Tag Archives: ” “spiritual

نر بھیڑے نے اپنی مادہ کو ساتھ لیا اور Onon دریا کے کنارے آ کر آباد ہو گیا یہی وہ جگہ تھی جہاں منگول پیدا ہوئے یہ لوگ اس بے آب و گیاں علاقے میں موجود تھوڑے بہت وسائل کیلئے آپس میں لڑتے رہتے سرسبز ہریالی پانی اور مویشی کیلئے لڑائیاں جاری رہتیں لیکن پھر ان میں ایک ذہین لیکن خطرناک آدمی تموجن نمودار ہوا جس نے منگول قبائل کے سرداروں کو اکٹھا کر کے کہا “ہم جنگجو لوگ ہیں اگر ہم اپنی توانائیاں ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے کی بجائے متحد ہو جائیں تو دنیا کے خزانے ہمارے قدموں میں آ سکتے ہیں” کسی نے سوال کیا کہ ہم خیموں میں رہنے والے لوگ کیسے بڑی بڑی سلطنتوں کا سامنا کر سکیں گے تموجن نے جواب دیا “ہماری کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ ہم سب منگول قبائل کا کامن دشمن ہو جس کے خلاف ہم سب متحد ہو کر…

Read more

عربوں میں یہ عام عادت تھی کہ وہ گھاس اور پانی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے رہتے۔انہی لوگوں میں ایک شخص تھا جس کی ایک ماں تھی—بہت بوڑھی—اور وہ اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ بوڑھی عورت کبھی کبھی اپنی یادداشت کھو بیٹھتی تھی۔ بیٹا اسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا، اس کی ماں کی خیمہ بھی اس کے قریب ہوتا۔ لیکن اس کا بار بار باہر نکلنا بیٹے کے لیے مشقت کا باعث بنتا اور قبیلے کے سفر میں رکاوٹ بنتا۔ ایک دن قبیلے نے دوسری جگہ کوچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا:“کل جب ہم چلیں تو میری ماں کو یہیں چھوڑ دینا۔ اس کے پاس تھوڑا پانی اور کھانا رکھ دینا، تاکہ کوئی آ کر اسے لے جائے۔ہمارے لیے بہتر ہے کہ وہ ہم سے دور مرجائے۔صبح قبیلہ روانہ ہوا اور بیوی نے سمجھ لیا کہ شوہر کیا…

Read more

جب آدھا ملین رومی فوج مسلمانوں کی فوج کو تباہ کرنے کے قریب تھی اور ہر طرف سے انہیں گھیر لیا گیا تھا،تو اس عظیم اسلامی بہادر نے اپنی تلوار تھام لی اور وہ سب سے مشکل فیصلہ کیا جو کسی بھی انسان کی زندگی میں آ سکتا ہے۔عکرمہ نے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کر لیا اور مسلمانوں کو بادلوں کی گرج کی مانند آواز دے کر پکارا: “اے مسلمانو! کون موت پر بیعت کرتا ہے؟” تو 400 فدائی ان کے پاس آ گئے اور انہوں نے تاریخ میں مشہور ہونے والی “کتيبة الموت الإسلامية” (اسلامی لشکرِ موت) تشکیل دی۔یہ دیکھ کر خالد بن ولید عکرمہ کی طرف بڑھے اور انہیں اپنی جان قربان کرنے سے روکنے کی کوشش کی،مگر عکرمہ نے نور سے چمکتے چہرے کے ساتھ خالد کو دیکھا اور کہا: “اے خالد! مجھ سے دور ہو جاؤ، تمہیں تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پہلے…

Read more

بغداد کی ہلاکت 🔥 ایسا سانحہ جو تاریخ نہیں انسانیت کا زخم ہے 🔥 😥بغداد… وہ شہر جو کبھی دنیا کی آنکھوں کا تارا تھا، علم کا دریا، حکمت کا گہوارہ، تہذیب کا تاج، جہاں راتیں چراغوں سے روشن تھیں اور دن کتابوں سے۔ جہاں نہریں، باغات، محل، بازار، مدرسے، مکتب، حکومتی عمارتیں سب کچھ ایک ایسے دور کی یاد دلاتے تھے جب عباسی خلافت کا نام ساری دنیا پر تھر تھرا دیتا تھا۔ لیکن 1258 میں بغداد نہ وہ طاقت رہی تھی، نہ وہ شاہی رعب باقی تھا، نہ وہ بین الاقوامی وزن۔ اب شہر اپنی پرانی عظمت کے کھنڈر پر کھڑا ایک کمزور، سست، سیاسی سازشوں میں گھرا ہوا مرکز تھا۔ خلیفہ مستعصم… نرمی، کمزوری، بے خبری اور دربار کے سازشی وزیروں کے بیچ گھرا ہوا بادشاہ، جسے پتا ہی نہیں تھا کہ افق پر کون سا طوفان امڈ کر آرہا ہے۔ منگول سلطنت اس وقت دنیا کی…

Read more

حسن بن صباح کی داستان 🔥 نزاریہ فرقہ کا اصل بانی بلاد عجم یعنی ایران کا بہت بڑا داعی بانی شیخ الجبل حسن بن صباح۔ اس نے اپنی تحریک کو ایسی ترقی دی، جس کے باعث دوسری اسلامی قوتوں سے مقابلہ کرنے لگا۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو درست ہوگا کہ اس نے اور اس کے جانشینوں نے ایسی دھاک بیٹھائی کہ اس زمانے کے اسلامی سلاطین ان سے تھراتے تھے۔ نام اور نسبحسن بن صباح کا پورا نام حسن بن علی بن محمد بن جعفر بن حسین بن الصباح الحمیری تھا۔ یہ ایرانی تھا اور اس نے اس زمانے کے رواج کے مطابق اپنے آپ کو ایک عرب الحمیری خاندان سے منسوب کیا تھا۔ لیکن اسے یہ بات پسند نہیں تھی کہ لوگ اس کا نسب بیان کریں۔ وہ اپنے مریدوں سے کہا کرتا تھا مجھے اپنے امام کا مخلص غلام کہلایا جانا زیادہ پسند ہے کہ بہ…

Read more

‏ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے گھبرا کر اٹھے اور اپنی زوجہ حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور فرمایااللہ کے سوا کوئی معبود نہیںعربوں کے لیے ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب آ چکا ہےآج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا سوراخ ہو چکا ہےآپ نے اپنے انگوٹھے اور اس کے برابر والی انگلی کو ملا کر اشارہ کیا۔ حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے عرض کیایا رسول اللہ کیا ہم ہلاک ہوجائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ بھی ہوں گےآپ نے فرمایا ہاں جب بے حیائی اور گناہ عام ہو جائیں گے۔ یاجوج ماجوج کون ہیں اور کب نکلیں گے۔۔؟؟اور ان کے نکلنے کی کہانی کیا ہے،ان کا فساد ‏اور انجام کیسا ہو گااور اس دیوار کی کہانی کیا ہے۔۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایالوگ آپ سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں،کہہ دیجیے میں تمہیں…

Read more

ایک خاموشی بھری موت 😥🔥121 سال پرانا بھوت جہاز — کینٹکی کی ندی میں سویا ہوا ایک زندہ افسانہایک ایسی کہانی جو وقت سے بھرپور ہے… مگر وقت نے اسے خود بھلا دیا۔کینٹکی کی خاموش ندی کے کنارے، جنگل کی نمی اور پرندوں کی دھیمے سُروں میں، ایک بھوری، زنگ آلود لاش سا جہاز پڑا ہے۔ لوگ اسے گھوسٹ شپ کہتے ہیں… لیکن جب اس کی کہانی کھلتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف ایک جہاز نہیں، بلکہ ایک عہد کی پوری تاریخ اپنے سینے میں لیے بیٹھا ہے۔ یہ ہے U.S.S. Sachem—ایک ایسا جہاز جس نے دو جنگیں دیکھی، لاکھوں لوگوں کی ہنسی سنی، روشنی کے جادوگر تھامس ایڈیسن کو اپنے ڈیک پر چلتے دیکھا… اور یہاں تک کہ میڈونا کے میوزک ویڈیو میں بھی جلوہ دکھایا۔ ابتدا — ٹائٹینک سے بھی پہلے کی شان 1902 میں، ٹائٹینک کی روانگی سے پورے دس سال پہلے، یہ جہاز…

Read more

مرحب ایک بہادر جنگجو اور شاعر تھا، قد میں لمبا اور شجاعت میں مشہور تھا۔ اسے “سیدُ اليهود” (یہودیوں کا سردار) کہا جاتا تھا اور وہ بے حد مالدار تھا۔ وہ نطاة میں ایک قصر میں رہتا تھا۔ اس کی تلوار پر یہ عبارت نقش تھی: “یہ مرحب کی تلوار ہے، جو اسے چکھے گا، ہلاک ہو جائے گا۔ حافظ ابن حجر نے زینب بنت الحارث (جو مرحب کی بہن یا بعض روایات کے مطابق اس کے بھائی کی بیٹی تھی) کے ترجمہ میں ذکر کیا ہے کہ وہ اسرائیلی النسب تھی۔ اس بنیاد پر مرحب کا نسب بنی اسرائیل سے ہونے کا امکان ہے۔ جبکہ ابن ہشام کا کہنا ہے کہ مرحب کا تعلق حمیر قبیلے سے تھا۔ مرحب نے غزوہ خیبر میں مسلمانوں کے خلاف زبردست قوت اور بہادری کا مظاہرہ کیا اور جنگ میں انتہائی جوش و خروش سے لڑا۔ دیار بکری کے مطابق: “مسلمانوں کے کسی…

Read more

فراخ دلی اور سخاوت کا ایک دلچسپ واقعہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں ایک شخص ملک شام سے سفر کرتا ہوا آیا۔ اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ آپ امیر بھی ہیں( یعنی مالدار بھی ہیں) اور امیر بھی یعنی( مسلمانوں کے سربراہ بھی) ہیں۔عرض کرنے لگا حضور میرے اوپر قرضہ چڑھ گیا ہے میری مدد کریں ۔تو آپ اس کو اپنے گھر لے گئے شخص کہتا ہے کہ باہر سے دروازہ بہت خوبصورت تھا لیکن گھر پر ایک چارپائی بھی نہ تھی کھجور کی چھال کی چٹائیاں بچھی ہوئی تھیں اور وہ بھی پھٹی ہوئی فرماتے ہیں سیدناصدیق اکبر(رضی اللہ تعالی عنہ)نے مجھے چٹائی پر بٹھا لیا اور مجھے کہنے لگے یار ایک عجیب بات نہ بتاؤں میں نے کہا بتائیے تو عرض کرنے لگے تین دن سے میں نے ایک اناج کا دانہ بھی نہیں کھایا کھجور…

Read more

ایک دفعہ کا ذکر ہے ، کسی بادشاہ کو اپنا وزیر تلاش کرنے کی ضرورت آپڑی ۔ پرانا وزیرا چانک مر گیا۔ اس کے تین نائب وزیر بھی تھے انہیں میں سے ایک کو وزیر اعظم بنانا تھا۔ تینوں عقلمند، وفادار، ہوشیار اور خدمت گزار تھے ۔ ان میں سے ہر ایک نے بڑھ چڑھ کر بادشاہ کی خدمت کی تھی۔ اب بادشاہ کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ ان میں سے  کس کو وزیر اعظم چنے اور کس کو چھوڑ دے۔ بادشاہ ہر وقت فکر مند رہتا حتی کہ سوچ سوچ کر وہ بیمار پڑ گیا۔ اس کے دماغ پر بھی اس پریشانی کا اثر ہوا۔ اسے باتیں بھولنے لگیں ۔ بھوک کم ہو گئی ۔ راتوں کی نیند اُڑ گئی ۔ لوگ جب کوئی بات کہتے تو لگتا جیسے یا تو اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا یا سنائی نہیں دے رہا۔ غرض وزیر کے چناؤ…

Read more

*کسی گاؤں میں تین بھائی رہتے تھے۔* ان کے گھر میں ایک درخت تھا جس پر پھل آتے تھے۔ وہ ان پھلوں کو بیچ کر دو وقت کی روٹی کماتے تھے۔ ایک دن ایک بزرگ شخص ان کے ہاں مہمان بن کر آیا۔ کھانا کم تھا اس لیے بڑا بھائی مہمان کے ساتھ کھانے بیٹھ گیا، جبکہ دونوں چھوٹے بھائی یہ کہہ کر شریک نہیں ہوئے کہ انہیں بھوک نہیں۔ مہمان کی عزت افزائی بھی ہو گئی اور کھانے کی کمی کا راز بھی چھپ گیا۔ آدھی رات کو مہمان اٹھا، جب تینوں بھائی سو رہے تھے، اور ایک آری سے وہ درخت کاٹ کر اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔ صبح جب محلے والے جاگے، تو تینوں بھائی اس مہمان کو کوس رہے تھے، جس نے ان کے گھر کا واحد ذریعہ روزگار کاٹ ڈالا تھا۔ چند سال بعد وہی مہمان دوبارہ اس گاؤں میں آیا۔ اس…

