اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ھے۔۔۔🙂!

اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ھے۔۔۔🙂!


کسی زمانے میں ایک قصاب تھا وہ رات کے وقت وہ جاکر جانور ذبح کیا کرتا تھا اور دن میں اپنی دکان پر گوشت لا کر بیچا کرتا تھا جب وہ جانور ذبح کرتا اس کے کپڑوں میں خون لگ جاتا مگر وہ گھر آ کر خون آلودہ کپڑنے بدل لیا کرتا تھا ایک رات جب وہ واپس آ رہا تھا جانور کو ذبح کر کے تو راستے میں ایک جگہ پہ ایک آدمی شور مچاتا ہوا آیا اور اس نے اس قصاب کو پکڑ لیا جب پکڑ لیا تو قصاب نے دیکھا کہ اس آدمی کے جسم سے خون بہہ رہا ھے اور قصاب حیران ہوا اتنے میں اس آدمی کی جان نکل گئی قصاب نے دیکھا کہ اس آدمی کے جسم میں ایک چھری تھی جو کسی نے اس کو کھونپ دی تھی اب جو قتل کرنے والا تھا وہ باگ گیا اور مقتول نے اندھیرے میں یہ سمجھا کے اس قصاب نے مجھ کو قتل کیا ھے اور اتنے میں وہ آدمی مر گیا اور لوگ ادھر اکٹھے ہو گئے اب لوگوں نے اس قصاب کو بھی دیکھا مقتول کو بھی دیکھا اور قصاب کے کپڑوں میں جو خون لگا تھا وہ بھی دیکھا لوگوں نے قصاب کو پکڑ لیا تم نے اس آدمی کو قتل کیا ھے اور قاضی کے پاس لے گے قصاب پر مقدمہ چلا قاضی نے مقتول کو دیکھا اور لوگوں کی گواہی سنی اور قصاب پر قصاص کا حکم سنا دیا کہ جان کے بدلے جان اور اس آدمی کو پھانسی دی جائے گی اور جب قصاب کو مجمعے میں پھانسی کے لیے لایا گیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے اور جو لانے والا پولیس افسر تھا اس کہا تم کیوں رو رھے ہو کیا تمھیں اپنے جرم پر ندامت ہو رہی ھے تو اس قصاب نے کہا ہاں ندامت تو رہی ھے لیکن میں اس بندے کا قاتل نہیں ہوں جس کہ قتل کی مجھکو سزا دی جارہی ھے میں کسی اور کا قاتل ہوں پولیس والے نے کہا تمھاری کہانی کیا ھے قصاب نے کہا میں بہت عرصہ پہلے کشتی چلاتا تھا یک بہت بڑا دریا تھا دریا کے اس کنارے سے دوسرے کنارے تک لوگو کو پہنچاتا تھا ایک دن ایک عورت اور اس لڑکی میری کشتی میں سوار ہوئی میں نے لڑکی کو دیکھا وہ بہت خوبصورت تھی چاند کا ٹکڑا تھی میرا دل لڑکی پر فریقتہ ہو گیا میں نے لڑکی کو اشارے سے بات کی اور اس لڑکی بھی مجھ سے اشارے میں بات کی یہاں تک ہم میں ایک تعلق بن گیا لڑکی نے کہا میں نکاہ کے بغیر تمھارے پاس نہیں آ سکتی لہذہ تم کو مجھ سے محبت ھے تو میرے ماں باپ سے رشتے کی بات کرو میں نے اس کے باپ سے رشتے کی بات کی تو اس نے کہا میری بیٹی خوبصورت ھے نیک ھے تمھارے پاس نہ علم ھے نہ کوئی نیکی ھے تم میں بہت خامیاں ہیں لہذہ میں اپنی بچی کا رشتہ تم سے نہیں کر سکتا میں بہت مایوس ہوا اور میرے دو سال گزر گئے ایک دن میں کشتی چلا رہا تھا ایک عورت کشتی میں سوار ہوئی اس کے ساتھ اس کا ایک بچہ بھی تھا میں نے غور سے دیکھا تو وہ وہی لڑکی تھی جس سے میں محبت کرتا تھا جس کے پیار میں نے دو سال غم میں گزار دیے میں نے اس باتیں کرنا شروع کردی اس نے کہا دیکھو میں تم سے بات نہیں کر سکتی میری شادی ہو گئی ھے اب میرا خاوند بھی ھے اور یہ میرا بیٹا ھے میں کسی کی امانت ہوں خیانت نہیں کر سکتی تم مجھ سے بات نہ کرو میں اس کو بہت باتوں سے مائل کرنا چاہا مگر وہ بت بن کے بیٹھی رہی کوئی جواب نہ دیا میرے دل میں گناہ کا خیال آیا اور میں اس سے کہا میرے قریب آؤں مجھے اپنی خواہش پوری کرنے دو اس نے کہا تم اللہ سے ڈرو میں کسی کی امانت ہوں میں ایسا نہیں کر سکتی مگر میرے اوپر درندگی سوار تھی میں نے اس کا بیٹا چھین لیا اور اس کو کہا میں تمھارے بیٹے کو پانی میں پھینک دوں گا تم میری خواہش پوری کرو اس نے میری منت کی ایسا نہ کرو میں نے اس کے بچے کو پانی میں سر کی طرف سے ڈبویا وہ پھر بھی نہ مانی مجھے اللہ اور اس کے رسول کا واسطہ دیا پر میں نہ مانا اسی اثنا میں اس کا بچہ میرے ہاتھ سے مر گیا اب وہ اکیلی ہو گئی میں نے اس کو کہا اب بھی میری بات مان جاؤ اس نے کہا تم جو مرضی کر لو میں اللہ کا حکم نہیں توڑ سکتی میرے اوپر درندگی سوار تھی اور میں ناکام ہو گیا پر وہ لڑکی بہت روتی رہی اپنے بچے کے لیے میں نے سوچا باہر جا کر یہ مجھ پر بچے کے قتل کا مقدمہ کرئے گی میں پھانسی لگ جاؤ گا لہذہ اس لڑکی کو بھی مار دوں میں نے اپنا گناہ چھپانے کے لیے لڑکی کو بھی مار کر پانی میں پھینک دیا میں نے بیس سال پہلے اس ماں اور بیٹے کو قتل کیا تھا ڈر کے مارے میں نے کشتی کا کام چھوڑ دیا اور قصاب کا پیشہ اختیار کر لیا مگر اللہ تعالی کی لاٹھی بے آواز ھے آج بیس سال گزر جانے کے بعد ظاہر میں بے قصور ہوں اس آدمی کو قتل میں نے نہیں کیا مگر اس قتل کے بدلے میں اللہ تعالی نے مجھے آج پھانسی کے تختے پر لا کھڑا کیا سچ ھے کے اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ھے..!!
منقول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

NZ's Corner