بلاعنوان

بلاعنوان

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم الشان شہنشاہ تھا جس نے حکم دیا کہ ایک ایسا محل تعمیر کیا جائے جس کی مثال پوری دنیا میں نہ ملے۔ اس محل میں بے شمار عجائبات تھے، مگر سب سے حیرت انگیز ایک خاص کمرہ تھا۔ اس کمرے کی دیواریں، چھت، دروازے اور یہاں تک کہ فرش بھی مکمل طور پر شفاف آئینوں سے بنایا گیا تھا۔

یہ آئینے اس قدر صاف اور بے داغ تھے کہ اندر آنے والا شخص فوراً دھوکہ کھا جاتا۔ قدم رکھتے ہی یوں لگتا جیسے وہ کسی اور ہی دنیا میں آ گیا ہو۔ اس کمرے کی ایک اور عجیب بات یہ تھی کہ یہاں معمولی سی سرگوشی بھی گونج بن کر واپس پلٹتی تھی، اور ہر آواز دیواروں سے ٹکرا کر کئی گنا بڑھ کر لوٹ آتی تھی۔

ایک رات ایک آوارہ کتا بھٹکتا ہوا محل میں داخل ہوا اور بھاگتا ہوا اسی آئینوں والے کمرے میں آ پہنچا۔

وہ اچانک رک گیا۔

اس نے چاروں طرف دیکھا—اوپر، نیچے، دائیں، بائیں—ہر سمت اسے بے شمار کتے نظر آئے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس کے گرد کتوں کا ایک لشکر کھڑا ہو۔ ہزاروں آنکھیں اسے گھور رہی تھیں، ہزاروں جبڑے اس کی طرف بڑھے ہوئے تھے۔

خوف سے اس کا جسم کانپ اٹھا۔ اس نے دانت نکالے تو ہر طرف سے وہی منظر واپس نظر آیا۔
اس نے زور سے بھونکا تو آواز دیواروں سے ٹکرا کر کئی گنا طاقت کے ساتھ واپس آئی۔
وہ مزید خوفزدہ ہوا اور بار بار بھونکتا رہا، لیکن ہر آواز اسے ہی ڈراتی رہی۔

وہ دیوانہ وار ادھر ادھر دوڑتا رہا، ہوا میں دانت گاڑتا رہا، جیسے کسی نامعلوم دشمن سے لڑ رہا ہو۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ وہاں کوئی دشمن نہیں تھا—صرف اس کا اپنا عکس تھا، اس کا اپنا خوف تھا، اور اس کی اپنی ہی آوازیں تھیں۔

ساری رات وہ اسی جنگ میں الجھا رہا—اپنے ہی سائے سے، اپنے ہی وہم سے، اپنے ہی شور سے۔

صبح جب محل کے پہرے دار آئے تو فرش پر ایک بےجان کتا پڑا تھا۔ اس کے گرد کوئی اصلی دشمن نہیں تھا، نہ کسی کا حملہ تھا، نہ کوئی مقابلہ،صرف بے شمار آئینوں میں بکھرے ہوئے اس کے اپنے ہی عکس تھے۔

اخلاقی سبق:
یہ دنیا بھی ایک آئینہ ہے۔ یہاں جو کچھ ہم اندر رکھتے ہیں، وہی ہمیں باہر نظر آتا ہے۔ اگر دل میں خوف ہو تو ہر طرف خطرہ دکھائی دیتا ہے، اگر نفرت ہو تو ہر چیز دشمن لگتی ہے، اور اگر سکون اور محبت ہو تو یہی دنیا خوبصورت بن جاتی ہے۔

اصل جنگ باہر نہیں، انسان کے اپنے اندر ہوتی ہے۔ اور جو اپنے اندر کو سمجھ لے، وہی اپنی دنیا بدل لیتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner