بلاعنوان

بلاعنوان

جاپان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک مجسمہ ساز رہتا تھا۔ وہ بہت مشہور تھا۔ لوگ دور دور سے اس کے پاس مجسمے بنوانے آتے تھے۔ وہ دیوتاؤں کے مجسمے بناتا، بادشاہوں کے مجسمے بناتا، جنگجوؤں کے مجسمے بناتا۔

لیکن اس کی سب سے مشہور تخلیق ایک مجسمہ تھا  ہنستا ہوا بدھ۔

وہ مجسمہ اتنا خوبصورت تھا کہ لوگ اسے دیکھ کر خود بخود مسکرا دیتے تھے۔ اس کے چہرے پر ایسی مسکراہٹ تھی جیسے وہ کہہ رہا ہو: “سب ٹھیک ہے۔ فکر مت کرو۔”

ایک دن شہر کا امیر ترین آدمی آیا۔ اس نے مجسمہ ساز سے کہا: “میرے لیے بھی ویسا ہی مجسمہ بنا دو۔ میں دگنا پیسے دوں گا۔”

مجسمہ ساز نے کہا: “میں ویسا ہی نہیں بنا سکتا۔ ہر مجسمہ الگ ہوتا ہے۔”

امیر آدمی نے کہا: “تو پھر اس سے بھی خوبصورت بنا دو۔ تگنا پیسے دوں گا۔”

مجسمہ ساز نے کہا: “میں کوشش کروں گا۔”

مجسمہ ساز نے کام شروع کیا۔ اس نے بہت محنت کی، بہت سوچا، بہت بار بنایا اور توڑا۔ لیکن جو مجسمہ بنتا، وہ پہلے جیسا نہیں ہوتا تھا۔ اس کے چہرے پر وہ مسکراہٹ نہیں آتی تھی۔

مہینوں گزر گئے۔ امیر آدمی بار بار آتا، پوچھتا: “مجسمہ تیار ہے؟”

مجسمہ ساز کہتا: “ابھی نہیں۔”

ایک دن امیر آدمی غصے سے بولا: “تم مجھے ٹال رہے ہو۔ میں دگنا، تگنا پیسے دینے کو تیار ہوں، لیکن تم مجسمہ نہیں بنا سکتے۔ کیا میں اتنا برا ہوں کہ میرے لیے اچھا مجسمہ نہیں بن سکتا؟”

مجسمہ ساز نے کہا: “آپ برے نہیں ہیں۔ لیکن میں آپ کے لیے وہ مجسمہ نہیں بنا سکتا۔”

امیر آدمی نے پوچھا: “کیوں؟”

مجسمہ ساز نے کہا: “کیونکہ وہ مجسمہ میں نے اپنے لیے بنایا تھا۔”

امیر آدمی ہنسا۔ “اپنے لیے؟ تم تو غریب ہو۔ تمہارے پاس کیا ہے؟ تم مجسمہ اپنے لیے بناو گے؟”

مجسمہ ساز نے کہا: “میں غریب ہوں، لیکن میں خوش ہوں۔ جب میں وہ مجسمہ بنا رہا تھا، تو میں سوچ رہا تھا  کبھی کبھی ہنسی سب سے بڑی دولت ہوتی ہے۔”

امیر آدمی واپس چلا گیا۔ لیکن اسے نیند نہیں آئی۔ وہ سوچتا رہا: “یہ مجسمہ ساز خوش کیوں ہے؟ میرے پاس سب کچھ ہے، میں خوش نہیں ہوں۔ اس کے پاس کچھ نہیں، وہ خوش ہے۔”

وہ رات کو اٹھا اور چپکے سے مجسمہ ساز کے گھر گیا۔ اس نے کھڑکی سے جھانکا۔

مجسمہ ساز اپنی چھوٹی سی کوٹھری میں بیٹھا تھا۔ اس کے پاس مٹی تھی، اوزار تھے، اور ایک چراغ تھا۔ وہ مٹی کو گوندھ رہا تھا، اسے شکل دے رہا تھا، اور ہنستے ہوئے کچھ گنگنا رہا تھا۔

امیر آدمی نے دیکھا کہ مجسمہ ساز کے چہرے پر وہی مسکراہٹ تھی جو اس کے بنائے ہوئے بدھ کے مجسمے پر ہوتی تھی۔

وہ سمجھ گیا۔ یہ مسکراہٹ پیسوں سے نہیں آتی۔ یہ مسکراہٹ دل سے آتی ہے۔ اور دل کی مسکراہٹ کو مٹی میں ڈھالنا بہت مشکل ہے۔

اگلے دن امیر آدمی پھر مجسمہ ساز کے پاس آیا۔ اس نے کہا: “مجھے مجسمہ نہیں چاہیے۔ مجھے وہ چیز چاہیے جو تمہارے پاس ہے۔ وہ مسکراہٹ۔ وہ خوشی۔ بتاؤ، کیسے ملتی ہے؟”

مجسمہ ساز نے کہا: “یہ چیز خریدی نہیں جا سکتی۔ یہ چیز بنائی جا سکتی ہے۔”

امیر آدمی نے کہا: “کیسے؟”

مجسمہ ساز نے کہا: “ہر روز صبح اٹھ کر کسی ایک چیز پر شکر کرو۔ جو تمہارے پاس ہے، اس پر۔ پھر دیکھنا۔”

امیر آدمی نے کہا: “لیکن میرے پاس سب کچھ ہے۔ شکر کس چیز کا کروں؟”

مجسمہ ساز نے کہا: “یہی تمہارا مسئلہ ہے۔ تمہارے پاس سب کچھ ہے، اس لیے تمہیں کسی چیز کی قدر نہیں۔ شکر اس وقت کرنا جب تمہارے پاس کچھ نہ ہو  یہ آسان ہے۔ شکر اس وقت کرنا جب تمہارے پاس سب کچھ ہو  یہ مشکل ہے۔”

امیر آدمی نے شکر کرنا شروع کیا۔ پہلے دن اسے عجیب لگا۔ دوسرے دن تھوڑا آسان لگا۔ تیسرے دن اس کے دل میں ہلکی سی گرمی محسوس ہوئی۔

کچھ دنوں بعد وہ پھر مجسمہ ساز کے پاس آیا۔ اس کے چہرے پر پہلی بار سچی مسکراہٹ تھی۔

اس نے کہا: “مجھے سمجھ آ گیا۔ میں نے ساری زندگی سوچا کہ خوشی لینے سے ملتی ہے۔ لیکن خوشی تو دینے سے ملتی ہے۔ میں نے لیا، لیا، لیا  اور خالی رہا۔ اب میں دوں گا۔”

مجسمہ ساز نے کہا: “اب تم خود ایک مجسمہ ہو۔”
اخلاقی سبق:

یہ کہانی ہمیں دو بڑے سبق دیتی ہے:

1. شکر گزاری  جو شکر کرنا سیکھ لیتا ہے، اس کے پاس تھوڑا ہو یا زیادہ، وہ خوش رہتا ہے۔ جو شکر نہیں کرتا، اس کے پاس سب کچھ ہو کر بھی کچھ نہیں ہوتا۔
2. خوشی خریدنا  خوشی کو پیسوں سے نہیں خریدا جا سکتا۔ اسے بنایا جا سکتا ہے  صبر سے، شکر سے، دوسروں کو دیکھ کر، اپنے دل کو سمجھ کر۔

امیر آدمی کے پاس سب کچھ تھا، لیکن وہ خوش نہیں تھا کیونکہ اس نے کبھی شکر نہیں کیا تھا۔ جب اس نے شکر کرنا سیکھا، تو اس کے پاس پہلے سے زیادہ کچھ نہیں آیا، لیکن اسے سکون آ گیا۔

حوالہ:

یہ کہانی جاپانی لوک کہانیوں میں سے ہے اور اسے “The Laughing Buddha” یا “The Happy Sculptor” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جاپان میں ہنستے ہوئے بدھ (Laughing Buddha) کی تصویر بہت مشہور ہے اور اسے خوشی، قناعت اور شکر گزاری کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

یہ کہانی ذاتی ترقی (Self-Development) اور مثبت نفسیات (Positive Psychology) میں بھی استعمال ہوتی ہے، جہاں شکر گزاری کو خوشی کی کلید بتایا جاتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner