Tag Archives: ” “self-esteem

اگر مچھلی پانی سے نکل کر تمہیں یہ بتائے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو اس کی بات پر یقین کرو۔یہ مثال صرف سمجھدار لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ یہ جملہ بظاہر ایک عام سی مثال لگتا ہے، لیکن اس کے اندر بہت گہری حکمت چھپی ہوئی ہے۔آئیے اس کے مختلف پہلوؤں کو کھول کر سمجھتے ہیں: 1. مچھلی کی بات پر کیوں یقین؟ مچھلی اپنی پوری زندگی پانی میں گزارتی ہے۔ وہ پانی کے ہر بدلتے موسم، ہر خطرے، ہر حرکت اور ہر جاندار کو دوسروں سے زیادہ جانتی ہے۔اگر وہ پانی چھوڑ کر باہر آ جائے، تو اس کا باہر آنا ہی ایک غیر معمولی واقعہ ہوتا ہے۔اور جب وہ باہر آ کر یہ کہے کہ مگرمچھ بیمار ہے، تو یہ معمولی بات نہیں — یہ اس ماحول کی اندرونی حقیقت ہے جس تک دوسروں کی رسائی نہیں۔ پیغام:جو شخص کسی معاملے کے اندر سے ہو، اس کی معلومات…

Read more

نر بھیڑے نے اپنی مادہ کو ساتھ لیا اور Onon دریا کے کنارے آ کر آباد ہو گیا یہی وہ جگہ تھی جہاں منگول پیدا ہوئے یہ لوگ اس بے آب و گیاں علاقے میں موجود تھوڑے بہت وسائل کیلئے آپس میں لڑتے رہتے سرسبز ہریالی پانی اور مویشی کیلئے لڑائیاں جاری رہتیں لیکن پھر ان میں ایک ذہین لیکن خطرناک آدمی تموجن نمودار ہوا جس نے منگول قبائل کے سرداروں کو اکٹھا کر کے کہا “ہم جنگجو لوگ ہیں اگر ہم اپنی توانائیاں ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کی بجائے متحد ہو جائیں تو دنیا کے خزانے ہمارے قدموں میں آ سکتے ہیں” کسی نے سوال کیا کہ ہم خیموں میں رہنے والے لوگ کیسے بڑی بڑی سلطنتوں کا سامنا کر سکیں گے تموجن نے جواب دیا “ہماری کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب منگول قبائل کا کامن دشمن ہو جس کے خلاف ہم سب متحد ہو کر…

Read more

انسانی تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ہیں جو صرف ایک قوم یا علاقے کی تباہی کا ذکر نہیں کرتے بلکہ پوری انسانیت کے لیے دائمی سبق چھوڑتے ہیں۔ قومِ لوط کا قصہ اسی نوعیت کا واقعہ ہے۔ یہ باب حضرت لوط علیہ السلام کی دعوت، ان کی قوم کی سرکشی، فرشتوں کی آمد، عذابِ الٰہی کی کیفیت اور اس واقعے سے اخذ ہونے والے اسباق پر مبنی ہے۔ اس واقعے کی تفصیل قرآنِ مجید کی مختلف سورتوں—اعراف، ہود، حجر، شعراء اور نمل—میں بکھری ہوئی ہے، جبکہ مفسرین اور محدثین نے اسے اپنے اپنے انداز میں پیش کیا ہے۔ — نسب اور ابتدائی پس منظر حضرت لوط علیہ السلام، خلیل اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ بچپن ہی سے آپ نے سیدنا ابراہیمؑ کی صحبت پائی اور ان کی دعوتِ توحید سے فیض حاصل کیا۔ جب حضرت ابراہیمؑ نے بابل کو چھوڑا تو لوطؑ بھی ان کے ساتھ ہجرت…

Read more

عربوں میں یہ عام عادت تھی کہ وہ گھاس اور پانی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے رہتے۔انہی لوگوں میں ایک شخص تھا جس کی ایک ماں تھی—بہت بوڑھی—اور وہ اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ بوڑھی عورت کبھی کبھی اپنی یادداشت کھو بیٹھتی تھی۔ بیٹا اسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا، اس کی ماں کی خیمہ بھی اس کے قریب ہوتا۔ لیکن اس کا بار بار باہر نکلنا بیٹے کے لیے مشقت کا باعث بنتا اور قبیلے کے سفر میں رکاوٹ بنتا۔ ایک دن قبیلے نے دوسری جگہ کوچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا:“کل جب ہم چلیں تو میری ماں کو یہیں چھوڑ دینا۔ اس کے پاس تھوڑا پانی اور کھانا رکھ دینا، تاکہ کوئی آ کر اسے لے جائے۔ہمارے لیے بہتر ہے کہ وہ ہم سے دور مرجائے۔صبح قبیلہ روانہ ہوا اور بیوی نے سمجھ لیا کہ شوہر کیا…

Read more

جب اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام نے  چمگادڑ سے مشورہ کیا تو اُس وقت اللہ کی چار مخلوقات شکایت اور حاجت لے کر حاضر ہوئیں پہلا: سورج عرض کی: اے نبی اللہ، اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی باقی مخلوق کی طرح ایک ہی جگہ میں سکونت دے دے میں مشرق و مغرب کے درمیان مسلسل حرکت سے تھک چکا ہوں دوسرا: سانپ کہا: اے سلیمان، اللہ سے دعا کیجیے کہ مجھے بھی ہاتھ پاؤں عطا کرے جیسے دیگر جانوروں کو دیے ہیں، میں پیٹ کے بل رینگ رینگ کر تھک چکا ہوں تیسرا: ہوا کہی: اے نبی اللہ، میں مسلسل بے مقصد ادھر اُدھر بھٹکتی رہتی ہوں میرے لیے اللہ سے سکون کی جگہ مانگیں چوتھا: پانی کہا اے سلیمان میں کبھی زمین میں کبھی آسمان کے نیچے ہر جگہ پھر رہا ہوں نہ مجھے ٹھکانہ ہے نہ ٹھہراؤ اللہ سے کہیے کہ مجھے ایسی جگہ عطا…

Read more

جب آدھا ملین رومی فوج مسلمانوں کی فوج کو تباہ کرنے کے قریب تھی اور ہر طرف سے انہیں گھیر لیا گیا تھا،تو اس عظیم اسلامی بہادر نے اپنی تلوار تھام لی اور وہ سب سے مشکل فیصلہ کیا جو کسی بھی انسان کی زندگی میں آ سکتا ہے۔عکرمہ نے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کر لیا اور مسلمانوں کو بادلوں کی گرج کی مانند آواز دے کر پکارا: “اے مسلمانو! کون موت پر بیعت کرتا ہے؟” تو 400 فدائی ان کے پاس آ گئے اور انہوں نے تاریخ میں مشہور ہونے والی “کتيبة الموت الإسلامية” (اسلامی لشکرِ موت) تشکیل دی۔یہ دیکھ کر خالد بن ولید عکرمہ کی طرف بڑھے اور انہیں اپنی جان قربان کرنے سے روکنے کی کوشش کی،مگر عکرمہ نے نور سے چمکتے چہرے کے ساتھ خالد کو دیکھا اور کہا: “اے خالد! مجھ سے دور ہو جاؤ، تمہیں تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پہلے…

Read more

بغداد کی ہلاکت 🔥 ایسا سانحہ جو تاریخ نہیں انسانیت کا زخم ہے 🔥 😥بغداد… وہ شہر جو کبھی دنیا کی آنکھوں کا تارا تھا، علم کا دریا، حکمت کا گہوارہ، تہذیب کا تاج، جہاں راتیں چراغوں سے روشن تھیں اور دن کتابوں سے۔ جہاں نہریں، باغات، محل، بازار، مدرسے، مکتب، حکومتی عمارتیں سب کچھ ایک ایسے دور کی یاد دلاتے تھے جب عباسی خلافت کا نام ساری دنیا پر تھر تھرا دیتا تھا۔ لیکن 1258 میں بغداد نہ وہ طاقت رہی تھی، نہ وہ شاہی رعب باقی تھا، نہ وہ بین الاقوامی وزن۔ اب شہر اپنی پرانی عظمت کے کھنڈر پر کھڑا ایک کمزور، سست، سیاسی سازشوں میں گھرا ہوا مرکز تھا۔ خلیفہ مستعصم… نرمی، کمزوری، بے خبری اور دربار کے سازشی وزیروں کے بیچ گھرا ہوا بادشاہ، جسے پتا ہی نہیں تھا کہ افق پر کون سا طوفان امڈ کر آرہا ہے۔ منگول سلطنت اس وقت دنیا کی…

Read more

حسن بن صباح کی داستان 🔥 نزاریہ فرقہ کا اصل بانی بلاد عجم یعنی ایران کا بہت بڑا داعی بانی شیخ الجبل حسن بن صباح۔ اس نے اپنی تحریک کو ایسی ترقی دی، جس کے باعث دوسری اسلامی قوتوں سے مقابلہ کرنے لگا۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو درست ہوگا کہ اس نے اور اس کے جانشینوں نے ایسی دھاک بیٹھائی کہ اس زمانے کے اسلامی سلاطین ان سے تھراتے تھے۔ نام اور نسبحسن بن صباح کا پورا نام حسن بن علی بن محمد بن جعفر بن حسین بن الصباح الحمیری تھا۔ یہ ایرانی تھا اور اس نے اس زمانے کے رواج کے مطابق اپنے آپ کو ایک عرب الحمیری خاندان سے منسوب کیا تھا۔ لیکن اسے یہ بات پسند نہیں تھی کہ لوگ اس کا نسب بیان کریں۔ وہ اپنے مریدوں سے کہا کرتا تھا مجھے اپنے امام کا مخلص غلام کہلایا جانا زیادہ پسند ہے کہ بہ…

Read more

‏برصغیر پر انگریزوں کے قبضے کے دوران۔۔۔۔۔۔۔ہر انگریز افسر کا ہر، تین برس بعد واپس برطانیہ بلا لیا جاتا، مبادہ یہ مقامی رسم و رواج کے عادی نہ ہو جائیں یا اس کی ریٹائرمنٹ تک، کسی دوسرے ملک بھجوا دیا جاتا۔ یا، جو اپنی ملازمت مکمل کرنے کے بعد واپس برطانیہ آتا، اسے کوئی عوامی عہدہ نہ دیا جاتا، دلیل دی جاتی تھی:” آپ غلام قوم پر حکومت کر کے أۓ ہو، جس سے تمہارے اطوار اور رویے میں تبدیلی آ گی ہے۔ یہاں اگر اس طرح کی کوئی ذمہ داری تمہیں سونپی جاے، تو آپ ہم آزاد قوم کے ساتھ بھی اسی طرح کا برتاو کرو گے”برطانیہ کی ایک انگریز خاتون کا شوہر سول سروس آفیسر تھا،اس خاتون نے زندگی کے کئی سال ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گزارے۔ واپسی پر اس نے اپنی یاداشتوں پر مبنی کتاب لکھی:” میرا شوہر، ضلع کا ڈپٹی کمشنر تھا، تب میرا بیٹا…

Read more

‏ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے گھبرا کر اٹھے اور اپنی زوجہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایااللہ کے سوا کوئی معبود نہیںعربوں کے لیے ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب آ چکا ہےآج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو چکا ہےآپ نے اپنے انگوٹھے اور اس کے برابر والی انگلی کو ملا کر اشارہ کیا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے عرض کیایا رسول اللہ کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گےآپ نے فرمایا ہاں جب بے حیائی اور گناہ عام ہو جائیں گے۔ یاجوج ماجوج کون ہیں اور کب نکلیں گے۔۔؟؟اور ان کے نکلنے کی کہانی کیا ہے،ان کا فساد ‏اور انجام کیسا ہو گااور اس دیوار کی کہانی کیا ہے۔۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایالوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں،کہہ دیجیے میں تمہیں…

Read more

ایک خاموشی بھری موت 😥🔥121 سال پرانا بھوت جہاز — کینٹکی کی ندی میں سویا ہوا ایک زندہ افسانہایک ایسی کہانی جو وقت سے بھرپور ہے… مگر وقت نے اسے خود بھلا دیا۔کینٹکی کی خاموش ندی کے کنارے، جنگل کی نمی اور پرندوں کی دھیمے سُروں میں، ایک بھوری، زنگ آلود لاش سا جہاز پڑا ہے۔ لوگ اسے گھوسٹ شپ کہتے ہیں… لیکن جب اس کی کہانی کھلتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک جہاز نہیں، بلکہ ایک عہد کی پوری تاریخ اپنے سینے میں لیے بیٹھا ہے۔ یہ ہے U.S.S. Sachem—ایک ایسا جہاز جس نے دو جنگیں دیکھی، لاکھوں لوگوں کی ہنسی سنی، روشنی کے جادوگر تھامس ایڈیسن کو اپنے ڈیک پر چلتے دیکھا… اور یہاں تک کہ میڈونا کے میوزک ویڈیو میں بھی جلوہ دکھایا۔ ابتدا — ٹائٹینک سے بھی پہلے کی شان 1902 میں، ٹائٹینک کی روانگی سے پورے دس سال پہلے، یہ جہاز…

