔ بادشاہ نے کہا: “تم بہت…

Read more

قدیم عرب کے ایک قصے کے مطابق، ایک طاقتور بادشاہ کو شکار کا بہت شوق تھا۔ اس کے پاس ایک ایسا عقاب تھا جسے اس نے بچپن سے پالا تھا اور وہ اسے اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھتا تھا۔ وہ عقاب ہمیشہ بادشاہ کے کندھے پر بیٹھتا اور شکار میں اس کا بہترین ساتھی ثابت ہوتا۔تلاشِ آبایک دن بادشاہ اپنے چند سپاہیوں کے ساتھ ایک تپتے ہوئے صحرا میں شکار کے لیے نکلا۔ تپش اتنی شدید تھی کہ مشکیزوں کا پانی ختم ہو گیا اور بادشاہ اپنے قافلے سے بچھڑ کر تنہا رہ گیا۔ پیاس کے مارے اس کا برا حال تھا اور وہ سائے اور پانی کی تلاش میں بھٹک رہا تھا۔کافی دیر بعد اسے ایک پہاڑی کے دامن میں چٹان سے قطرہ قطرہ ٹپکتا ہوا پانی نظر آیا۔ بادشاہ نے خوشی سے اپنا پیالہ نکالا اور بڑی محنت اور صبر سے ان قطروں کو پیالے میں جمع…

Read more

افریقہ کے ایک گھنے جنگل میں ایک کچھوا رہتا تھا۔ وہ بہت سست تھا، لیکن اس کی زبان بہت تیز تھی۔ وہ ہر وقت بکتا رہتا، دوسروں کی باتیں کرتا، ان پر تنقید کرتا، ان کا مذاق اڑاتا۔ جنگل کے دوسرے جانور اس سے تنگ آ چکے تھے۔ لیکن کچھوا کسی کی بات نہیں سنتا تھا۔ ایک دن کچھوا درخت کے نیچے بیٹھا بکتا ہوا تھا کہ اوپر سے ایک عقاب وہاں آیا۔ عقاب بہت بڑا تھا، بہت طاقتور تھا۔ اس کے پر پھیلے ہوئے تھے، اس کی آنکھیں تیز تھیں۔ کچھوا نے اوپر دیکھا اور بولا: “او عقاب! تو بہت بڑا ہے، لیکن کیا فائدہ؟ تیرے پر تو ہیں، لیکن تو کہاں اڑ سکتا ہے؟ تیری آنکھیں تو ہیں، لیکن تو کیا دیکھ سکتا ہے؟” عقاب نے کچھ نہ کہا۔ وہ خاموش کھڑا رہا۔ کچھوا بولا: “مجھے بتا، کیا تو سچ میں اتنا اونچا اڑ سکتا ہے جتنا لوگ…

Read more

جاپان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک مجسمہ ساز رہتا تھا۔ وہ بہت مشہور تھا۔ لوگ دور دور سے اس کے پاس مجسمے بنوانے آتے تھے۔ وہ دیوتاؤں کے مجسمے بناتا، بادشاہوں کے مجسمے بناتا، جنگجوؤں کے مجسمے بناتا۔ لیکن اس کی سب سے مشہور تخلیق ایک مجسمہ تھا  ہنستا ہوا بدھ۔ وہ مجسمہ اتنا خوبصورت تھا کہ لوگ اسے دیکھ کر خود بخود مسکرا دیتے تھے۔ اس کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ تھی جیسے وہ کہہ رہا ہو: “سب ٹھیک ہے۔ فکر مت کرو۔” ایک دن شہر کا امیر ترین آدمی آیا۔ اس نے مجسمہ ساز سے کہا: “میرے لیے بھی ویسا ہی مجسمہ بنا دو۔ میں دگنا پیسے دوں گا۔” مجسمہ ساز نے کہا: “میں ویسا ہی نہیں بنا سکتا۔ ہر مجسمہ الگ ہوتا ہے۔” امیر آدمی نے کہا: “تو پھر اس سے بھی خوبصورت بنا دو۔ تگنا پیسے دوں گا۔” مجسمہ ساز نے کہا: “میں کوشش…

Read more

یہ کہانی ایک گہرے سبق پر مبنی ہے کہ دوسروں کی نقل کرنا ہمیشہ فائدہ مند نہیں ہوتا، کیونکہ ہر جاندار کی ساخت اور ضرورت مختلف ہے۔دوسروں کی زندگی کی نقل کرنا چھوڑ دو، تمہاری زندگی کا نقشہ مختلف بنایا گیا ہےسوانا (افریقہ کے گھاس کے میدانوں) میں ایک لکڑبگھا رہتا تھا جو صبح سے شام تک جدوجہد کرتا رہتا۔ اس کی پسلیاں نکلی ہوئی تھیں اور آنکھوں میں ایسی تھکن چھائی تھی جسے نیند کبھی دور نہیں کر پاتی تھی۔ وہ جتنی بھی سخت دوڑ لگاتا، جتنا بھی دور نکل جاتا، اس کے پیٹ میں کچھ بھی اتنی دیر نہ ٹکتا کہ اسے سکون مل پائے۔ایک تپتی دوپہر، وہ رک گیا۔گھاس کے اس پار ایک بکری کھڑی تھی: پرسکون، شکم سیر، اور تپش، بھوک یا دنیا کی اس بے ہنگم بھاگ دوڑ سے بے نیاز۔ لکڑبگھے نے ایک طویل لمحے تک اسے دیکھا اور پھر اس کے قریب گیا۔“اے…

Read more

جنگل میں آئے دن جھگڑے اور فسادات ہوتے رہتے تھے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر خون بہہ جاتا، اور ہر طرف خوف، نفرت اور بدنظمی کا راج تھا۔ چند امن پسند، سمجھدار اور سچے دل کے جانور آخرکار شیر کے دربار میں حاضر ہوئے۔ وہ گڑگڑاتے ہوئے بولے: حضور! کچھ کیجیے۔ اس ریاست میں ہمارا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی جان سے جاتا ہے۔ ظلم، ناانصافی اور نفرت بڑھتی جا رہی ہے۔” شیر نے انہیں انصاف کا یقین دلایا، تسلی دی اور دربار برخاست کر دیا۔ اجلاس کے بعد شیر نے اپنی وزیرِاعظم لومڑی کو بلایا اور پوچھا:“یہ سب لڑائی جھگڑوں اور بدنظمی کی اصل وجہ کیا ہے؟” لومڑی نے بڑے اعتماد سے جواب دیا:جنابِ والا! رعایا میں شعور کی شدید کمی ہے۔ وہ نہ اپنے حقوق کو پہچانتی ہے اور نہ اپنے فرائض کو سمجھتی ہے۔ انہیں بات کی گہرائی میں جانے کی عادت بھی نہیں۔”…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ تین سوالوں کے جواب جان لے تو کبھی کامیابی سے محروم نہ ہوگا۔ وہ تین سوال تھے: 1. ہر کام کرنے کا صحیح وقت کیا ہے؟2. سب سے ضروری لوگ کون ہیں؟3. سب سے اہم کام کیا ہے؟ اس نے پورے ملک میں اعلان کرا دیا کہ جو ان تین سوالوں کا جواب دے گا، اسے بہت بڑا انعام ملے گا۔ بہت سے عقلمند آئے۔ ان کے جوابات مختلف تھے۔ کسی نے کہا: “ہر کام کا وقت پہلے سے طے کر لو۔ ایک وقت نامہ بنا لو اور اس پر چلو۔”کسی نے کہا: “صحیح وقت کو پہچاننا ناممکن ہے۔ اس لیے ہر وقت تیار رہو۔”کسی نے کہا: “اپنے آس پاس کے لوگوں کو دیکھو۔ جو ہو رہا ہے، اس کے مطابق فیصلہ کرو۔” دوسرے سوال پر کسی نے کہا: “سب سے ضروری لوگ مشیر ہیں۔”کسی نے کہا: “پادری۔”کسی نے کہا: “ڈاکٹر۔”کسی…

