یہ وہ دور تھا جب جرمنی مختلف ریاستوں میں بٹا ہوا تھا بالکل ایسے ہی جیسے شہاب الدین غوری کے ہندوستان پر حملے کے وقت ہندوستان مختلف راجواڑوں میں تقسیم تھا
اسی طرح جرمنی میں جاگیرداری ٹائپ نظام تھا مختلف جرمن شہزادے مختلف علاقوں پر حکومت کرتے تھے جو اکثر آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے لیکن پھر ایک سرخ داڑھی والا جرمن اس ارادے کے ساتھ اٹھا کہ وہ جرمن کو متحد کرے گا
وہ ایک ذہین اور بہادر انسان تھا
اس نے ایک ایک کر کے تمام جرمن شہزادوں کو شکست دی اور جرمنی کو ایک جھنڈے تلے متحد کر دیا
جرمن لڑنے کے معاملے میں مضبوط تو پہلے ہی تھے لیکن اب متحد ہونے کے بعد وہ یورپ کی ایک بڑی طاقت بن گئے اس کے بعد اس نے پولینڈ پر چڑھائی کر دی اورپولینڈ پر قبضہ کر لیا
اب اس سرخ داڑھی والے نے اپنی سلطنت کو مذید وسیع کرنے کیلئے اٹلی کے شہزادوں کو اطاعت قبول کرنے کی آفر کی
اٹلی اس وقت مختلف شہری ریاستوں میں تقسیم تھا
اطالوی شہزادوں نے اطاعت قبول کرنے سے انکار کر دیا تو جرمنی نے اٹلی کے بڑے شہر میلان پر چڑھائی کر دی تقریبا 20 ہزار جرمن Knights نے Alps کے پہاڑوں کو عبور کیا اور میلان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور چند لوگوں کو اندھا کر کے روم کی طرف بھیج دیا تاکہ وہ اطالویوں کو بتائیں کہ اگر سرخ داڑھی والے جرمن بادشاہ کی اطاعت قبول نہ کی تو سب اطالوی شہروں کے ساتھ ایسا ہی ہو گا لیکن اطالوی شہروں نے بجائے اطاعت قبول کرنے کے Lombard League کے نام سے آپس میں اتحاد قائم کر لیا لیکن جرمنی نے ان سب کو بری طرح شکست دی
وینس روم اور دیگر شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ویٹی کن پہنچ گئے ویٹی کن میں جرمن بادشاہ نے پوپ پر پریشر ڈال کر اپنے جرمن سلطنت کو تقدس کی چادر پہنا کر رومی نام دیا
اب اس جرمن سلطنت کو Holy Roman Empire کا نام دیا جانے لگا
سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا کہ یورپ میں خبر پھیلی کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس فتح کر لیا ہے چنانچہ تیسری صلیبی جنگ کی تیاریاں زور و شور سے شروع ہو گئیں
اس وقت انگلینڈ فرانس اور جرمنی تینوں کے پاس طاقتور فوجیں تھیں لیکن ان سب میں نمبر ون جرمن فوج تھی
جس کے پاس جنگوں کا تجربہ بھی زیادہ تھا انگلینڈ اور فرانس کی افواج سمندر کے راستے ارض مقدسہ پہنچیں اپنے لیڈر رچرڈ شیر دل اور فلپ آگسٹس کی قیادت میں لیکن جرمن فوج نے خشکی کا راستہ چنا جو مشرقی یورپ سے قسطنطنیہ پھر اناطولیہ سے شام اور پھر فلسطین کی طرف جاتا تھا لیکن شاید خدا کو کچھ اور منظور تھا
اناطولیہ میں دریا عبور کرتے ہوئے یورپ کا یہ بہترین بادشاہ ڈوب کر مر گیا
اپنے کئی سپاہیوں سمیت باقی فوج پر سلجوقیوں نے خطرناک حملے کئے یوں بمشکل بہت کم سپاہی ارض مقدس پہنچ پائے جنہوں نے رچرڈ اور فلپ کی افواج کو جوائن کیا