Read more

مرحب ایک بہادر جنگجو اور شاعر تھا، قد میں لمبا اور شجاعت میں مشہور تھا۔ اسے “سیدُ اليهود” (یہودیوں کا سردار) کہا جاتا تھا اور وہ بے حد مالدار تھا۔ وہ نطاة میں ایک قصر میں رہتا تھا۔ اس کی تلوار پر یہ عبارت نقش تھی: “یہ مرحب کی تلوار ہے، جو اسے چکھے گا، ہلاک ہو جائے گا۔ حافظ ابن حجر نے زینب بنت الحارث (جو مرحب کی بہن یا بعض روایات کے مطابق اس کے بھائی کی بیٹی تھی) کے ترجمہ میں ذکر کیا ہے کہ وہ اسرائیلی النسب تھی۔ اس بنیاد پر مرحب کا نسب بنی اسرائیل سے ہونے کا امکان ہے۔ جبکہ ابن ہشام کا کہنا ہے کہ مرحب کا تعلق حمیر قبیلے سے تھا۔ مرحب نے غزوہ خیبر میں مسلمانوں کے خلاف زبردست قوت اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور جنگ میں انتہائی جوش و خروش سے لڑا۔ دیار بکری کے مطابق: “مسلمانوں کے کسی…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے ، کسی بادشاہ کو اپنا وزیر تلاش کرنے کی ضرورت آپڑی ۔ پرانا وزیرا چانک مر گیا۔ اس کے تین نائب وزیر بھی تھے انہیں میں سے ایک کو وزیر اعظم بنانا تھا۔ تینوں عقلمند، وفادار، ہوشیار اور خدمت گزار تھے ۔ ان میں سے ہر ایک نے بڑھ چڑھ کر بادشاہ کی خدمت کی تھی۔ اب بادشاہ کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ ان میں سے  کس کو وزیر اعظم چنے اور کس کو چھوڑ دے۔ بادشاہ ہر وقت فکر مند رہتا حتی کہ سوچ سوچ کر وہ بیمار پڑ گیا۔ اس کے دماغ پر بھی اس پریشانی کا اثر ہوا۔ اسے باتیں بھولنے لگیں ۔ بھوک کم ہو گئی ۔ راتوں کی نیند اُڑ گئی ۔ لوگ جب کوئی بات کہتے تو لگتا جیسے یا تو اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا یا سنائی نہیں دے رہا۔ غرض وزیر کے چناؤ…

Read more

ایک بادشاہ کو جنگل میں سفر کرتے ایک سانپ نے ڈس لیا۔ شاہی طبیب اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود زہر کو جب بادشاہ کے جسم میں پھیلینے سے نہ روک پایا تو زارو قطار رونے لگا۔ اتنے میں ایک درویش سا شخص وہاں آیا۔ بادشاہ کو زہر کے درد سے تڑپتے ہوئے دیکھا تو بادشاہ کی ٹانگ پر جہاں سانپ نے کاٹا تھا تھوک دیا اور بھاگ گیا۔بادشاہ کے سارے ساتھی بادشاہ کی فکر میں تھے اس لئے دیوانے کی اس حرکت پر کوئی بھی درویش کے پیچھے اُسے گرفتار کرنے نہ گیا۔شاہی طبیب نے تھوک صاف کرنے کے لئے ایک رومال پکڑا اور بادشاہ کی زہر سے نیلی ہوتی ٹانگ پر سے تھوک صاف کرنے لگا مگر پھر حیران ہوتے ہوئے رُک گیا، اُس نے انگلی سے تھوک کو سانپ کے(یہ آپ عینی کی وال سے پڑھ رہے ہیں) ڈسے پر اچھی طرح مل دیا جس سے فوراً…

Read more

For online apply www.ppsc.gop.pk Follow the Jobs in Pakistan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Va8mccc9RZAWObvvfI1z

اُمیدواران کو مبلغ 1000 روپے فی درخواست جمع کروانا ہوگا.عمر کی حد:21 سے 45 سالفیس: 1000کل تعداد: 12500 For online apply https://sti.pesrp.edu.pk/

*🔷 پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA) میں دوبارہ شاندار موقع!* اب **انفورسمنٹ آفیسر (EO BPS-14)** کی **110 سے زائد آسامیوں** پر آن لائن درخواستیں قبول کی جا رہی ہیں۔ 🚨 **آخری تاریخ:** 16 نومبر 2025 ✅ **تعلیم:** BS یا 16 سالہ ماسٹر ڈگری✅ **ڈومیسائل:** پنجاب کے تمام اضلاع (مرد و خواتین دونوں اہل)✅ **عمر کی حد:** 22 سے 32 سال 🎗 یہ ایک نہایت معزز اور مضبوط ادارہ ہے — ایسا موقع بار بار نہیں آتا! اگر آپ ایک شاندار سرکاری نوکری کا خواب دیکھ رہے ہیں تو ابھی اپلائی کریں For online apply https://jobs.punjab.gov.pk/

مراثی نے نئی گرم چادر لیاور کندھے پہ رکھ کر گاؤں کی چوپال میں جا بیٹھانمبردار نے چادر دیکھی تو اپنے بیٹے کی بارات میں استعمال کے لئے مانگ لی بارات گاؤں سے نکلی تو چادر دلہے کے کندھے پر تھی🤠 بارات کو دیکھ کر ایک شخص نے پوچھابارات کس کی ہے؟ مراثی جھٹ سے بولا👻بارات نمبرداراں دی اے تے!چادر میری اے🤣 چودھری کے لوگوں نے مراثی کی دھلائی کر دی کہ یہ بتانے کی کیا ضرورت تھی؟ بارات تھوڑی اور آگے گئیتو سامنے آتے ایک شخص نے پوچھا👽بارات کس کی ہے؟ مراثی جلدی سے بولا😏بارات نمبرداراں دی اے تے!چادر وی اوہناں دی اپنی اے😂 ایک دفعہ پھر پھینٹی پڑیکہ تو نے تو اس طرح بول کر لوگوں کو چادر کے بارے جان بوجھ کر شک ڈال دیا ہے🤔 اب جو تیسری مرتبہ راستے میں پھر کسی نے پوچھا! کہ اتنی شاندار بارات کس کی ہے؟ تو مراثی نے پوری…

Read more

کیاسکھوں کے روحانی پیشوا ’’بابا گرونانک‘‘ مسلمان ’ولی اللہ‘ تھے؟ 14 نومبر 2016 کو ننکانہ صاحب میں گرو نانک کا 547واں یومِ پیدائش منایا جا رہا ہے۔ یہ تقریبات اس شخصیت کی یاد میں منعقد کی جاتی ہیں جو بلا امتیازِ مذہب و رنگ و نسل ہر کسی کے لیے پیار کا پیغام لے کر آئی تھی اور ہر مذہب کے لوگ اس سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ وہ انسان جس کا فلسفہء خدا کسی بھی ایک مذہب کی مقرر کردہ حدوں میں سمانے سے انکار کرتا تھا۔ انہوں نےپنجاب کے لوگوں کو “ست شری اکال”کا نعرہ دے کر ہندوستان کے ان حصوں تک بھی توحید کا پیغامتک بھی توحید کا پیغام پہنچایا، جہاں ابھی دوسرے صوفیاء اور بھگتوں کی آواز ابھی تک نہیں پہنچی تھی۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال، نے بانگِ درا کی ایک نظم میں انہیں یوں خراجِ تحسین پیش کیا ہے؛یہ حقیقت ہے کہ گرو نانک…

Read more

ڈایناسور  ایک نہایت دلچسپ اور حیرت انگیز مخلوق تھی جو تقریباً 23 کروڑ (230 ملین) سال پہلے زمین پر نمودار ہوئی اور 6 کروڑ 60 لاکھ (66 ملین) سال پہلے ختم ہو گئی۔یہ مخلوقات میسوزوئک دور (Mesozoic Era) میں زمین پر غالب تھیں — جسے “ڈایناسورز کا دور” بھی کہا جاتا ہے۔ ڈایناسورز کے بارے میں تفصیلی معلومات: دورِ حکومت دور: تقریباً 165 ملین سال زمانہ: میسوزوئک دور، جو تین حصوں میں تقسیم ہے: 1. ٹریاسک (Triassic) – 23 کروڑ سے 20 کروڑ سال پہلے 2. جراسک (Jurassic) – 20 کروڑ سے 14 کروڑ 50 لاکھ سال پہلے 3. کریٹیشیس (Cretaceous) – 14 کروڑ 50 لاکھ سے 6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے اقسام ڈایناسورز کی ہزاروں اقسام تھیں، مگر عام طور پر انہیں دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: 1. گوشت خور (Carnivores) یہ دوسرے جانداروں کو کھاتے تھے۔مثالیں: Tyrannosaurus rex (ٹی ریکس) Velociraptor (ویلو سی ریپٹر)…

Read more

20/37
NZ's Corner