Read more

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر زندہ اٹھا لئے جانے کے بعد عیسائیوں کا حال بے حد خراب اور نہایت ابتر ہو گیا لوگ بت پرستی کرنے لگے اور دوسروں کو بھی بت پرستی پر مجبور کرنے لگے۔خصوصاً ان کا ایک بادشاہ ”دقیانوس”تو اس قدر ظالم تھا کہ جو شخص بت پرستی سے انکار کرتا تھا یہ اُس کو قتل کر ڈالتا تھا۔ اصحابِ کہف شہر ”اُفسوس”کے شرفاء تھے جو بادشاہ کے معزز درباری بھی تھے مگر یہ لوگ صاحب ایمان اور بت پرستی سے انتہائی بیزار تھے ”دقیانوس”کے ظلم و جبر سے پریشان ہو کر یہ لوگ اپنا ایمان بچانے کے لئے اُس کے دربار سے بھاگ نکلے اور قریب کے پہاڑ میں ایک غار کے اندر پناہ گزیں ہوئے اور سو گئے تو تین سو برس سے زیادہ عرصے تک اسی حال میں سوتے رہ گئے۔دقیانوس نے جب ان لوگوں کو تلاش کرایا اور اُس کو معلوم…

Read more

رات کی تاریکی میں، جب ہوا تھم جاتی ہے اور فضا میں ایک انجانی سنسنی پھیل جاتی ہے، تب کچھ آوازیں انسانی کانوں تک پہنچتی ہیں—ایسی آوازیں جو بظاہر کیڑوں کی لگتی ہیں، مگر جن کے بارے میں قدیم لوگ کہتے تھے کہ یہ جنّات کی سانسیں ہیں۔انہی سرگوشیوں سے جنم لیتی ہے وہ بدنامِ زمانہ کتاب، جسے دنیا سب سے خطرناک کتاب کہہ کر یاد کرتی ہے…“کتاب العزيف۔” یہ کتاب تعویزات، نامعلوم زبانوں، پراسرار علامتوں اور خوفناک تصاویر سے بھری ہوئی ہے—ایسی تصاویر جن کے بارے میں اس کے مصنف نے دعویٰ کیا کہ یہ “جنّات” اور ان مخلوقات کی اصلی صورتیں ہیں جو انسانوں سے بہت پہلے زمین پر گھومتی پھرتی تھیں۔ صنعا کی دھول بھری گلیوں سے تعلق رکھنے والا ایک عرب شاعر،ایک شخص جسے لوگ “العربی المجنون” کہتے تھے،ایک ایسا انسان جو ایسی دنیا دیکھتا تھا جسے دوسرے صرف خواب سمجھتے تھے۔یہ تھا عبداللہ الحظرد۔ کہا…

Read more

ایک نوجوان نے کراچی کی ایک کمپنی سے سیلزمینی کی جاب چھوڑی اور بہتر مستقبل کی تلاش میں کینیڈا چلا گیا۔۔۔۔وہاں اس نے ایک بڑے ڈیپارٹمینل اسٹور میں سیلزمین کی پوسٹ پر ملازمت کیلئے اپلائی کیا۔۔۔۔اس اسٹور کا شمار دنیا کے چند بڑے اسٹورز میں ہوتا تھا جہاں سے آپ سوئی سے جہاز تک سب کچھ خرید سکتے ہیں۔۔۔ اسٹور کے مالک نے انٹروویو کے دوران پوچھا“آپکے ڈاکومنٹس کے مطابق آپ کا تعلق کسی ایشیائی ملک پاکستان سے ہے۔۔۔پہلے بھی کہیں سیلزمینی کی جاب کی “ “جی میں آٹھ سال کراچی پاکستان کی ایک کمپنی میں جاب کر چکا ہوں” مالک کو یہ لڑکا پسند آیا“دیکھو۔۔۔میں آپ کو جاب دے رہاہوں۔۔۔آپ نے اپنی کارگردگی سے میرے فیصلے کو درست ثابت کرنا ہے۔۔۔کل سے آ جاؤ۔۔۔۔گڈلک” اگلے دن وہ پاکستانی لڑکا اپنی جاب پر پہنچا۔۔۔پہلا دن تھا۔۔۔طویل اور تھکا دینے والا دن۔۔۔بہرحال شام کے چھ بج گئے۔۔۔ مالک نے اسے اپنے…

Read more

ایک بادشاہ کو جنگل میں سفر کرتے ایک سانپ نے ڈس لیا۔ شاہی طبیب اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود زہر کو جب بادشاہ کے جسم میں پھیلینے سے نہ روک پایا تو زارو قطار رونے لگا۔ اتنے میں ایک درویش سا شخص وہاں آیا۔ بادشاہ کو زہر کے درد سے تڑپتے ہوئے دیکھا تو بادشاہ کی ٹانگ پر جہاں سانپ نے کاٹا تھا تھوک دیا اور بھاگ گیا۔بادشاہ کے سارے ساتھی بادشاہ کی فکر میں تھے اس لئے دیوانے کی اس حرکت پر کوئی بھی درویش کے پیچھے اُسے گرفتار کرنے نہ گیا۔شاہی طبیب نے تھوک صاف کرنے کے لئے ایک رومال پکڑا اور بادشاہ کی زہر سے نیلی ہوتی ٹانگ پر سے تھوک صاف کرنے لگا مگر پھر حیران ہوتے ہوئے رُک گیا، اُس نے انگلی سے تھوک کو سانپ کے(یہ آپ عینی کی وال سے پڑھ رہے ہیں) ڈسے پر اچھی طرح مل دیا جس سے فوراً…

Read more

For online apply www.ppsc.gop.pk Follow the Jobs in Pakistan channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Va8mccc9RZAWObvvfI1z

اُمیدواران کو مبلغ 1000 روپے فی درخواست جمع کروانا ہوگا.عمر کی حد:21 سے 45 سالفیس: 1000کل تعداد: 12500 For online apply https://sti.pesrp.edu.pk/

*🔷 پنجاب انفورسمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PERA) میں دوبارہ شاندار موقع!* اب **انفورسمنٹ آفیسر (EO BPS-14)** کی **110 سے زائد آسامیوں** پر آن لائن درخواستیں قبول کی جا رہی ہیں۔ 🚨 **آخری تاریخ:** 16 نومبر 2025 ✅ **تعلیم:** BS یا 16 سالہ ماسٹر ڈگری✅ **ڈومیسائل:** پنجاب کے تمام اضلاع (مرد و خواتین دونوں اہل)✅ **عمر کی حد:** 22 سے 32 سال 🎗 یہ ایک نہایت معزز اور مضبوط ادارہ ہے — ایسا موقع بار بار نہیں آتا! اگر آپ ایک شاندار سرکاری نوکری کا خواب دیکھ رہے ہیں تو ابھی اپلائی کریں For online apply https://jobs.punjab.gov.pk/

ڈایناسور  ایک نہایت دلچسپ اور حیرت انگیز مخلوق تھی جو تقریباً 23 کروڑ (230 ملین) سال پہلے زمین پر نمودار ہوئی اور 6 کروڑ 60 لاکھ (66 ملین) سال پہلے ختم ہو گئی۔یہ مخلوقات میسوزوئک دور (Mesozoic Era) میں زمین پر غالب تھیں — جسے “ڈایناسورز کا دور” بھی کہا جاتا ہے۔ ڈایناسورز کے بارے میں تفصیلی معلومات: دورِ حکومت دور: تقریباً 165 ملین سال زمانہ: میسوزوئک دور، جو تین حصوں میں تقسیم ہے: 1. ٹریاسک (Triassic) – 23 کروڑ سے 20 کروڑ سال پہلے 2. جراسک (Jurassic) – 20 کروڑ سے 14 کروڑ 50 لاکھ سال پہلے 3. کریٹیشیس (Cretaceous) – 14 کروڑ 50 لاکھ سے 6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے اقسام ڈایناسورز کی ہزاروں اقسام تھیں، مگر عام طور پر انہیں دو بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے: 1. گوشت خور (Carnivores) یہ دوسرے جانداروں کو کھاتے تھے۔مثالیں: Tyrannosaurus rex (ٹی ریکس) Velociraptor (ویلو سی ریپٹر)…

Read more

ایک چوہدری صاحب سے اس گاؤں کے میراثی خاندان نے آ کر شکوہ کیا کے انکے لڑکے عمدہ کھانا پکانے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر چوہدری صاحب آپ ہر شادی پر باہر سے باورچی منگواتے ہیں ، چوہدری صاحب انکی باتوں میں آ گئے اور کھانے کا آڈر انکو دے دیا مگر انہوں نے میراثی خاندان سے سوال کیا کے اگر کھانا درست معیار کا نہ بنا تو ؟ میراثیوں کے سب سے سینیر میراثی نے کہاچوہدری صاحب تسی مینوں فٹے منہ آکھنا جے کھانا چنگا نہ پکے تے غرض جب شادی ہوئ تو کھانا انہیں سے پکوایا گیا چاول سالن سبھی کچھ فضول اور بد مزہ پکا دیا گیا چوہدری صاحب کی حالت غیرہو گئمیراثی خاندان کو بلایا گیا اور پوچھا کے میری جو ناک کٹوائی ہے نقصان کروایا ہے اب اسکی کیا سزا ہے ؟ سینیر میراثی بولا چوہدری صاحب معاہدہ پورا کریں فٹے منہ آکھو  تے سانوں😄

20/34
NZ's Corner