Tag Archives: messageoftheday messages messageoftheday post blog post blog

یہ وہ دور تھا جب جرمنی مختلف ریاستوں میں بٹا ہوا تھا بالکل ایسے ہی جیسے شہاب الدین غوری کے ہندوستان پر حملے کے وقت ہندوستان مختلف راجواڑوں میں تقسیم تھا اسی طرح جرمنی میں جاگیرداری ٹائپ نظام تھا مختلف جرمن شہزادے مختلف علاقوں پر حکومت کرتے تھے جو اکثر آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے لیکن پھر ایک سرخ داڑھی والا جرمن اس ارادے کے ساتھ اٹھا کہ وہ جرمن کو متحد کرے گا وہ ایک ذہین اور بہادر انسان تھا اس نے ایک ایک کر کے تمام جرمن شہزادوں کو شکست دی اور جرمنی کو ایک جھنڈے تلے متحد کر دیا جرمن لڑنے کے معاملے میں مضبوط تو پہلے ہی تھے لیکن اب متحد ہونے کے بعد وہ یورپ کی ایک بڑی طاقت بن گئے اس کے بعد اس نے پولینڈ پر چڑھائی کر دی اورپولینڈ پر قبضہ کر لیا  اب اس سرخ داڑھی والے نے اپنی سلطنت کو…

Read more

ایک شخص نے بازار میں دیکھا کہ ایک شخص اپنا غلام بیچ رہا ہے اور یہ آواز بھی لگا رہا ہے کہ یہ بہت اچھا غلام ہے، اس کے اندر اس کے علاوہ کوئی عیب نہیں ہے کہ یہ کبھی کبھی چغلی کھاتا ہے، کسی شخص نے یہ آواز سنی تو اس نے سوچا کہ اس میں تو کوئی عیب نہیں ہے اور چغلی کھانا تو عام بات ہے، اس میں کیا خرابی ہے، لہذا اس غلام کو خرید لینا چاہئے ، چنانچہ اس نے سودا کر کے وہ غلام خرید لیا اور اپنے گھر لے آیا، کچھ عرصے تک تو وہ غلام ٹھیک ٹھیک کام کرتا رہا، اس کے بعد اس نے اپنا رنگ دکھانا شروع کیا، چونکہ چغل خوری کے اندر وہ ماہر تھا ، اس لئے اس نے چغل خوری کے اندر اپنا کرتب دکھلایا اور سب سے پہلے وہ اپنی مالکہ کے پاس گیا اور اس…

Read more

مغل شہزادوں کی نیند، گورے کے دفاتر اور ہمارے بند بازار: زوال کی نفسیاتتاریخ کے اوراق پلٹیں تو ایک عبرت ناک منظر ابھرتا ہے جو آج بھی ہمارے حال کا آئینہ ہے۔ مغل دور کے آخری ایام میں، جب زوال کی پرچھائیاں دہلی کی فصیلوں کو چھو رہی تھیں، شہزادے رات بھر کی محفلوں کی تھکن اتارنے کے لیے پو پھٹے “خمار” کی وادیوں میں پناہ لیتے تھے۔ عین اسی وقت، سات سمندر پار لندن کی دھند میں ایک برطانوی افسر سورج کی پہلی کرن کے ساتھ اپنے دفتر کا چراغ روشن کر چکا ہوتا تھا۔یہ محض دو انسانوں کا فرق نہیں تھا بلکہ یہ دو متصادم رویوں کا ٹکراؤ تھا۔ ایک طرف وہ ذہن تھا جو کائنات کے فطری توازن یعنی “روشنی” کے ساتھ قدم ملا کر چلنا جانتا تھا، اور دوسری طرف وہ طبقہ جو رات کی تاریکی میں کھو کر دن سے آنکھیں چرا رہا تھا۔ یہی…

Read more

عربوں میں یہ عام عادت تھی کہ وہ گھاس اور پانی کی تلاش میں ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کرتے رہتے۔انہی لوگوں میں ایک شخص تھا جس کی ایک ماں تھی—بہت بوڑھی—اور وہ اس کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ بوڑھی عورت کبھی کبھی اپنی یادداشت کھو بیٹھتی تھی۔ بیٹا اسے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا، اس کی ماں کی خیمہ بھی اس کے قریب ہوتا۔ لیکن اس کا بار بار باہر نکلنا بیٹے کے لیے مشقت کا باعث بنتا اور قبیلے کے سفر میں رکاوٹ بنتا۔ ایک دن قبیلے نے دوسری جگہ کوچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس شخص نے اپنی بیوی سے کہا:“کل جب ہم چلیں تو میری ماں کو یہیں چھوڑ دینا۔ اس کے پاس تھوڑا پانی اور کھانا رکھ دینا، تاکہ کوئی آ کر اسے لے جائے۔ہمارے لیے بہتر ہے کہ وہ ہم سے دور مرجائے۔صبح قبیلہ روانہ ہوا اور بیوی نے سمجھ لیا کہ شوہر کیا…

Read more

4/4
NZ's Corner