یورپ کا یہ بہترین اور قابل بادشاہ جو بغیر لڑے ہی مارا گیا اس کا نام فریڈرک باربروسہ تھایہ وہ دور تھا جب جرمنی مختلف ریاستوں میں بٹا ہوا تھا بالکل ایسے ہی جیسے شہاب الدین غوری کے ہندوستان پر حملے کے وقت ہندوستان مختلف راجواڑوں میں تقسیم تھا
اسی طرح جرمنی میں جاگیرداری ٹائپ نظام تھا مختلف جرمن شہزادے مختلف علاقوں پر حکومت کرتے تھے جو اکثر آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے لیکن پھر ایک سرخ داڑھی والا جرمن اس ارادے کے ساتھ اٹھا کہ وہ جرمن کو متحد کرے گا
وہ ایک ذہین اور بہادر انسان تھا
اس نے ایک ایک کر کے تمام جرمن شہزادوں کو شکست دی اور جرمنی کو ایک جھنڈے تلے متحد کر دیا
جرمن لڑنے کے معاملے میں مضبوط تو پہلے ہی تھے لیکن اب متحد ہونے کے بعد وہ یورپ کی ایک بڑی طاقت بن گئے اس کے بعد اس نے پولینڈ پر چڑھائی کر دی اورپولینڈ پر قبضہ کر لیا
اب اس سرخ داڑھی والے نے اپنی سلطنت کو مذید وسیع کرنے کیلئے اٹلی کے شہزادوں کو اطاعت قبول کرنے کی آفر کی
اٹلی اس وقت مختلف شہری ریاستوں میں تقسیم تھا
اطالوی شہزادوں نے اطاعت قبول کرنے سے انکار کر دیا تو جرمنی نے اٹلی کے بڑے شہر میلان پر چڑھائی کر دی تقریبا 20 ہزار جرمن Knights نے Alps کے پہاڑوں کو عبور کیا اور میلان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور چند لوگوں کو اندھا کر کے روم کی طرف بھیج دیا تاکہ وہ اطالویوں کو بتائیں کہ اگر سرخ داڑھی والے جرمن بادشاہ کی اطاعت قبول نہ کی تو سب اطالوی شہروں کے ساتھ ایسا ہی ہو گا لیکن اطالوی شہروں نے بجائے اطاعت قبول کرنے کے Lombard League کے نام سے آپس میں اتحاد قائم کر لیا لیکن جرمنی نے ان سب کو بری طرح شکست دی
وینس روم اور دیگر شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور ویٹی کن پہنچ گئے ویٹی کن میں جرمن بادشاہ نے پوپ پر پریشر ڈال کر اپنے جرمن سلطنت کو تقدس کی چادر پہنا کر رومی نام دیا
اب اس جرمن سلطنت کو Holy Roman Empire کا نام دیا جانے لگا
سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا کہ یورپ میں خبر پھیلی کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس فتح کر لیا ہے چنانچہ تیسری صلیبی جنگ کی تیاریاں زور و شور سے شروع ہو گئیں
اس وقت انگلینڈ فرانس اور جرمنی تینوں کے پاس طاقتور فوجیں تھیں لیکن ان سب میں نمبر ون جرمن فوج تھی
جس کے پاس جنگوں کا تجربہ بھی زیادہ تھا انگلینڈ اور فرانس کی افواج سمندر کے راستے ارض مقدسہ پہنچیں اپنے لیڈر رچرڈ شیر دل اور فلپ آگسٹس کی قیادت میں لیکن جرمن فوج نے خشکی کا راستہ چنا جو مشرقی یورپ سے قسطنطنیہ پھر اناطولیہ سے شام اور پھر فلسطین کی طرف جاتا تھا لیکن شاید خدا کو کچھ اور منظور تھا
اناطولیہ میں دریا عبور کرتے ہوئے یورپ کا یہ بہترین بادشاہ ڈوب کر مر گیا
اپنے کئی سپاہیوں سمیت باقی فوج پر سلجوقیوں نے خطرناک حملے کئے یوں بمشکل بہت کم سپاہی ارض مقدس پہنچ پائے جنہوں نے رچرڈ اور فلپ کی افواج کو جوائن کیا
یورپ کا یہ بہترین اور قابل بادشاہ جو بغیر لڑے ہی مارا گیا اس کا نام فریڈرک باربروسہ تھا