Read more

حافظ ابنِ عساکر رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تاریخ میں حماد بن محمد کی سند سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کچھ عجیب و غریب سوالات کے جوابات دریافت کیے، تو آپ رضی اللہ عنہما نے نہایت حکمت سے یوں رہنمائی فرمائی: سوال: وہ کیا چیز ہے جس میں نہ گوشت ہے نہ خون، مگر وہ بولتی ہے؟جواب: وہ جہنم ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا:هَلِ امْتَلَأْتِ“کیا تو بھر گئی؟”تو وہ کہے گی:هَلْ مِنْ مَزِيدٍ“کیا کچھ اور بھی ہے؟” سوال: وہ کیا چیز ہے جس میں نہ گوشت ہے نہ خون، مگر وہ دوڑتی ہے؟جواب: وہ عصائے موسیٰ ہے، جو سانپ بن کر دوڑنے لگتا تھا۔ سوال: وہ کیا چیز ہے جس میں نہ گوشت ہے نہ خون، مگر وہ سانس لیتی ہے؟جواب: وہ صبح ہے، کیونکہ قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے:وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ“قسم ہے…

Read more

ہر آنسو ہمدردی کا حقدار نہیں ہوتا ، کچھ جال ہوتے ہیںجنگل میں وہ چاندی کا واحد پیالہ بندر کی ملکیت تھا۔وہ ہر شام بلا ناغہ ندی پر جاتا اور اپنے بوڑھے والدین کے لیے پانی لاتا، جن کے ہاتھ اب اتنے کمزور ہو چکے تھے کہ وہ ایک لوٹا تک نہیں اٹھا سکتے تھے۔ وہ پیالہ کوئی دکھاوا یا غرور کی چیز نہیں تھی، بلکہ وہ ایک خاموش روزمرہ کی خدمت تھی جس نے دو ضعیف زندگیوں کو سہارا دے رکھا تھا۔وہ پیالہ دراصل زندگی کی بقا تھا۔ایک دوپہر لنگور (ببون) بھاگتا ہوا آیا۔ اس کے بال گرد آلود تھے، آنکھیں سرخ تھیں اور آواز اس قدر کانپ رہی تھی کہ الفاظ بمشکل ادا ہو رہے تھے۔“میرا اکلوتا بیٹا پیاس سے مر رہا ہے،” وہ چلایا۔ “مجھے اپنا پیالہ ادھار دے دو۔ میں اپنے باپ کی قبر کی قسم کھاتا ہوں، سورج ڈھلنے سے پہلے واپس کر دوں گا۔”بندر…

Read more

چین کے ایک گاؤں میں ایک بوڑھا پانی بھرنے والا تھا۔ وہ ہر روز دریا سے پانی بھرتا اور گاؤں میں تقسیم کرتا تھا۔ اس کے پاس دو بڑے گھڑے تھے، جو ایک لمبی چھڑی کے دونوں سروں پر لٹکائے جاتے تھے۔ ایک گھڑا بالکل ٹھیک تھا۔ اس میں دریا سے لے کر گاؤں تک سارا پانی سلامت رہتا۔ دوسرے گھڑے میں دراڑ پڑی ہوئی تھی۔ جب بوڑھا پانی بھر کر چلتا تو اس میں سے آدھا پانی راستے میں ٹپک جاتا۔ دو سال تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ بوڑھا ہر روز پانی بھرتا، دو گھڑے لٹکاتا، اور گھر واپس آتا تو ایک گھڑا بھرا ہوتا، دوسرا آدھا خالی۔ ٹھیک گھڑا اپنے کام پر فخر کرتا۔ وہ سمجھتا تھا کہ وہ مکمل ہے، کامل ہے۔ پھٹے ہوئے گھڑے کو بہت شرم آتی۔ وہ اپنی کمزوری پر پچھتانا۔ وہ سوچتا: “میں صرف آدھا پانی لا پاتا ہوں۔ میری وجہ سے بوڑھے…

Read more

ایک بادشاہ تھا۔ اس کی ایک بیٹی تھی  شہزادی، بہت خوبصورت، بہت نرم مزاج۔ بادشاہ اس سے بے حد محبت کرتا تھا۔ وہ اس کے لیے کچھ بھی کر سکتا تھا۔ ایک دن شہزادی بیمار ہو گئی۔ بخار تھا، کمزوری تھی، وہ بستر سے اٹھ نہیں پا رہی تھی۔ بادشاہ نے ملک کے سب ڈاکٹر بلوائے۔ ہر ڈاکٹر نے کچھ نہ کچھ دوا دی، کوئی فائدہ نہ ہوا۔ شہزادی کا بخار نہیں اتر رہا تھا۔ بادشاہ پریشان تھا۔ اس نے کہا: “جو میرے بیٹی کا علاج کر دے گا، اسے آدھی سلطنت دوں گا۔” دور دراز سے حکیم آئے، جادوگر آئے، پیر آئے۔ سب نے کچھ نہ کچھ کیا، لیکن شہزادی کی طبیعت بگڑتی جا رہی تھی۔ آخر ایک بوڑھی عورت آئی۔ اس نے کہا: “بادشاہ! تمہاری بیٹی کی بیماری کا علاج صرف ایک چیز ہے  کوئی ایسا شخص جو اس سے سچی محبت کرتا ہو، اس کے لیے اپنی…

Read more

سچائی اور محدود بصیرت: الو کی کہانی کچھ لوگ سچائی کو اس لیے رد نہیں کرتے کہ وہ غلط ہے، بلکہ وہ اسے اس لیے ٹھکراتے ہیں کیونکہ وہ ان کے محدود مشاہدے میں نہیں آتی۔ایک قدیم جنگل میں، الو کو سب سے دانا مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ اس کی عنبر جیسی آنکھیں گہرے اندھیرے کو چیر سکتی تھیں۔ رات کے سائے میں کوئی چوہا اس سے چھپ نہیں سکتا تھا۔ الو کے لیے اندھیرا خوفناک نہیں بلکہ جانا پہچانا اور یقینی تھا؛ یہی وہ دنیا تھی جسے وہ سمجھتا تھا۔لیکن جیسے ہی صبح ہوتی، سب کچھ بدل جاتا۔ 🌿جیسے ہی روشنی کی پہلی کرن پتوں سے چھن کر آتی، الو درخت کے کھوکھلے تنے میں چھپ جاتا اور درد کی وجہ سے آنکھیں بند کر لیتا۔ الو کے لیے دن کی روشنی خوبصورتی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسا اندھیر کرنے والا خلا تھا جو ان تمام چیزوں کو مٹا…

Read more

ہندوستان کے ایک گاؤں میں چار بوڑھے رہتے تھے۔ وہ بچپن کے دوست تھے۔ ساری زندگی انہوں نے ایک ساتھ کام کیا، ایک ساتھ کھایا، ایک ساتھ باتیں کیں۔ اب وہ بوڑھے ہو چکے تھے، بال سفید ہو گئے تھے، ہاتھ کانپنے لگے تھے۔ ایک دن وہ درخت کے نیچے بیٹھے تھے۔ ان کی باتیں چل رہی تھیں۔ پہلا بوڑھا بولا: “ہم نے ساری زندگی کام کیا، لیکن کبھی آرام نہیں کیا۔ اب مرنے سے پہلے کچھ ایسا کریں جو یاد رہے۔” دوسرے نے کہا: “کیا کریں؟ ہم بوڑھے ہیں، ہاتھ نہیں چلتے، ٹانگیں نہیں چلتیں۔” تیسرے نے کہا: “ہماری عقل تو چلتی ہے۔ عقل سے کچھ کریں۔” چوتھے نے کہا: “چلو، اس درخت کو دیکھو۔ یہ بہت پرانا ہے، بہت بڑا ہے۔ لوگ اسے کاٹنا چاہتے ہیں۔ ہم اسے بچائیں۔” انہوں نے سوچا: “لوگوں کو کیسے بتائیں کہ یہ درخت خاص ہے؟” پہلے بوڑھے نے کہا: “میں جاؤں گا…

Read more

60/423
NZ's Corner