بلاعنوان۔۔۔🙂!

بلاعنوان۔۔۔🙂!

کوریا کے ایک گاؤں میں یون اوک نامی ایک نوجان عورت رہتی تھی۔ اس کا شوہر جنگ سے واپس آیا تو وہ پہلے جیسا نہیں رہا تھا، وہ چپ رہتا، کسی سے بات نہ کرتا، اور اس کی آنکھوں میں اداسی تھی۔ یون اوک نے بہت کوشش کی، لیکن اس کا شوہر اس کی طرف دیکھتا بھی نہیں تھا۔

ایک دن وہ ایک بوڑھے بابا کے پاس گئی۔ بابا نے کہا: “جنگل میں ایک شیر رہتا ہے۔ اگر تم اس شیر کی مونچھ لا سکو تو تمہارا شوہر پھر سے پہلے جیسا ہو جائے گا۔”

یون اوک شیر کی مونچھ لینے کے لیے نکلی۔ وہ ہر روز شیر کی غار کے پاس جاتی، اس کے لیے کھانا رکھتی، اور دور بیٹھ کر اسے دیکھتی۔ پہلے دن شیر بھونکا، دوسرے دن غرایا، تیسرے دن اس نے کھانا کھایا — پھر وہ آہستہ آہستہ اس کے قریب آنے لگا۔

چھ مہینوں کی محنت کے بعد یون اوک نے ایک دن شیر کے قریب جا کر اس کی مونچھ کاٹ لی۔ شیر نے اسے کوئی نقصان نہیں پہنچایا۔

وہ مونچھ لے کر بابا کے پاس پہنچی تو بابا نے کہا: “اب تم سمجھ گئی ہو نا؟ شیر کو تم نے چھ مہینے میں قابو کیا — صبر، محبت اور اعتماد سے۔ اپنے شوہر کے ساتھ بھی یہی کرو۔”

یون اوک گھر واپس آئی۔ اس نے اپنے شوہر کے ساتھ صبر کیا، اسے وقت دیا، اس کی دیکھ بھال کی۔ رفتہ رفتہ اس کا شوہر پھر سے پہلے جیسا ہوتا گیا۔

اخلاقی سبق

یہ خوبصورت کوریائی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ صبر، محبت اور اعتماد سے ٹوٹے ہوئے رشتوں کو دوبارہ جوڑا جا سکتا ہے۔ جس طرح شیر کو قابو کرنے میں مہینوں لگے، اسی طرح کسی بھی انسان کا دل جیتنے میں وقت لگتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner