ناانصافی

ناانصافی

ایک سائنسی تجربے کے دوران ماہرین نے دو بندروں کو ایک ہی طرح کا سادہ کام دیا. جب پہلے بندر نے اپنا کام مکمل کیا، تو اسے انعام کے طور پر کھیرا دیا گیا. بندر نے بڑی رغبت سے اسے کھانا شروع کیا؛ وہ تازہ تھا، لذیذ تھا اور بندر اپنی اس محنت کے پھل سے پوری طرح مطمئن اور خوش تھا.
لیکن پھر کہانی میں ایک موڑ آیا.
اس بندر کی نظر برابر والے پنجرے میں بیٹھے دوسرے بندر پر پڑی. اس نے دیکھا کہ دوسرے بندر نے بھی وہی کام کیا تھا، مگر اسے انعام میں کھیرے کے بجائے کیلا ملا. بس یہی وہ لمحہ تھا جہاں پہلے بندر کی دنیا بدل گئی. اچانک اسے اپنا وہ کھیرا، جو چند لمحے پہلے تک بہت لذیذ لگ رہا تھا، بے کار اور حقیر محسوس ہونے لگا. اس نے غصے میں وہ کھیرا سائنسدان کے منہ پر دے مارا اور بھوکا رہنا پسند کیا، کیونکہ اب اسے وہ کھیرا اپنی محنت کا انعام نہیں بلکہ “ناانصافی” لگ رہا تھا۰

نفسیات میں اس کیفیت کو(Inequity Aversion) کہا جاتا ہے۔ یعنی انسان کی بےچینی صرف اس وجہ سے پیدا نہیں ہوتی کہ اس کے پاس کیا نہیں ہے، بلکہ اس وجہ سے بھی ہوتی ہے کہ دوسروں کے پاس اس سے بہتر کیا ہے۰یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی زندگی، اپنی کمائی، اپنے رشتوں اور اپنے معمولات سے اُس وقت تک خوش رہتے ہیں، جب تک ہم دوسروں کی زندگیوں میں جھانکنا شروع نہیں کرتے۰موازنہ آہستہ آہستہ ہماری خوشیوں کے معنی بدل دیتا ہے۰
حقیقت یہ ہے کہ جس لمحے انسان اپنا موزانہ دوسروں سے کرنا شروع کرتا ہے، اُسی لمحے وہ اپنی خوشی کھونے لگتا ہے۰ کیونکہ موازنہ کی کوئی آخری حد نہیں ہوتی۰ ہمیشہ کوئی نہ کوئی آپ سے زیادہ کامیاب، زیادہ خوبصورت، زیادہ امیر یا زیادہ خوش نظر آئے گا۰
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کس نے طے کیا کہ کیلا کھیرے سے بہتر ہے؟ کامیابی کی تعریف کس نے لکھی؟ اور ہماری خوشی کو دوسروں کی منظوری کی ضرورت ہی کیوں محسوس ہوتی ہے؟

دنیا میں کچھ لوگ سب کچھ پا کر بھی سکون کی نیند نہیں سو پاتے، جبکہ کچھ لوگ محدود وسائل کے باوجود دل کا سکون رکھتے ہیں۰ اس کی وجہ یہ ہے کہ خوشی کسی معیار، دولت یا مقابلے کا نام نہیں، بلکہ ایک اندرونی احساس ہے۰ انسان جب اپنی نعمتوں کو دوسروں کی کامیابی کے ترازو میں تولنا شروع کر دیتا ہے تو اس کے ہاتھ میں موجود چیزوں کی قدر ختم ہونے لگتی ہے۰
اسی لیے ضروری ہے کہ کسی دوسرے کے “کیلے” کو دیکھ کر اپنے ہاتھ میں موجود “کھیرے” کا ذائقہ خراب نہ کیا جائے۰ جو کچھ آپ کے پاس ہے، اگر آپ اسے دل سے قبول کر لیں اور اس کی قدر کرنا سیکھ لیں، تو شاید وہی آپ کے لیے کافی ہو۰ اپنی رفتار سے آگے بڑھنا، اپنی ترقی پر توجہ دینا سیکھنا ہی اصل سکون کی بنیاد ہے۰ کیونکہ انسان کا اصل مقابلہ صرف اُس شخص سے ہے جو وہ کل تھا، نہ کہ اُن لوگوں سے جن کی زندگی صرف باہر سے مکمل دکھائی دیتی ہے۰
اکثر سوشل میڈیا اور دوسروں کی چمکتی ہوئی زندگیاں ہمیں یہ بھلا دیتی ہیں کہ ہر مسکراہٹ کے پیچھے سکون ہونا ضروری نہیں۰ بہت سی ظاہری خوشیاں اندر سے خالی ہوتی ہیں۰ اس لیے خود سے ایک امپورٹینٹ سوال ضرور کیجیے: آپ نے اپنی زندگی سے لطف اٹھانا کب چھوڑا؟ وہ کون سا لمحہ تھا جب کسی اور کی زندگی دیکھ کر آپ اپنی خوشیوں کو بھول گئے تھے؟

Leave a Reply

NZ's Corner